| عنوان: | صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نام و نسب
آپ کا نام سید نعیم الدین بن معین الدین بن امین الدین بن کریم الدین ہے رحمۃ اللہ علیہم۔
تاریخ و مقامِ ولادت
آپ کی ولادت بروز پیر ۲۱ صفر المظفر ۱۳۰۰ھ مطابق جنوری ۱۸۸۳ء مراد آباد (یوپی) میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت
آپ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی کی اور اپنی ذہانت و فطانت کی بنیاد پر صرف آٹھ سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا، اردو اور فارسی کی کتابیں والد گرامی علامہ معین الدین نزہت سے گھر پر پڑھنے کا شرف حاصل کیا، متوسط کتابیں اور فنِ طب حضرت علامہ ابوالفضل احمد سے پڑھیں، منتہی کتابیں فنِ تفسیر، حدیث، فقہ، منطق و فلسفہ، ریاضی، اقلیدس، ہیئت حضرت علامہ سید محمد گل کاظمی سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا، ۱۹ سال کی عمر میں جملہ علومِ معقولات و منقولات سے فراغت حاصل کی، ایک سال افتاء نویسی کی مشق حضرت علامہ سید محمد گل کاظمی کی خدمتِ بابرکت میں کی اور ۱۳۲۰ھ میں بعمر ۲۰ سال ایک عظیم الشان جلسہ دستار بندی میں علماء اور مشائخ نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے سر پر دستارِ فضیلت سجائی۔ اس حسین موقع پر آپ کے والد گرامی نے قطعہ لکھا ہے:
"میرے پسر کو طلبہ پر وہ فضیلت، ستاروں میں رکھتا ہے جو مہر پر فضیلت، نزہت نعیم الدین کو یہ کہ سنا دے، دستارِ فضیلت کی ہے تاریخ 'فضیلت' (۱۳۲۰ھ)"
تدریسی خدمات
آپ نے مدرسہ انجمنِ اہل سنت کے نام سے ۱۳۲۸ھ میں مراد آباد میں ایک مدرسہ قائم کیا اور تشنہ گانِ علومِ اسلامیہ کی علمی پیاس بجھاتے رہے، آپ کی بارگاہ میں اپنے وقت کے علماء اور مشائخ نے زانوئے ادب تہہ کر کے شرفِ تلمذ حاصل کیا اور اپنے وقت کے یگانہ روزگار بنے۔
بیعت و خلافت
آپ حضرت شیخ الکل علامہ سید محمد گل صاحب قادری کے مرید تھے اور اجازت و خلافت پیر و مرشد علامہ سید محمد گل قادری، شیخ المشائخ علامہ شاہ سید علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی، مجددِ اعظم امام احمد رضا محدث بریلوی سے حاصل تھی۔
تصانیف و تالیفات
آپ نے تحریکی، تنظیمی اور مسلکی مصروفیات کے باوجود تصنیفی خدمات بھی انجام دی ہیں، آپ کی تصانیف میں سے چند کے اسما یہ ہیں:
- خزائن العرفان فی تفسیر القرآن
- الطیب البیان فی رد تقویۃ الایمان
- الکلمۃ العلیاء لِعلاء علم المصطفیٰ
- تحقیقات لدفع التلبیسات
- کشف الحجاب عن مسئلۃ ایصال ثواب
- اسوط العذاب علیٰ قامع القباب
- کتاب العقائد
- زاد الحرمین
- آداب الاختیار
- سوانح کربلا
- نعیم ادب (بچوں کا تعلیمی کورس)
- احکامِ رمضان
- سیرتِ صحابہ
وصالِ مبارک
جماعتِ اہل سنت کا یہ عظیم مبلغ اور منفرد المثال داعی ۶۷ برس کی عمر میں ۱۸ ذوالحجہ ۱۳۶۷ھ، ۲۳ اکتوبر ۱۹۴۸ء بروز جمعہ مبارکہ شب میں ۱۲ بج کر ۲۵ منٹ پر ہمیشہ کے لیے ہمیں داغِ مفارقت دے گیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں مزارِ شریف مرجعِ خلائق ہے۔
القاب و خطابات
آپ کے معروف القاب و خطابات درج ذیل ہیں:
- ذی المجد و الکرم (صاحبِ مجد و شرف)
- حامیِ اہلسنت
- مائی الفتن
حضور صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادی، امامِ اہل سنت کے ان خلفا میں سے ہیں جنہوں نے صرف حمایتِ دین کے جذبے سے سرشار ہو کر بغیر کسی سابقہ تعارف کے، امامِ اہل سنت کے دفاع میں لکھا پھر ملاقات بھی ہوئی، آپس میں پہچان بھی ہوئی اور اجازت و خلافت کی دولت بھی عطا ہوئی۔ یوں تو لقب "صدر الافاضل" کے حوالے سے بھی بعض کا قول ہے کہ امام اہل سنت ہی نے عطا فرمایا لیکن مستند حوالہ کی عدم دستیابی کے سبب تحریر کرنے سے صرفِ قلم کیا جا رہا ہے، البتہ آپ کو امام نے جن القاب سے یاد فرمایا ہے، وہ یہ ہیں:
حضور صدر الافاضل کے والدِ محترم استاذ الشعراء حضرت معین الدین نزہت کی وفات ہوئی تو اس وقت امامِ اہلِ سنت بھولی میں تھے، جب یہ خبر امام کو ہوئی تو امام نے تعزیت میں ایک گرامی نامہ ارسال فرمایا جس میں آپ کو ان الفاظ میں یاد فرمایا:
"مولیٰ الجلیل ذی المجد والکرم حامیِ اہلسنت مائی الفتن جعل کاسمہ نعیم الدین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔"
[حیاتِ صدر الافاضل از مولانا غلام معین الدین نعیمی، مطبوعہ ادارہ نعیمیہ رضویہ سوادِ اعظم، لاہور، ص: ۱۷۷]
ایک دوسرے خط میں آپ کا ذکر یوں کیا:
"بملاحظہ مولانا المکرم حامیِ اہلسنت مائی الفتن مولانا حافظ حکیم محمد نعیم الدین جمد اللہ تعالیٰ کاسمہ نعیم الدین۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔"
[کلیات مکاتیبِ رضائیہ، ص: ۴۸۸]
سیدی اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے اپنے خلفا کی فہرست میں آپ کا تذکرہ اس طرح کیا ہے: "جناب مولانا مولوی حکیم محمد نعیم الدین صاحب مہتمم مدرسہ کل سنت مراد آباد، چوکی حسن خان، عالم، فاضل، مناظر، مصنف، واعظ، حامیِ سنت، مجازِ طریقت"۔
