Loading...

امام احمد رضا اور فن نحو (قسط: چہارم)|مولانا طارق انور مصباحی

امام احمد رضا اور فن نحو (قسط: چہارم)
عنوان: امام احمد رضا اور فن نحو (قسط: چہارم)
تحریر: مولانا طارق انور مصباحی
پیش کش: سعدیہ سلطانہ عطاریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

قانونِ نحو سے مسئلۂ طلاق کی تفہیم:

عربی زبان میں کلمہ “إِنْ” تراخی کو بتاتا ہے، لیکن اگر کوئی قرینہ موجود ہو تو تراخی کی بجائے فور کو بتائے گا۔ اسی قانونِ نحوی کی روشنی میں طلاق سے متعلق چند مسائل کی تشریح کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز نے تحریر فرمایا: عورت کو جماع کے لیے بلایا، اس نے انکار کیا۔ شوہر نے کہا: اگر میرے پاس اس کوٹھری میں نہ آئے تو تجھ پر طلاق۔ عورت آئی، مگر اس وقت مرد کی شہوت ساکن ہو چکی تھی تو طلاق ہو گئی۔ اشباہ و درر

إِنْ لِلتَّرَاخِي إِلَّا بِقَرِينَةِ الْفَوْرِ، وَمِنْهُ طَلَبُ جِمَاعِهَا فَأَبَتْ، فَقَالَ: إِنْ لَمْ تَدْخُلِي مَعِيَ الْبَيْتَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، فَدَخَلَتْ بَعْدَ سُكُونِ شَهْوَتِهِ حَنِثَ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 13، ص: 149، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]

ترجمہ: لفظ “إِنْ” تراخی کے لیے ہے، مگر جہاں فور کا قرینہ ہو (وہاں تراخی مراد نہیں ہوگی)، اس کی مثال یہ ہے کہ شوہر نے بیوی کو جماع کے لیے طلب کیا تو بیوی نے انکار کیا، پس خاوند نے کہا: “اگر تو میرے کمرے میں میرے پاس نہ آئی تو تجھے طلاق ہے۔” تو بیوی شوہر کی شہوت ختم ہونے کے بعد داخل ہوئی تو طلاق ہو جائے گی۔

“نورِ نبیک” کی ترکیب میں اضافتِ بیانیہ

حضورِ اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وجودِ اصلی اس وقت ہوا، جب کسی چیز کی تخلیق نہ ہوئی تھی۔ ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام مخلوقِ اول ہیں۔ مصنف عبد الرزاق میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مفصل حدیثِ نوری مرقوم ہے۔ اس حدیثِ نبوی میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے نورِ ذات سے نورِ مصطفوی کو پیدا فرمایا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ خَلَقَ قَبْلَ الْأَشْيَاءِ نُورَ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ. [المواہب اللدنیہ بحوالہ مصنف عبدالرزاق، ج: 1، ص: 71، المکتب الاسلامی بیروت]

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔

امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا کہ “نور نبیک” اور “نورہ” دونوں میں اضافتِ بیانیہ ہے۔ اگر نورِ نبیک میں اضافتِ بیانیہ نہ مانی جائے تو “نورِ نبیک” کی ترکیبِ اضافی پر ایک شدید اعتراض وارد ہوتا ہے کہ نورِ نبوی کس کے ساتھ قائم تھا، کیونکہ صفت میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اگر موصوف کے غیر کے ساتھ قائم ہو تو موصوف کی صفت نہیں ہوگی، بلکہ اسی غیر کی صفت ہوگی، اور اگر قائم بنفسہٖ ہو تو وہ نہ صفت ہوئی، نہ عرض، بلکہ جوہر ہو گئی، کیونکہ عرض قائم بذاتہٖ نہیں ہوتا۔ قائم بالذات ہونے کی صورت میں اجتماعِ ضدین لازم آئے گا، یعنی اس کا جوہر و عرض دونوں ہونا لازم آتا ہے، اور یہ محال ہے، اور قدرتِ الٰہیہ گرچہ غیر متناہی ہے لیکن محالاتِ عقلیہ میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ قدرتِ الٰہیہ سے متعلق ہو سکے۔ یہ خامی جانبِ محال میں ہے، گرچہ رب تعالیٰ کی قدرت غیر متناہی ہے، جیسے رب تعالیٰ کی مغفرت بہت وسیع ہے لیکن فرمانِ الٰہی کے سبب کفر و شرک میں یہ قوت و صلاحیت باقی نہیں رہی کہ وہ مغفرتِ الٰہی سے متعلق ہو سکے۔ امام ممدوح نے رقم فرمایا:

“ہماری تقریر سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ حضور خود نور ہیں تو حدیثِ مذکور میں “نورِ نبیک” کی اضافت بھی “من نورہ” کی طرح بیانیہ ہے۔ سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اظہارِ نعمتِ الٰہیہ کے لیے عرض کی: “وَاجْعَلْنِي نُورًا” (اور یا اللہ! تو مجھے نور بنا دے) اور خود رب العزۃ عزو جل نے قرآنِ عظیم میں ان کو نور فرمایا:

قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ. [سورۃ المائدة: 15]

(بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب) پھر حضور کے نور ہونے میں کیا شبہہ رہا؟”

اقول: اگر “نورِ نبیک” میں اضافتِ بیانیہ نہ لو، بلکہ نور سے وہی معنیٰ مشہور یعنی روشنی کہ عرض و کیفیت ہے، مراد لو تو سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اول مخلوق نہ ہوئے، بلکہ ایک عرض و صفت، پھر وجودِ موصوف سے پہلے صفت کا وجود کیونکر ممکن؟ لاجرم حضور ہی خود وہ نور ہیں کہ سب سے پہلے مخلوق ہوا۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 677، 678، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]

بالجملہ حاصلِ حدیثِ شریف یہ ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذاتِ پاک کو اپنی ذاتِ کریم سے پیدا کیا، یعنی عینِ ذات کی تجلی بلا واسطہ ہمارے حضور ہیں، باقی سب ہمارے حضور کے نور و ظہور ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 680، جامعہ نظامیہ لاہور]

اضافت اور یائے نسبت کے احکام

امام احمد رضا قادری کی خدمت میں کلکتہ سے ایک اشتہار کی نقل بھیجی گئی، اور اس کے مشمولات سے متعلق سوال کیا گیا۔ اشتہار میں مرقوم تھا کہ حضورِ اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نورِ مقدس اللہ تعالیٰ کا نورِ ذاتی یعنی جزائے ذات یا عینِ ذات کا ٹکڑا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ اور مخلوق ہے، اور ذاتی نور کہنے سے نورِ نبوی کو جزائے ذات یا عینِ ذات یا ٹکڑا ذاتِ الٰہی کا کہنا لازم آتا ہے، کیونکہ ذاتی کا اگر اصطلاحی معنیٰ مراد لیا جائے تو جزائے خدا یا عینِ خدا یا ذاتِ خدا کا ٹکڑا ہونا لازم آتا ہے اور یہ کلام کفر ہے اور حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا قدیم ہونا لازم آتا ہے۔ یہی کلام کفر ہے۔ اس وجہ سے نورِ نبوی کو نورِ ذاتی یا ذاتی نور یا اللہ تعالیٰ کی ذات کا ٹکڑا نہ کہنا چاہیے۔

اگر نورِ نبوی کو (1) نورِ خدا (2) یا نورِ مخلوقِ خدا (3) یا نورِ ذاتِ خدا (4) یا نورِ جمالِ خدا کہا جائے تو ایسا کہنا جائز ہے، اس لیے کہ جب ایک چیز کی اضافت دوسری چیز کی طرف ہو تو اس سے ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے جزائے ذات یا عینِ ذات ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ مضاف و مضاف الیہ کے درمیان مغایرت شرط ہے، جیسے بیت اللہ، ناقۃ اللہ، نور اللہ و روح اللہ کہا جاتا ہے۔ ان تمام مباحث سے ثابت ہوا کہ نورِ نبوی، نورِ مخلوقِ خدا یا نورِ ذاتِ خدا یا نورِ جمالِ خدا ہے۔ نورِ ذاتی یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کا ٹکڑا و جزائے عینِ خدا نہیں ہے، اور بعض جاہل لوگ نورِ نبوی کے جزائے ذاتِ خدا ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ (اشتہار کا خلاصہ تمام ہوا)

اشتہار کے مضمون سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نورِ نبوی کو نورِ ذاتی یا ذاتی نور کہنا جائز نہیں، کیونکہ اس سے نورِ نبوی کا جزئے ذاتِ الٰہی یا عینِ ذاتِ الٰہی ہونا لازم آتا ہے۔ رب تعالیٰ کی جانب اضافت کے ساتھ نور کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے، کیونکہ مضاف و مضاف الیہ میں مغایرت شرط ہے، پس جب نورِ خدا کہا جائے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ مضاف یعنی نور، مضاف الیہ یعنی رب تعالیٰ کے مغایر ہے، لہٰذا اضافت کے ساتھ نورِ خدا و نورِ ذاتِ خدا وغیرہ الفاظ کہے جا سکتے ہیں۔ امامِ اہلِ سنت نے اس کے متعدد جوابات تحریر فرمائے۔ جواب کے بعض اہم حصوں کو نقل کیا جاتا ہے، تاکہ سوالِ حاضر کے جواب کے ساتھ اس قسم کے سوالوں کے جواب کا طریقِ کار بھی معلوم ہو سکے۔

  1. امام موصوف نے فرمایا کہ بلاشبہہ نورِ نبوی اللہ تعالیٰ کے نورِ ذاتی سے پیدا ہے، اور کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں کہ نورِ نبوی ذاتِ الٰہی کا جزو یا اس کا عین ہے۔ ایسا عقیدہ یقیناً کفر ہے، مگر نورِ نبوی کو اللہ تعالیٰ کا نورِ ذاتی کہنے سے عینِ ذات یا جزوِ ذات ہونا لازم نہیں آتا، نہ مسلمانوں پر بدگمانی جائز، نہ عرفِ عام یا عرفِ علما و عوام میں اس سے یہ معنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ نورِ ذات اور نورِ ذاتی میں کچھ فرق نہ ہوا۔ نہ کسی کو کسی پر ترجیح ہے کہ ایک جائز ہو جائے اور دوسرا ناجائز رہے، نیز اشتہار میں ذاتی کی یہ اصطلاح کہ عینِ ذات یا جزوِ ماہیت ہو، یہ خاص ایساغوجی کی اصطلاح ہے۔ علما و عوام کے عرفِ عام میں نہ یہ معنیٰ مراد ہوتے ہیں، نہ ہرگز یہ معنیٰ سمجھے جاتے ہیں۔ عام محاورے میں کہا جاتا ہے کہ یہ میں اپنے ذاتی علم سے کہتا ہوں۔ یعنی کسی کی سنی سنائی نہیں۔ یہ مسجد میں نے اپنے ذاتی روپے سے بنائی ہے، یعنی چندہ وغیرہ، مالِ غیر سے نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 682، 683، جامعہ نظامیہ لاہور، ملخصاً]

  2. امام موصوف نے فرمایا کہ ذاتی میں یائے نسبت ہے، اور متغایرین میں جہاں اضافت صحیح ہوگی، وہاں نسبت بھی صحیح ہوگی۔ اگر نسبت ممتنع ہو تو اضافت بھی ممتنع ہوگی۔ مشتہر نے جو مسئلہِ مذکورہ میں نسبت کو غلط اور اضافت کو صحیح قرار دیا، یہ نظریہ غلط ہے، یعنی اضافت کے ساتھ “نورِ ذات” کہنا جس طرح صحیح ہوگا، اسی طرح نسبت کے ساتھ “نورِ ذاتی” کہنا بھی صحیح ہوگا۔ اگر ایک غلط تو دوسری بھی غلط ہوگی۔ امام موصوف نے اضافت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے رقم فرمایا: “ذاتی میں یائے نسبت ہے۔ ذاتی منسوب بہ ذات اور متغائرین میں ہر اضافت کی نسبت، جو چیز دوسرے کی طرف مضاف ہوگی، وہ ضرور اس کی طرف منسوب ہوگی کہ اضافت بھی ایک نسبت ہی ہے تو جب نورِ ذات کہنا صحیح ہے تو نورِ ذاتی کہنا بھی قطعاً صحیح ہوگا، ورنہ نسبت ممتنع ہوگی تو نورِ ذات کہنا بھی باطل ہوگا۔ ہٰذَا خُلْفٌ۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 684، جامعہ نظامیہ لاہور]

  3. مشتہر نے “نورِ ذات” کہنے کو درست قرار دیا ہے۔ امامِ اہلِ سنت نے فرمایا کہ اس اضافت میں بھی اگر اضافتِ بیانیہ مراد لی جائے تو نورِ نبوی کا عینِ ذاتِ الوہیت ہونا لازم آتا ہے اور اس طرح “نورِ ذات” کہنا بھی ممنوع ہونا چاہیے، اور اگر یہاں اضافتِ تشریفیہ مراد لی جائے، جیسے بیت اللہ و روح اللہ وغیرہ میں ہے تو اسی طرح “نورِ ذاتی” کہنے میں بھی کچھ حرج نہیں ہوگا۔ امام موصوف نے رقم فرمایا: “نورِ ذات کہنا جس کا جواز مانع کو بھی تسلیم ہے، اس میں اضافتِ بیانیہ ہو، یعنی وہ نور کہ عینِ ذاتِ الٰہی ہے تو معاذ اللہ نورِ رسالت کا عینِ ذاتِ الوہیت ہونا لازم آتا ہے، پھر یہ کیوں نہ منع ہوا۔ اگر کہیے کہ یہ معنیٰ مراد نہیں، بلکہ اضافتِ لامیہ ہے اور اس کی وجہ تشریف، جیسے بیت اللہ و ناقۃ اللہ و روح اللہ تو اسی معنیٰ پر نورِ ذاتی میں کیا حرج ہے، یعنی وہ نور کہ ذاتِ الٰہی سے نسبتِ خاصہ ممتازہ رکھتا ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 684، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]

  4. امام احمد رضا قادری نے فرمایا کہ اگر نورِ نبوی کو نورِ ذاتی کہنے پر فنِ ایساغوجی کی اصطلاح کے مطابق کفر لازم آتا ہے تو نہ یہ معنیٰ قائلین کی مراد ہوتی ہے، اور اکثر قائلین کو یہ مفہوم معلوم بھی نہیں، اور مشتہر نے جو نورِ ذات یا نور اللہ کہنے کا جواز ثابت کیا ہے، اس میں متعدد طریقے پر کفر لازم آتا ہے۔ اضافتِ بیانیہ تسلیم کی جائے یا اضافتِ لامیہ، ہر صورت میں دو دو کفر لازم آتے ہیں، اس طرح کفر کی چار صورتیں ظاہر ہوتی ہیں، حالانکہ “نور اللہ” کا اطلاق قرآنِ عظیم کی متعدد آیاتِ مقدسہ میں آیا ہے۔ اب اس کا جواز قرآنِ عظیم سے ثابت ہو گیا، اس سے ثابت ہو گیا کہ جو معانی نہ مراد ہوں، نہ ہی عرف میں وہ معانی سمجھے جاتے ہوں، بلکہ جن معانی کا تصور بھی نہ ہوتا ہو، ایسے معانی کی بنیاد پر کسی امر کے عدمِ جواز کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز نے تحریر فرمایا: “نورِ ذاتی” میں اگر ایک معنیٰ معاذ اللہ کفر ہیں کہ ذاتی کو اصطلاحِ فنِ ایساغوجی پر حمل کریں، جو ہرگز قائلوں کی مراد نہیں، بلکہ غالباً ان کو معلوم بھی نہ ہوگی تو “نورِ ذات یا نور اللہ” کہنے میں جن کا جواز خود مانع کو مسلم ہے، عیاذ باللہ متعدد وجہ پر معانیِ کفر ہیں۔ ہم نے فتوائے دیگر میں بیان کیا کہ نور کے دو معنیٰ ہیں: ایک ظاہر بنفسہٖ مظہر لغیرہٖ، بایں معنیٰ اگر اضافتِ بیانیہ لو تو نورِ رسالت عینِ ذاتِ الٰہی ٹھہرے، اور یہ کفر ہے، اور اگر لامیہ لو تو یہ معنیٰ ہوں گے کہ وہ نور کہ آپ بذاتِ خود ظاہر اور ذاتِ الٰہی کا ظاہر کرنے والا ہے، یہ بھی کفر ہے۔ دوسرے معنیٰ یہ کیفیت و عرض جسے چمک، جھلک، اجالا، روشنی کہتے ہیں۔ اس معنیٰ پر اضافتِ بیانیہ لو تو کفرِ عینیت کے علاوہ ایک اور کفرِ عرضیت عارض ہوگا کہ ذاتِ الٰہی معاذ اللہ ایک عرض و کیفیت قرار پائی، اور اگر لامیہ لو تو کسی کی روشنی کہنے سے غالباً یہ مفہوم کہ یہ کیفیت اس کو عارض ہے، جیسے نورِ شمس و نورِ قمر و نورِ چراغ، یوں معاذ اللہ اللہ عز وجل محلِ حوادث ٹھہرے گا۔ یہ بھی صریح ضلالت و گمراہی و منجر بہ کفرِ لزومی ہے۔ ایسے خیالات سے اگر نورِ ذاتی کہنا ایک درجہ ناجائز ہوگا تو نورِ ذات و نور اللہ کہنا چار درجے، حالانکہ ان کا جواز مانع کو مسلم ہونے کے علاوہ نور اللہ تو خود قرآنِ عظیم میں وارد ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 685، جامعہ نظامیہ لاہور]

  5. مشتہر نے اضافت کے ساتھ “نورِ ذات” کہنے کو جائز کہا، کیونکہ مضاف و مضاف الیہ میں تغایر شرط ہے۔ اضافت سے یہ ظاہر ہوگا کہ مضاف، مضاف الیہ کا غیر ہے، اور مشتہر نے نسبت کے ساتھ “نورِ ذاتی” کہنے کو ناجائز، بلکہ کفر قرار دیا۔ امام احمد رضا قادری نے فرمایا کہ جس طرح مضاف و مضاف الیہ میں تغایر شرط ہے، اسی طرح منسوب و منسوب الیہ میں بھی تغایر شرط ہے، پھر ایک جائز اور دوسرا ناجائز کیسے ہو سکتا ہے؟ موصوف نے رقم فرمایا: “مضاف و مضاف الیہ میں اگر مغایرت شرط ہے تو منسوب و منسوب الیہ میں کیا شرط نہیں؟” [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 685، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]

  6. مشتہر نے جو اضافت میں تغایر کی شرط لگائی، اس سے مزید چند سوالات جنم لے رہے ہیں۔ نورِ نبوی سے قبل دو مخلوق کا ہونا لازم آ رہا ہے، حالانکہ نورِ نبوی مخلوقِ اول ہے، پس ثابت ہوا کہ ہر اضافت میں تغایر شرط نہیں۔ امامِ اہلِ سنت قدس سرہ نے رقم فرمایا: “بلکہ اس طور پر جو مانع نے اختیار کیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سب سے پہلے مخلوقِ الٰہی نہ رہیں گے۔ دو چیزیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پہلے مخلوق قرار پائیں گی، اور یہ خلافِ حدیث و خلافِ نصوصِ ائمۂ قدیم و حدیث۔ حدیث میں ارشاد ہوا:

    يَا جَابِرُ! إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ قَبْلَ الْأَشْيَاءِ نُورَ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ.

    (اے جابر! اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے پہلے تمہارے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا) یہاں دو اضافتیں ہیں: نورِ نبی و نورِ خدا۔ اور مشتہر کے نزدیک اضافت میں مغایرت شرط ہے تو نورِ نبی، غیرِ نبی ہوا، اور نورِ خدا، غیرِ خدا، اور غیرِ خدا جو کچھ ہے مخلوق ہے تو نورِ خدا مخلوق ہوا، اور اس نور سے نورِ نبی بنا تو ضرور نورِ خدا، نورِ نبی سے پہلے مخلوق تھا اور نورِ نبی باقی سب اشیاء سے پہلے بنا، اور اشیاء میں خود نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی ہیں تو نورِ نبی، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پہلے بنا، اور اس سے پہلے نورِ خدا بنا تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دو مخلوق پہلے ہوئے۔ یہ محض باطل ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 686، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]

  7. آپ نے فیصلہ کن بحث رقم فرماتے ہوئے تحریر فرمایا کہ لفظِ ذاتی سے یہاں فنِ منطق کی اصطلاح مراد نہیں، اور نہ ہی وہ اصطلاح یہاں سمجھی جاتی ہے، بلکہ عام محاورے میں ذاتی بمقابلِ صفاتی و اسمائی بولا جاتا ہے، اور یہاں وہی سمجھا جاتا ہے، اور وہی مراد ہے۔ ان تمام مباحث سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ جو مفہوم نہ مراد ہو، اور نہ ہی وہاں کے عرف میں وہ سمجھا جائے، وہ مفہومِ غیر متعارف و غیر مراد مفہومِ حکمِ شریعت پر کوئی اثر نہ پیدا کرے گا۔ امام موصوف نے رقم فرمایا: “حل یہ ہے کہ ایساغوجی میں ذاتی مقابلِ عرضی ہے، بایں معنیٰ اللہ عز وجل نورِ ذاتی و نورِ عرضی، دونوں سے پاک و منزہ ہے، مگر وہ یہاں نہ مراد، نہ مفہوم، اور عام محاورے میں ذاتی مقابلِ صفاتی و اسمائی ہے، اور یہاں یہی مقصود، بایں معنیٰ اللہ عز وجل کے لیے نورِ ذاتی و نورِ صفاتی و نورِ اسمائی سب ہیں کہ اس کی ذات و صفات و اسماء کی تجلیاں ہیں۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تجلیِ ذات، اور انبیاء و اولیاء و سائرِ خلائق تجلیِ اسماء و صفات ہیں، جیسا کہ ہم نے فتوائے دیگر میں شیخ محقق سے نقل کیا رحمۃ اللہ تعالیٰ۔ واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ وسلم۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 686، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور / حوالہ: مصنفِ اعظم، ص: 730 تا 734]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!