Loading...

مطالعہ تذکرہ اسلاف کی ضرورت

مطالعہ تذکرہ اسلاف کی ضرورت
عنوان: مطالعہ تذکرہ اسلاف کی ضرورت
تحریر: محمد سمیر احمد عطاری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار نیپال گنج

ہم ایک ایسے دور کا حصہ ہیں کہ بدلتے زمانے کو اپنے اردگرد سے ملاحظہ کر رہے ہیں، لیکن ہماری عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ ہم وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کرنے میں عظیم پہلوؤں سے دور ہوتے جارہے ہیں، ہم کتابوں سے بہت دور بھاگتے نظر آ رہے ہیں، ہمارا اب مطالعہ کرنے میں دلچسپی بہت کم ہو گئی ہے۔ ہمارے اسلاف میں کتابوں سے حد درجے کی عقیدت و محبت تھی، آئیے اسی تناظر میں ہم اسلاف کی کتابوں سے محبت اور شوقِ مطالعہ سنتے ہیں۔

راہ چلتے مطالعہ!

علامہ ذہبی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْہ نے خطیب بغدادی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ راہ چلتے بھی مطالعہ کرتے تھے تا کہ آنے جانے کا وقت ضائع نہ ہو۔

حافظ ابن رجب رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْہ نے ”ذیل طبقات حنابلہ“ میں ابو الوفاء بن عقیل کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے تھے: میں کھانے کے وقت کو مختصر کرنے کی بہت کوشش کرتا ہوں، اکثر روٹی کے بجائے چورہ پانی میں بھگو کر استعمال کرتا ہوں کیونکہ روٹی اور چورہ کے استعمال میں کافی فرق ہے؛ روٹی کھانے میں کافی وقت لگ جاتا ہے جبکہ چورہ کے استعمال سے مطالعہ وغیرہ کے لئے کافی وقت بچ جاتا ہے۔

امام محمد رحمہ اللہ کا شوقِ علم

امام محمد رحمه الله کے مطالعہ کا عالم یہ تھا کہ آپ پوری پوری رات مطالعۂ کتب میں جاگتے گزار دیتے۔ جب لوگوں نے آپ سے اس مشقت اور مجاہدہ کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا:

”میں کیسے سو جاؤں، جبکہ عام مسلمان اس وجہ سے بے فکر ہو کر سوجاتے ہیں کہ جب انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہوگا تو اس کا جواب محمد بن حسن سے مل جائے گا۔“

یعنی آپ کو امتِ مسلمہ کے مسائل کی اس قدر فکر رہتی تھی کہ ساری رات کتابوں میں ان کے مسائل کا حل تلاش کرتے اور ڈھونڈتے گزار دیتے تھے؛ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ لوگ اُن پر اعتماد کر کے سو جاتے ہیں۔

ابن جریر عَلَيْهِ الرحمة کا شوقِ علم

علامہ ابن جریر رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ کے حصولِ علم کے شوق کا یہ عالم تھا کہ عین وفات کے وقت کسی نے کوئی دعا سنائی تو قلم دوات منگوا کر اس سے لکھوانا چاہا۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا: حضور! کیا اس حال میں؟ فرمانے لگے:

”انسان کو چاہیے کہ مرتے دم تک علم حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔“

سُرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر،
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر۔

حاصلِ کلام

الحاصل یہ کہ مطالعہ کتب کی اہمیت اہلِ اسلام کے نزدیک ایک تسلیم شدہ امر ہے جس کا انکار کسی طرح ممکن نہیں۔ کیونکہ خطابِ الہٰی کا پہلا لفظ ہی اقراء (پڑھو) ہے، اسی لفظ سے اللہ جل مجدہ نے اپنے خاتم النبیین و مرسلین ﷺ کی نبوت و رسالت کا آغاز فرمایا ہے اور یہی پہلا حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مصطفیٰ کریم ﷺ کو عطا فرمایا۔

دنیا کے مختلف علوم و فنون و معارف اگر ہمیں کسی جگہ سے دستیاب ہو سکتے ہیں، تو وہ کتاب ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ علم و حکمت کو کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں مطالعہ کا شوق عطا فرمائیں اور صحیح معنوں میں دینِ متین کی خدمت کرنا نصیب کریں۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!