| عنوان: | ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ (قسط دوم: القابات و خطابات) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطا النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
القابات و خطابات
حضور ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ امامِ اہل سنت کے ان چند چنیدہ تلامذہ و خلفاء میں سے تھے جن کو نہ صرف اپنے استاذ اور مرشدِ اجازت پر ناز تھا بلکہ امامِ اہل سنت کو بھی ان پر فخر تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملک العلماء کو رضویت کا مؤسسِ اول ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ امامِ اہل سنت نے اپنے اس قابلِ فخر شاگرد و خلیفہ کو وقتاً فوقتاً خطوط لکھے جس میں آپ کو مختلف القاب و آداب سے یاد کیا اور دیگر مواقع پر بھی آپ پر القاب و آداب کی نوازشیں فرمائیں۔ نمایاں خطابات درج ذیل ہیں:
- (۱) قرۃ عینی
- (۲) ولدی الاعز
- (۳) حامی السنن
- (۴) ولدِ عزیز
- (۵) ذو العلم والتمیز (صاحبِ علم و ادب)
- (۶) فاضلِ بہار
- (۷) ملک العلماء
قرۃ عینی و ولدی الاعز
امامِ اہل سنت نے مکاتیب میں شفقت و محبت اور اصاغر نوازی کا انوکھا انداز اپناتے ہوئے درج ذیل پیارے القاب سے یاد فرمایا:
”ولدی وزینی و قرۃ عینی مولانا مولوی ظفر الدین صاحب قادری جعلہ اللہ کاسمہ ظفر الدین، آمین۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ..“ (ایضاً، ص:۳۳۲)
ولدی الاعز، حامی السنہ ماحی الفتنہ و ذو المجد والکرم
دیگر مکتوبات میں بھی آپ کی علمی و دینی خدمات کے اعتراف میں تکیہ کلام اور دعائیہ کلمات کے ساتھ نوازا گیا:
”ولدی الاعز حامی السنن مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب جعلہ کاسمہ ظفر الدین، آمین۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔“ (ایضاً، ص: ۳۸۳)
ولدِ عزیز ذو العلم والتمیز فاضلِ بہار
امامِ اہل سنت نے فتاویٰ رضویہ (ج:۳، ص: ۲۱۶) میں علمی تحقیق کے تذکرے کے دوران تحریر فرمایا:
”...اس کے بعد ولدِ عزیز ذو العلم والتمیز فاضلِ بہار مولوی محمد ظفر الدین وفقہ اللہ تعالیٰ لحمایۃ الدین، ونکایۃ المفسدین، وجعلہ کاسمہ ظفر الدین، نے اپنے زمانۂ مدرسہ شمس الہدیٰ بانکی پور میں عظیم آباد کے مشہور کتب خانہ خدا بخش خان سے ایک بہت قدیم قلمی نسخے مکتوبہ ۹۰۰ ہجریہ سے... یہ مسئلہ نقل کر کے بھیجا...“
ملک العلماء کا خطاب
اس پروقار خطاب کے پس منظر کے بارے میں حضور ملک العلماء کے ایک خاص شاگرد تحریر کرتے ہیں:
۱۳۳۷ھ میں جب الاستاذ مدرسہ کبیریہ سہسرام میں صدر مدرس تھے، حاضرِ بارگاہ کا شرف انہیں حاصل ہوا۔ اسی زمانے میں اعلیٰ حضرت نے رسالہ مبارکہ ”الاستمداد“ تحریر فرمایا تھا۔ مسودہ ہی تھا کہ مولانا نے اس کی ایک نقل اپنے لیے کر لی، ایک شعر کے متعلق یہ عرض کیا کہ اگر مصرع اس طرح کر دیا جائے تو کیا حرج۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا: مناسب ہے۔ اس کے تھوڑی دیر کے بعد علما کی جماعت نے اپنی سفارشات دربارۂ خطابِ علما پیش کیں جس میں حضرت مولانا کے لیے ”ملک العلماء“ کا خطاب تھا۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا اور ارشاد ہوا کہ مولانا شعر و سخن کی طرف توجہ نہیں کرتے ورنہ میں ان کو ”ملک الشعراء“ کا خطاب دیتا۔ (جہانِ ملک العلماء از ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی، ناشر: انجمن برکات رضا، ممبئی، ص: ۱۲۵)
