| عنوان: | سیف اللہ المسلول معین الحق شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نام و نسب
اسمِ گرامی: حضرت شاہ فضلِ رسول۔ لقب: سیف اللہ المسلول، معین الحق۔ حضرت شاہ آلِ احمد اچھے میاں رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد کے مطابق آپ کا نام فضلِ رسول رکھا گیا۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی بن عین الحق حضرت شاہ عبد المجید بدایونی، بن شاہ عبد الحمید بدایونی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کا سلسلۂ نسب والدِ ماجد کی طرف سے جامع القرآن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک اور والدۂ ماجدہ کی طرف سے رئیس المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچتا ہے۔
تاریخِ ولادت
آپ کی ولادت باسعادت ماہِ صفر المظفر 1213ھ مطابق 1798ء کو بدایوں (انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم
صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم جدِ امجد اور والدِ ماجد سے حاصل کی۔ بارہ برس کی عمر میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاپیادہ لکھنؤ کا سفر کیا اور فرنگی محل لکھنؤ میں بحر العلوم قدس سرہ کے جلیل القدر شاگرد مولانا نور الحق قدس سرہ (متوفی 1338ھ) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے چار سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم و فنون کی تکمیل کر لی۔ حکیم ببر علی موہانی رحمۃ اللہ علیہ سے فنِ طب کی تکمیل کی۔
بیعت و خلافت
آپ والدِ گرامی عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ انہوں نے تمام سلاسل میں اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی۔ درگاہِ غوثیہ کے نقیب الاشراف حضرت سید علی نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔
تصانیف
آپ نے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، درس و تدریس، وعظ و تبلیغ کے مشاغل کے باوجود تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی۔ آپ نے اعتقادیات، درسیات، طب، تصوف اور فقہ میں قابلِ قدر کتابیں تصنیف فرمائی ہیں، مشہور تصانیف یہ ہیں:
-
حاشیہ بر حاشیہ میر زاہد رسالہ
-
شرح فصوص الحکم
-
تلخیص شرح مسلم امام نووی
-
المعتقد المنتقد
-
تثبیت القدمین فی تحقیق رفع الیدین
-
البوارق المحمدیہ
-
احقاق الحق و ابطال الباطل
-
سیف الجبار
-
تبکیت النجدی
-
تصحیح المسائل
-
فصل الخطاب وغیرہ
ردِ وہابیت
حضرت شاہ فضل رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی ساری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزری۔ اس وقت “فتنۂ وہابیہ” نیا نیا ظاہر ہوا تھا، اور مولوی اسماعیل دہلوی کی “تقویۃ الایمان” کے ذریعے ہندوستان میں اس فرقۂ ضالہ کا بیج بویا جا رہا تھا۔ وہابی خذلہم اللہ تعالیٰ سرعام انبیاءِ کرام اور اولیائے عظام کی توہین کرتے تھے۔ اس وقت ہندوستان میں آپ ہی کی ذاتِ گرامی تھی جس نے اس فتنے کا سدِ باب کیا۔ ہر جگہ ان کا تعاقب کیا۔
آپ فرماتے ہیں: “میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حدِ نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشادِ مبارک ہوا کہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر شیاطینِ وہابیہ کا قلع قمع کر دو۔ مراقبے سے سر اٹھایا اور اسی ہفتے میں کتابِ مستطاب “بوارقِ محمدیہ” تالیف فرمائی۔” [ایضاً، ص: 203]
حضرت شاہ فضل رسول قادری رحمۃ اللہ علیہ نے مولوی اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کو قریب سے دیکھا۔ ان کے عقائد اور عزائم کا بنظرِ غائر جائزہ لیا۔ ان کے طور و طریق کو بخوبی جانچا اور پھر ضمیر کی آواز کو بلا کم و کاست تحریر کر دیا۔ فرماتے ہیں: “فاحشہ رنڈیوں کی بھی پیش کش (نذر) لینے میں تامل نہ تھا، یہاں تک کہ جو فرنگیوں کے گھروں میں تھیں۔ چنانچہ بنارس کا ریذیڈنٹ اگنسن بروک نام، اس کے گھر میں ایک فاحشہ تھی، بڑی اختیار والی اور صاحبِ مقدور، مرید ہوئی اور دس ہزار روپے نذر پیش کیے اور اس کے مرید ہونے سے ریذیڈنٹ نے بہت خاطر داری کی کہ سید صاحب نے اس کو اپنی بیٹی فرمایا تھا، راقم (حضرت شاہ فضلِ رسول) بھی وہاں موجود تھا۔” [سیف الجبار، ص: 73]
تاریخِ وصال
2 جمادی الاخریٰ 1289ھ، مطابق 8 اگست 1872ء، بروز جمعرات ظہر کے وقت اسمِ ذات کے ذکرِ خفی میں مصروف تھے کہ اچانک دو دفعہ بلند آواز سے اللہ اللہ کہا اور آپ کی روح قفسِ عنصری سے اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی۔ درگاہِ قادری (بدایوں) میں آرام گاہ ہے۔
القابات و خطابات
-
خاتم المحققین
-
عمدۃ المدققین
-
سیف الاسلام
-
اسد السنہ
-
حتف الظلام
-
سد الفتنہ
-
السیف المسلول
-
معین الحق
-
عماد السنہ
-
فاضلِ ربانی
-
زین الزمان
-
بہجۃ البلدان
-
عینِ سر الحق
-
سر عین الحق
امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علامہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کو خاتم المحققین، عمدۃ المدققین، سیف الاسلام، اسد السنہ، حتف الظلام، سد الفتنہ، السیف المسلول، معین الحق جیسے عظیم و جلیل القابات سے یاد فرمایا جیسا کہ علامہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہورِ زمانہ کتاب “المعتقد المنتقد” کے حاشیہ “المعتمد المستند” میں آپ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
خَاتَمُ الْمُحَقِّقِينَ، عُمْدَةُ الْمُدَقِّقِينَ، سَيْفُ الْإِسْلَامِ، أَسَدُ السُّنَّةِ، حَتْفُ الظَّلَامِ، سَدُّ الْفِتْنَةِ، مَوْلَانَا الْأَجَلُّ الْأَبْجَلُ، السَّيْفُ الْمَسْلُولُ، مُعِينُ الْحَقِّ فَضْلُ الرَّسُولِ، السُّنِّيُّ الْحَنَفِيُّ الْقَادِرِيُّ، الْبَرَكَاتِيُّ الْعُثْمَانِيُّ الْبَدَايُونِيُّ، أَعْلَى اللَّهُ مَقَامَهُ فِي أَعْلَى عِلِّيِّينَ، وَجَزَاهُ جَزَاءَ الْخَيْرِ الْأَوْفَى عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ، كِتَابًا مُفْرَدًا فِي بَابِهِ، كَامِلًا فِي نِصَابِهِ. [المعتقد المنتقد مع شرح المعتمد المستند، مطبوعہ: رضا اکیڈمی، ممبئی، ص: 8]
دنیائے فتاویٰ کی نہایت مشہور کتاب “فتاویٰ رضویہ” میں بھی مذکورہ القاب سے امامِ اہلِ سنت نے یاد فرمایا، فتاویٰ رضویہ میں ہے:
نَقَلَ هَذَيْنِ خَاتَمُ الْمُحَقِّقِينَ مُعِينُ الْحَقِّ الْمُبِينِ السَّيْفُ الْمَسْلُولُ مَوْلَانَا فَضْلُ الرَّسُولِ قُدِّسَ سِرُّهُ فِي الْمُعْتَقَدِ الْمُنْتَقَدِ.
یہ مذکورہ دونوں عبارتیں خاتم المحققین، حقِ مبین کے معاون، ننگی تلوار مولانا فضل رسول قدس سرہ نے اپنی کتاب المعتقد المنتقد میں نقل کی ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 15، ص: 727]
مذکورہ القاب کے علاوہ امامِ اہلِ سنت نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو “عماد السنہ” سے بھی یاد فرمایا، آپ فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں:
عماد السنہ معین الحق حضرت مولانا فضل رسول قدس سرہ المقبول بھی نہ دیکھیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 21، ص: 319]
امامِ اہلِ سنت نے “فاضل ربانی، زین الزمان، بہجۃ البلدان، عین سر الحق اور سر عین الحق” سے بھی یاد فرمایا۔ چنانچہ آپ “قصیدتان رائعتان” میں لکھتے ہیں:
عَلَمًا عَلِيمًا عَالِمًا عَلَّامَةً
فَضْلَ الرَّسُولِ الْفَاضِلَ الرَّبَّانِيَّ
وَارْفَعْ نِدَاكَ يَا مُعِينَ الْحَقِّ يَا
زَيْنَ الزَّمَانِ وَبَهْجَةَ الْبُلْدَانِ
يَا عَيْنَ سِرِّ الْحَقِّ فِي أَسْرَارِهِ
يَا سِرَّ عَيْنِ الْحَقِّ فِي الْإِعْلَانِ
[قصیدتان رائعتان، ص: 127، 158 / امام احمد رضا اور القاب نوازی، ص: 95 تا 98]
