| عنوان: | عظیم شخصیتوں کو منوانے کا طریقہ |
|---|---|
| تحریر: | تبسم رضا عطاری |
کچھ لوگ جو شخصیت پرستی میں حد سے آگے بڑھے ہوئے ہیں، وہ اپنی محبوب و پسندیدہ شخصیتوں کو دوسروں سے منوانے کے لیے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔ وہ فتوے لگا کر، نعرے بازی کر کے یا جذباتی تقریروں کے ذریعے دوسروں کو زبردستی قائل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ محبت کبھی زبردستی پیدا نہیں کی جا سکتی۔ جو لوگ گستاخی و بے ادبی نہیں کرتے لیکن آپ جیسی عقیدت بھی نہیں رکھتے، ان کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنا اور انہیں اپنا اسلامی بھائی سمجھنا ہی بہتر رویہ ہے۔
بزرگوں کی عظمت اجاگر کرنے کا صحیح طریقہ
اگر کوئی واقعی صاحبِ کردار اور اللہ والا ہے، تو اس کی عظمت بتانے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا مبارک کردار، طریقۂ زندگی، کارنامے، دینی خدمات اور خدا ترسی سنجیدہ انداز میں تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے سامنے لائی جائے۔ جن باتوں کی بنیاد پر آپ کو ان سے محبت ہے، وہ دوسروں کو بتایئے؛ اگر وہ متاثر ہو جائیں تو ٹھیک، ورنہ زبردستی منوانے کی کوشش سے گریز کیا جائے۔
عملی کردار اور اخلاق کی اہمیت
اسلامی شخصیتوں اور اپنے مشائخ کو دوسروں سے منوانے کا سب سے عمدہ طریقہ آپ کا اپنا اعلیٰ کردار ہے۔ محض عرس و محافل منعقد کرنا اور دعوے کرنا لیکن عملی زندگی میں حلال و حرام کی تمیز نہ رکھنا اور نمازیں چھوڑنا قوم کو بزرگوں سے قریب کرنے کے بجائے دور کرتا ہے۔ اللہ والوں کے سچے محبین اور عقیدت مند وہ ہیں جن کے اخلاق و کردار کو دیکھ کر اللہ اور اس کے ولیوں کی یاد آ جائے۔
اتباعِ کامل اور اتحادِ امت
ضروری ہے کہ مرید اپنے پیر کا، شاگرد اپنے استاد کا اور معتقد اپنے محبوب کا عملی نمونہ بنے، تبھی ان کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھے گی۔ جو لوگ اپنے چال چلن اور اخلاق کو سنوارے بغیر زبردستی شخصیتوں کو منوانے پر بضد رہتے ہیں، وہ قوم میں گروہ بندی اور تفرقہ بازی کا باعث بنتے ہیں۔
