علیم رضا حضرت عبدالعلیم میرٹھی رحمہ اللہ | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

علیم رضا حضرت عبدالعلیم میرٹھی رحمہ اللہ
عنوان: علیم رضا حضرت عبدالعلیم میرٹھی رحمہ اللہ
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ولادت

آپ کی ولادتِ باسعادت ۱۵/ رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ مطابق ۳/ اپریل ۱۸۹۲ء محلہ مشائخاں میرٹھ یوپی میں ہوئی۔ والدِ ماجد مولانا شاہ محمد عبدالحکیم صدیقی جوش نعت گو شاعر اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب ۳۷/ ۳۸ ویں پشت میں خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

تعليم و تربیت

آپ نے اردو، عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی، چار سال دس ماہ کی عمر میں قرآنِ مجید ناظرہ ختم کیا اور صرف سات سال کی عمر میں قرآنِ پاک مکمل حفظ کر لیا۔ بعد ازاں، مدرسہ عربیہ اسلامیہ، میرٹھ، میں داخل ہوئے۔ تین جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ (اگست ۱۹۰۴ء) کو والدِ ماجد کا سایہ سر سے اٹھا، تو بقیہ تعلیم و تربیت آپ کی والدۂ ماجدہ (والدہ صاحبہ کا انتقال ۱۹۳۱ء میں اپریل کے آخری یا مئی کے شروع میں ہوا) اور برادرِ اکبر حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدیقی رحمہ اللہ نے کی۔ چنانچہ حضرت مبلغ اعظم نے مدرسہ قومیہ عربیہ، میرٹھ، میں داخلہ لیا اور ۱۳۲۶ھ میں امتیازی حیثیت سے درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔ دینیات کے موضوع پر نیشنل عربک انسٹیٹیوٹ سے ڈپلوما کیا۔ تبلیغِ دین کے جذبے کے تحت، آپ نے علومِ جدیدہ کی طرف توجہ ہوکر، بی۔اے کیا اور پھر وکالت کا امتحان پاس کر کے الہٰ آباد یونیورسٹی سے ایل۔ایل۔بی کی سند حاصل کی، میرٹھ کے مشہور حکیم احتشام الدین صاحب سے فنِ حکمت (علمِ طب) سیکھا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمہ اللہ سے بھی آپ کو شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ اعلیٰ حضرت نے مبلغ اعظم رحمہ اللہ کو ۱۹/ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ کو صحاحِ ستہ وغیرہا کتبِ احادیث کے روایت کرنے کی سند و اجازت عطا فرمائی۔

بیعت و خلافت

آپ اپنے برادرِ اکبر حضرت علامہ احمد مختار صدیقی رحمہ اللہ کے مرید تھے اور انہی سے خلافت بھی حاصل تھی۔ برادرِ اکبر کے علاوہ آپ کو اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ اور قطب المشائخ حضرت ابو احمد سید شاہ محمد علی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی عرف “اشرفی میاں” نَوَّرَ اللهُ تَعَالَى مَرْقَدَهُ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی، نیز، مذکورہ بزرگوں کے علاوہ، اپنے والدِ ماجد، اور حضرت مولانا عبد الباری فرنگی محلی، شیخ احمد الشمس مراکشی مدنی اور لیبیا کے صوفی بزرگ حضرت شیخ السنوسی رحمہ اللہ سے بھی آپ نے روحانی فیوض کا اکتساب کیا۔ شیخ الدلائل حضرت مولانا عبد الحق ابن یار محمد صدیقی الہ آبادی مہاجر مکی سے، جن کی دلائل الخیرات شریف کی سند بہت معروف ہے، دلائل الخیرات کی اجازت لی۔

تصنیف و تالیف

آپ نے مختلف موضوعات پر کئی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو آپ کی علمی صلاحیتوں کی غماز ہیں۔ آپ کی گراں قدر تصانیف کا ذکر کرتے ہوئے مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری نقشبندی فرماتے ہیں:

“حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی قدس سرہ نے تالیف و تصنیف پر بھی خاطر خواہ توجہ دی۔ اور کثیر تعداد میں قابلِ فخر تصانیف کا ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے۔ لیکن افسوس ان میں سے بہت سی تصانیف زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہو سکیں اور جو طبع ہوئیں ان کا شایانِ شان اہتمام نہ کیا گیا۔ چند تصانیف کے نام یہ ہیں:”

  1. ذکرِ حبیب (دو حصے)

  2. کتابِ تصوف

  3. بہارِ شباب (نوجوانوں کی اصلاح کے لیے بہترین کتاب)

  4. احکامِ رمضان (یہ تصانیف اردو میں ہیں)

  5. اسلام کی ابتدائی تعلیمات

  6. اسلام کے اصول

  7. اسلام اور اشتراکیت

  8. انسانی مسائل کا حل

  9. اسلام میں عورت کے حقوق

  10. مکالمہ جارج برنارڈ شا

  11. مرزائی حقیقت کا اظہار (یہ تصانیف انگریزی میں ہیں)

  12. دیوبندی مولویوں کا ایمان

  13. سائنس کے فروغ میں مسلمانوں کا حصہ

قیامِ مساجد و تعلیمی ادارے

آپ نے جو مساجد اور علمی ادارے قائم کیے ان کی تفصیل اس طرح ہے:

حفی مسجد کولمبو (سیلون)، مسجد ناگیریا (جاپان)، سلطان مسجد (سنگاپور)، عربک یو نیورسٹی (ملایا)، دی مسلم ڈائجسٹ (ڈربن جنوبی افریقہ)، اسٹار آف اسلام (سیلون)، پاکستان نیوز (پاکستان)، اسلامک ورلڈ (یو ایس اے) وغیرہ۔

تنظیم و سوسائٹی کا قیام

آپ کی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ دین کی دعوت و تبلیغ ہے جس کے لیے مختلف تنظیموں، اداروں اور سوسائٹیوں کی بنیاد بھی ڈالی۔ جن کا ذکر کرتے ہوئے غلام مصطفی رضوی رقم طراز ہیں:

“۱۹۲۸ء میں ماریشس میں تنظیم “حزب اللہ” کی بنیاد ڈالی... ۱۹۲۹ء میں سیلون میں “مسلم مشنری” کی بنیاد ڈالی... ماریشس میں “حلقہ قادریہ اشاعتِ اسلام” قائم فرمایا... ۱۹۳۳ء میں کولمبو کے نزدیک “غفوریہ عربی اسکول” قائم کیا... ۱۹۳۴ء میں ڈربن میں “انٹرنیشنل اسلامک سروس سینٹر” قائم کیا... ۱۹۳۶ء میں ہانگ کانگ میں “یتیم خانے” کی بنیاد ڈالی... ۱۹۳۹ء میں ماریشس میں “مسلم یونٹی بورڈ اور مسلم یوتھ بریگیڈ” قائم فرمایا... ۱۹۴۹ء میں کمیونزم کے خلاف تنظیم “بین المذاہب” کی تشکیل فرمائی... اسی سال قاہرہ میں تنظیم “بین المذاہب الاسلامیہ” کی بنیاد رکھی...”۔

دعوتی و تبلیغی دورے

آپ نے دینِ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے مختلف ممالک بلکہ بعض کے بقول ساری دنیا کا دورہ کیا اور کامیاب دورہ کیا۔ آپ کے تبلیغی دورے کی مختصر تفصیل یہ ہے:

“آپ نے ۱۹۵۱ء میں خصوصی طور پر پوری دنیا کا تبلیغی دورہ فرمایا۔ جن میں قابلِ ذکر ممالک انگلستان، فرانس، اٹلی، برٹش گیانا، مدغاسکر، سعودی عرب، ٹرینی ڈاڈ، امریکہ، کینیڈا، فلپائن، سنگاپور، ملائیشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور سیلون وغیرہ تھے۔ ان کے علاوہ برما، انڈو چائنا، چین، جاپان، ماریشس، جنوبی و مشرقی افریقہ کی نوآبادیات، سری نام، ملایا، عراق، اردن، شام، مصر، فلسطین وغیرہ وغیرہ ممالک کی مختلف ریاستوں، شہروں، دیہات اور قصبات وغیرہ کا دورہ کیا اور اسلام کی تبلیغ فرمائی اور فکرِ رضا کو عام کیا۔ ان دوروں میں آپ نے تمام مذاہب کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور ہر زبان میں اسلام کا لٹریچر شائع کیا۔ آپ کی تبلیغی کوششوں سے دنیا کی مشہور شخصیات میں بورنیو کی شہزادی Gladys Palmer، ماریشس کے فرانسیسی گورنر Merwat، ٹرینی ڈاڈ کی ایک خاتون وزیر Muriel Donawa مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ آپ کی علمی و روحانی شخصیت سے محمد علی جناح، مراکش کے غازی عبدالکریم، فلسطین کے مفتی اعظم سید امین الحسینی، اخوان المسلمین کے سربراہ حسن البناء، سیلون کے آنریبل جسٹس ایم مروانی، کولمبو کے جسٹس ایم ٹی اکبر، سنگاپور کے ایس دت، اور مشہور انگریزی ڈرامہ نویس اور فلسفی جارج برنارڈ شا جیسی مشہور ہستیاں بے حد متاثر تھیں۔

۱۷/ اپریل ۱۹۳۵ء کو ممباسہ جنوبی افریقہ میں جارج برنارڈ شا سے علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمہ اللہ کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے برنارڈ شا کے مختلف سوالات کے جوابات اس انداز سے دیے کہ دنیا کا عظیم فلاسفر آپ کے سامنے طفلِ مکتب نظر آنے لگا۔ آپ نے اسلام اور عیسائیت کے اصولوں کا تقابلی جائزہ تاریخ، سائنس اور فلسفہ کی روشنی میں اس طرح بیان کیا کہ برنارڈ شا پھڑک اٹھا اور کہنے لگا کہ: “عبدالعلیم! تم جو کہہ رہے ہو، وہی اسلام ہے تو مستقبل میں جو مذہب حکومت کرے گا وہ اسلام ہی ہو گا”۔

وصال

چالیس سال تک دنیا بھر میں تبلیغِ اسلام کا فریضہ انجام دے کر ۲۳/ ذی الحجہ ۱۳۷۱ھ مطابق ۲۲/ اگست ۱۹۵۲ء (۲۷/ ۱۳۷۱ھ / ۱۹۵۲ء) کو مدینہ منورہ میں اپنے محبوبِ حقیقی سے جا ملے، اور تعلیماتِ اسلامیہ کی تبلیغ و اشاعت کے انعام کے طور پر جنت البقیع میں جگہ ملی، اس نابغہٴ روزگار ہستی کے وصال سے تاریخِ اسلام کا ایک روشن ورق الٹ گیا۔

خطابات

القابات و خطابات: (۱) علیم رضا (۲) واعظِ خوش بیاں۔

مبلغِ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم میرٹھی رحمہ اللہ اپنے وقت کے ایک عظیم اسلامی اسکالر اور امام احمد رضا کے نام ور خلفاء سے تھے اور یہ کہنا بالکل حق ہے کہ بیرونِ ہند رضا اور افکارِ رضا کی ترسیل و تبلیغ کا کارنامہ آپ کے حصہ میں آیا۔ آپ کو امام احمد رضا سے حد درجہ لگاؤ تھا یہی وجہ ہے کہ زیارتِ روضۂ رسول سے واپسی کے بعد سب سے پہلے آپ نے بارگاہِ امام میں حاضری دی اور امام احمد رضا کو بھی آپ سے گہرا لگاؤ تھا اس لیے امام نے اپنے نام کے ساتھ آپ کے نام کو ضم کیا اور آپ کو “علیم رضا” سے یاد فرمایا۔

علیم رضا

بارگاہِ امام سے آپ کو “علیم رضا” کا خطاب ملا اور یہ خطاب آپ کو اتنا پیارا تھا کہ نیچریوں کے رد میں امام اہل سنت کے رسالے “الدلائل القاہرة علی الکفرة النیاشرة” پر جب مبلغِ اسلام نے تصدیق کی تو بعد تصدیق اپنا نام یوں تحریر فرمایا:

“وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَعِلْمُهُ جَلَّ مَجْدُهُ أَكْمَلُ وَأَتَمُّ۔ فَقِير مُحَمَّد عَلِيم رِضَا الْقَادِرِي غَفَرَ لَهُ”۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۵، ص: ۱۵]

نیز مصنف “حیاتِ علیم رضا” مذکورہ خطاب کے امام کی طرف سے عطا ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“آپ کا شمار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خاص خلفاء میں تھا۔ اعلیٰ حضرت نے آپ کو “علیم رضا” کے لقب سے بھی مشرف فرمایا”۔ [حیات علیم رضا، ص: ۱۲]

واعظ خوش بیان

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی طرف سے تیار کی گئی پچاس خلفا کی فہرست میں آپ کا نام اس طرح شامل ہے:

“جناب مولانا الحاج مولوی محمد عبد العلیم الصدیقی ۲۳۶ محلہ مشائخاں میرٹھ عالمِ فاضل واعظِ خوش بیان و مجازِ طریقت”۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!