| عنوان: | شجرکاری اور اسلامی تعلیمات |
|---|---|
| تحریر: | محمدثاقب نظامی |
شجرکاری کی اہمیت اور انسانی حیات
دنیا میں کئی ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے دنیا قائم ہے ان میں سے ایک شجرکاری بھی ہے۔ شجرکاری ہر دور کے انسان کے لیے اہم رہی ہے اور رہے گی کیونکہ خداوند تعالی نے انسانی زندگی کے لیے درختوں کے وجود کو لازم کردیا ہے۔ انسان کو زندہ رہنے کے لیے جو سانس (Oxygen) درکار ہے وہ ان درختوں سے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہو کہ انسان کے نظام تنفس کا مدار پیڑ اور پودوں پر ہے۔ گویا کہ انسانی حیات کی ڈور قدرت نے درختوں کے قبضہ میں کررکھی ہے کہ جس دن دنیا ان درختوں کے وجود سے خالی ہوگی وہ دن انسان کا آخری دن ہوگا۔ آج شہروں بستیوں کو خوبصورت بنانے اور اس کی توسیع کےلئے جنگلات کی صفائی عمل میں لائی جارہی ہے اندھا دھند درخت کاٹے جارہے ہیں علاقوں کو جنگل سے پاک کیا جارہا ہے جن کے تباہ کن نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان درختوں میں فضائی اور صوتی آلودگی جذب کرنے کی صلاحیت رکھی ہے اس سے گندی آب و ہوا ختم ہو کر صاف ستھری فضا میسر ہوتی ہے اور پھر اس سے ایک وافر مقدار میں آکسیجن بھی تیار ملتا ہے جو انسان کی بقا کی بنیاد ہے اس لئے شریعت اسلامی نے کھیتی باڑی کرنے پیڑ پودے لگانے اور بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے کا حکم دیا ہے اور کوئی ایسا عمل کرنے سے روکا ہے جس سے لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے درخت کو نقصان پہنچے اس طرح کے عمل کو قرآن نے فساد سے تعبیر کیا ہے۔
شجرکاری قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ اپنی لاریب کتاب قرآن مجید میں اپنے محبوب رسول ﷺ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتا ہے: "ہم نے آپ ﷺ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کا بیان ہے۔" اس آیت مبارکہ کی روشنی میں جب راقم نے یہ جاننا چاہا کہ قرآن مجید میں درختوں کا ذکر کہاں کہاں اور کس انداز کے ساتھ ہے؟ تو تحقیقی مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس حکمت بھری کتاب مقدس میں اللہ تعالیٰ نے ایک بار نہیں بلکہ انسٹھ بار اشجار (درختوں) کا خوب صورت تذکرہ متفرق مقامات پر مختلف انداز و کیفیات میں بیان فرمایا ہے۔ قارئین کی دلچسپی و جانکاری کیلئے تفصیل بذیل ہے:
سورۃ البقرہ آیت نمبر ۳۵، سورۃ الانعام آیت نمبر ۹۵، سورہ الاعراف آیت نمبر ۱۹، ۲۰، ۲۱، ۶۹، سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ۶۰، سورۃ الکھف آیت نمبر ۳۲، سورۃ مریم آیت نمبر ۲۳، سورۃ طہ آیت نمبر ۷۱، ۱۲۰، ۱۲۱، سورۃ الحج آیت نمبر ۱۸، سورۃ المومنون آیت نمبر ۱۹، ۲۰، سورۃ النور آیت نمبر ۳۵، سورۃ النمل آیت نمبر ۵۹، ۶۰، سورۃ القصص آیت نمبر ۳۰، سورۃ اللقمان آیت نمبر ۲۷، سورۃ یٰسین آیت نمبر ۸۰، سورۃ الصافات آیت نمبر ۶۲، ۶۴، ۱۴۶، سورۃ الدخان آیت نمبر ۴۳ تا ۴۹، سورۃ الفتح آیت نمبر ۱۸، سورۃ الرحمن آیت نمبر ۶، ۱۱، ۱۲، ۴۸، سورۃ الواقعہ آیت نمبر ۵۱ تا ۵۶، اور ۷۱ تا ۷۳، سورۃ الحشر آیت نمبر ۵، سورۃ الحاقہ آیت نمبر ۶ اور ۷، سورۃ التین آیت نمبر ۱ (اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو درختوں انجیر اور زیتون کی قسم کھائی ہے۔)
متذکرہ انسٹھ آیات مقدسہ کا ترجمہ، تشریح اور تفسیر پڑھ کے دل ودماغ کے بند دریچے کھل جاتے ہیں اور درختوں کی اہمیت وافادیت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ثمر دار درختوں کے پھلوں کو رزق قراردیا ہے، ارشادِ الٰہی ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنْ قَبْلِکُمۡ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَ السَّمَاءَ بِنَاءً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّکُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَّ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
(اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم سب کو پیدا کیا ہے اس کی عبادت کرنے سے تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔ تمہارا وہ رب جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور آسمان سے پانی برسا کر درختوں کے تمہارے کھانے کیلئے بطور رزق پھل پیدا کردئیے، کسی کو بھی اس کا شریک نہ بنانا حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۱، ۲۲)
وہ سعادت مند لوگ جو ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی کی خاطر اعمال صالحہ کرتے رہے، اللہ تعالیٰ ان کے کامل ایمان اور نیک اعمال کے صلہ میں انہیں جنتیں عطافرمائے گا جن میں طرح طرح کے باغات ہونگے اور انہیں وہاں بھی انواع واقسام کے پھلوں کی صورت میں رزق ملے گا اس کا تفصیلی ذکر سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۲۵ میں ہے گویا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی درختوں کی موجودگی اور افادیت مسلمہ ہے۔
شجرکاری احادیث مبارکہ کی روشنی میں
کتب احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے شجرکاری کی خوب ترغیب دی چنانچہ چند روایات درج ذیل ہیں:
ارشاد ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
«إِنْ قامت الساعة وبيد أحدكم فسيلة»، «نخلة صغيرة أو شتلة» فإن استطاع أن لا يقوم حتى يغرسها، فليفعل» (أحمد)
کہ اگر قیامت آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور قیامت آنے سے پہلے پہلے وہ پودا لگا سکتا ہو تو اسے ایسا ضرور کرلینا چاہئے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللہ عنہ قال: حدثني أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قالت: دخل علي رسول اللّٰہ صلى الله عليه وسلم في حائط فقال: «لَکِ هَذَا؟» فقلت: نعم فقال: «من غرسہ، مسلم أو کافر؟» قلت: مسلم، قال: «ما من مسلم يزرع أو يغرس غرسًا فيأكل منه طائر أو إنسان أو سبع (زاد في رواية: أو دابة) أو شيء إلا كان له صدقةً» (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)
ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگائے، اور اس میں سے کوئی انسان، درندہ، پرندہ، یا چوپایہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے بنجر زمین آباد کرنے، اور بے استعمال زمین کو قابل استعمال کرکے یعنی کاشت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا، جس کے پاس زمین ہو، اسے اس میں کاشتکاری کرنی چاہیے، اگر وہ اس میں خود کاشت نہ کرسکتا ہو، تو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے، تاکہ وہ اس میں کاشت کرسکے (مسلم شریف)۔
حضور ﷺ کی اسی ترغیب کے نتیجے میں صحابہ کرامؓ درخت لگانے کا اہتمام کرتے تھے، جلیل القدر صحابی ایک بار دمشق میں پودے لگارہے تھے یہ دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا: "آپ صحابی رسول ﷺ ہیں، اور پھر بھی پودے لگا رہے ہیں؟" یہ اس کا طنز تھا کہ آپ دنیا کی حرص میں مبتلا ہیں، انہوں نے جواب دیا: "انتظر حتى أفهمك السنة في هذا العمل وثوابه، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من غرس غرساً، لم يأكل منه آدميٌّ، ولا خلق من خلق الله، إلا كان له به صدقة" (أخرجه أحمد) کہ میں نے آپ ﷺ سے سنا ہے کہ جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کاشت کاری کرتا ہے، پھر اس میں سے انسان، چوپایہ یا کوئی بھی جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوجاتا ہے۔
شجرکاری واقعات کی روشنی میں
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا دلچسپ اور فکر انگیز پس منظر حضرت علامہ عبدالرحمان جلال الدین سیوطی تحریر فرماتے ہیں: سلمان فارسی بنو قریظہ کے یہودیوں میں سے ایک یہودی کے زرخرید غلام تھے جو وادی القریٰ سے انہیں خرید کر اپنے قبیلے مدینہ طیبہ میں لے آئے تھے۔ سلمان فارسیؓ بڑے سمجھدار آدمی تھے تلاش حق میں قبل ازیں مختلف عیسائی راہبوں کے پاس رہ چکے تھے ان سے نبی آخر الزمان ﷺ کے اوصاف، علامات، جائے ظہور، اور مقام ہجرت کے بارے میں سُن چکے تھے۔ جب نبی کریم ﷺ مکۃ المکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف فرما ہوئے آپ ﷺ کی آمد کا چرچا عام ہوگیا سلمان فارسیؓ نے بھی آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان مکاتب ہوجاؤ۔" مکاتب سے مراد وہ غلام ہوتا ہے جو اپنے آقا / مالک کی رضامندی سے رقم آزادی متعین کرلے اور پھر اس کو ادا کرکے آزادی کی تحریر لے لے۔ چنانچہ حضرت سلمان فارسیؓ نے اپنے مالک سے مکاتبت کی درخواست کی جو اُس نے منظور کرلی، تین سو درخت کھجوروں کے لگا کر ان کے پھل دینے تک نگہداشت اور چالیس اوقیہ سونا بھی ادا کرنا قرار پایا۔ حضور ﷺ نے حوصلہ افزائی فرمائی، صحابہ کرامؓ نے پودوں کی فراہمی میں مدد کی۔ رسول اکرم ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے پودے لگائے اور مٹی درست کی۔ سلمانؓ فرماتے ہیں سب درخت سرسبز وشاداب ہوگئے اور اسی سال پھل دینا شروع کیا۔ چالیس اوقیہ سونا ادا کرنے کا معاملہ معجزانہ طور پر طے پایا اور حضرت سلمانؓ کی آزادی پایہ تکمیل کو پہنچی۔
دیگر متعدد مثالیں ہیں جن سے عیاں ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ رسالت مآب ﷺ کی ہدایات کی روشنی میں شجرکاری کرتے درختوں کی پیداوار سے خود بھی استفادہ کرتے اور صدقہ و خیرات بھی کرتے تھے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑے باغ والے تھے (باغِ بیرحاء)۔ جب سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۹۲ نازل ہوئی تو ابو طلحہؓ نے وہ محبوب باغ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے پیش کردیا جسے حضور ﷺ نے قرابت داروں میں تقسیم فرمانے کا مشورہ دیا۔
اسی ضمن میں قارئین کی دلچسپی کے لئے ایک تاریخی واقعہ پیش ہے: نوشیرواں عادل بادشاہ ایک دن سیر و تفریح کیلئے نکلا، راستے میں ایک باغ سے گذر ہوا، ایک ضعیف العمر شخص پودے لگارہا تھا بادشاہ رُک گیا اور بوڑھے سے مخاطب ہو کر کہا: "بابا آپ عمر رسیدہ اورکمزور شخص ہیں کام کاج کے قابل نہیں گھر بیٹھ کر آرام کریں۔" بوڑھے نے جواب دیا: "جناب ہم سے پہلے لوگوں نے درخت لگائے تھے ہم ان کا پھل کھا رہے ہیں اور فائدہ لے رہے ہیں میں بھی پودے لگارہا ہوں تاکہ میرے بعد اور لوگ ان کا پھل کھائیں اور فائدہ اٹھائیں۔" بادشاہ بوڑھے کے جواب سے خوش ہوا اور اسے انعام سے نوازا۔
درخت کاٹنے کی ممانعت
ایک طرف شریعت اسلامی نے کھیتی باڑی کرنے پیڑ پودے لگانے اور بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے کا حکم دیا ہے تو دوسری طرف کوئی ایسا عمل کرنے سے روکا ہے جس سے لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے درخت کو نقصان پہنچے اس طرح کے عمل کو قرآن نے فساد سے تعبیر کیا ہے۔ بیجا درخت کاٹنے والوں پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔
عن عبد الله بن حبیش قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «من قطع سدرة صوب الله رأسه في النار» (رواه أبو داود)
اور حضرت عبداللہ ابن حبیش کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بیری کا درخت کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے الٹے سر دوزخ میں ڈالے گا۔ امام ابوداؤد نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث مختصر ہے جس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص جنگل میں بیری کے کسی ایسے درخت کو کہ جس کے سایہ میں مسافر اور جانور پناہ حاصل کرتے ہیں ازراہ ظلم وزیادتی اور بغیر حق کے کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے الٹے سر دوزخ میں ڈالے گا۔
