اس ترقیاتی دور میں بھی انسان کمزور ہے

اس ترقیاتی دور میں بھی انسان کمزور ہے
عنوان: اس ترقیاتی دور میں بھی انسان کمزور ہے
تحریر: محمد ثاقب نظامی

انسانی خامی اور فتنہ و فساد کا بازار

انسان کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ دولت و ثروت پاکر بہت جلد بہک جاتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے؛ وہ مطیع و فرمانبردار بننے کے بجائے ظلم و عناد، فتنہ و فساد، وحشیت و شیطنت کا پیکر بن جاتا ہے۔ ماضی میں بھی یہی ہوتا رہا ہے اور علم و عرفاں کے اس ترقیاتی دور میں بھی انسان اسی کمزوری کا مرتکب ہے اور پہلے سے زیادہ اس کے ہاتھ سنے ہوئے ہیں۔ آج اس پرفتن دور میں ہر سمت جو فتنہ و فساد کا بازار گرم ہے اور دنیا کے بڑے جس طرح اس گرم بازاری کو پروان چڑھا رہے ہیں اور قوم کو جانتے بوجھتے مہیب جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں، اس کے پیچھے انسان کی ہی کمزوری کارفرما ہے۔

اس ترقیاتی دور میں انسان علم و سائنس کی بلندیوں پر پہنچ تو چکا ہے، بڑے سے بڑے مشکلات کو لمحہ میں حل کرنے کی قوت پیدا کر لیا ہے، لیکن افسوس کہ وہ اس کمزوری کا، جو پوری انسانیت کو ہلاکت کرنے کے لیے کافی ہے، کوئی علاج دریافت نہ کر سکا۔ انسان ضرور زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے، چاند پر کمندیں ڈال رہا ہے، شاہین کی طرح ہواؤں کے دوش پر سوار ہو رہا ہے، مچھلیوں کی طرح دریاؤں کے تلاطم خیز تھپیڑوں سے مقابلہ کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے زمین پر انسان کی طرح چلना نہیں آیا۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا۔ (اقبال)

کمزوری کا علاج اور خدا فراموشی کا انجام

اس کمزوری اور خامی کو نسل انسانی سے دور کرنے کا کارگر طریقہ یہ ہے کہ انسان پر اس کی صحیح حیثیت و حقیقت واضح کر دی جائے۔ اس کے دل میں اس بات کا یقین پیدا کر دیا جائے کہ وہ کچھ نہ تھا، خالق کائنات نے اسے وجود بخشا، اسے بہترین صلاحیتوں و کمالات سے نوازا اور اسے افضل المخلوقات بنا کر اپنی بندگی میں ڈال دیا۔ اسی کی ربوبیت و پروردگاری کے سہارے ہی اس کی زندگی کی تار چل رہی ہے، وہ سراپا اس کا محتاج ہے، اس کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اس کا بندہ اور محکوم ہے اور اس کے دیے ہوئے ہر لمحے کا اس کے سامنے جواب دہ ہے۔ اگر اس نے خدا فراموشی، ظلم و عدوان، فتنہ و فساد اور انسانیت کشی کی راہ اختیار کی تو وہ کائنات کے عظیم فرمانروا کے سخت عذاب سے بچ نہ سکے گا، حتیٰ کہ موت بھی اس عذاب کی راہ میں حائل نہ آ سکے گی۔

اس شدید اور ابدی عذاب سے نجات پانے کی اس کے سوا کوئی شکل نظر نہیں آتی کہ وہ خدا کا بندہ اور انسان بن کر اپنی پوری زندگی کا سفر پورا کرےء۔ خدا پر یقین اور اس کے حضور حاضری کا ایقان انسان کو دولت و اقتدار کی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد بھی بہکنے سے بچاتا ہے اور اسے ظالم اور خود سر بننے نہیں دیتا۔ اس ایک یقین کے علاوہ انسانیت کی پوری تاریخ انسانیت کو قابو میں رکھنے کی کسی اور تدبیر سے ناآشنا ہے۔ پتہ یہ چلا کہ کل بھی یہی نسخہ کارآمد تھا اور آج بھی یہی نسخہ کارآمد ہے۔ لیکن کچھ لوگ اس نسخے کو پوری بے دردی سے ضائع کر دیے ہیں، مگر نئی نسل انسانی کو کوئی اور نسخہ فراہم کر کے نہیں دیے اور نہ دے سکیں گے۔ اب اگر انسان ظالم و خود سر بنتا ہے اور دنیا تباہی و بربادی کے دلدل میں جا گرتی ہے تو ان کی بلا سے! وہ اس کے ذمہ دار تھوڑی ہیں!

جدید دور کا غرور اور انسان کی دائمی بے بسی

ترقیاتی دور میں نسل انسانی کے اپنے مالک حقیقی سے دور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان پہلے کمزور اور مشکلات سے گھرا تھا، اس لیے خدا کو ماننے پر مجبور تھا؛ آج کا انسان کمزور نہیں ہے، وہ بے پناہ طاقت رکھتا ہے، اس لیے اسے کسی ان دیکھی طاقت کے آگے سر جھکانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ آپ اپنے مسائل سے نمٹنے کی طاقت رکھتا ہے، لمحوں میں سینکڑوں میل کی مسافت کو طے کرنے کی قوت رکھتا ہے۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انسان پہلے بھی کمزور تھا اور آج بھی کمزور ہے۔ وہ پہلے بھی مخلوق اور سراپا محتاج تھا اور آج بھی مخلوق اور سراپا محتاج ہے۔ آج بھی اس کی اس حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ قدرت انسان کو جو جسم، جو صورت اور جو صلاحیتیں دے کر دنیا میں بھیجیتی ہے، انہی کو لیے ہوئے وہ دنیا میں آ جاتا ہے، ان میں سے کسی چیز کو حسب منشا منتخب کرنے کی آزادی نہ انسان کو پہلے تھی، نہ آج ہے، نہ آئندہ کبھی حاصل ہوگی، حالانکہ انسانی زندگی کی پوری تعمیر اسی بنیاد پر ہوتی ہے۔ انسان کو پہلے بھی یہ قدرت حاصل نہ تھی کہ وہ اپنی پیدائش کے لیے خاندان، مقام، وقت اور حالات کا اپنی مرضی سے انتخاب کرے، آج بھی اسے یہ قدرت حاصل نہیں ہے اور آئندہ بھی اس معاملے میں مجبور محض رہے گا۔

پیدائش کے وقت انسان ایک مضغہ گوشت ہوتا ہے جس کی پرورش و نگہداشت نہ کی جائے تو اس کی صلاحیتوں کا ارتقا اور کنار اس کا زندہ رہنا بھی ناممکن ہے؛ انسان کی یہ بے بسی بھی علیٰ حالہ قائم ہے۔ انسان معدوم محض ہوتا ہے، پھر وہ کمزور و بے چارگی کے عالم میں پیدا ہوتا ہے، پھر دورِ شباب میں قوتوں سے مالامال ہوتا ہے، پھر وہ بڑھاپے کا شکار ہوتا ہے اور اس کی قوتیں ایک ایک کر کے جواب دینے لگتی ہیں، حتیٰ کہ موت اس کے وجود کو چبا کر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ انسان جس طرح اس معاملے میں پہلے بے بسی سے چھٹکارا پانے کا کوئی امکان نہیں رکھتا تھا، آج بھی نہیں رکھتا۔

سائنسی ترقی اور نئے عذاب و حوادث

انسان پہلے بھی ہوا، گرمی، پانی اور غذا کا محتاج تھا اور ان کے بغیر زندہ نہ رہ سکتا تھا، اور آج بھی اس کی یہ کمزوری جوں کی توں باقی ہے۔ بیماریاں پہلے بھی انسان کو پریشان کرتی تھیں اور اس کی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی تھیں اور یہی صورت حال اب بھی برقرار ہے۔ بیماریوں پر قابو پانے کا جو غلغلہ ہے، اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ کچھ پرانے امراض گھٹے ہیں تو کچھ دوسرے نئے اور پیچیدہ امراض نے جگہ لے لی ہے، اور کرونا اور کینسر جیسے مہلک امراض عام ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

جنگی اسلحہ انسان کے لیے پہلے بھی وجہ ہلاکت تھے اور آج بھی ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ قدیم اسلحہ کے ساتھ بے شمار نئے اسلحہ کا اضافہ ہو گیا ہے جو پرانے اسلحہ سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں، اور ان میں سے بعض بعض تو پوری انسانی دنیا کو تباہ کر دینے کے لیے کافی ہیں، مثلاً ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم، اور انسان ہے کہ اپنی ہلاکت کے اس عظیم سروسامان کے آگے بالکل بے بس ہے۔ پہلے انسان پر خشکی، تری اور ہوا سے موت اور ہلاکت کی بارش ہوتی تھی، اب یہ بارش ہلاکت خلا سے بھی ہو سکے گی۔ قدرتی حوادث کا شکار انسان پہلے بھی ہوتا تھا مگر اب تیز رفتار سواریوں اور سائنسی ایجادات نے قدرتی حوادث کے ساتھ مشینی حوادث کا ہولناک اضافہ کر دیا ہے۔ انسانی مسائل آج سے قبل بھی پیچیدہ تھے لیکن آج وہ لاینحل ہو کر رہ گئے ہیں اور کسی ناخنِ تدبیر سے سلجھنے کا نام نہیں لیتے۔

مختصر یہ کہ عام انسان آج بھی اتنا ہی کمزور و لاچار ہے جتنا پہلے کبھی تھا، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ۔ اربابِ اقتدار اور اربابِ ثروت تو وہ پہلے کی طرح آج بھی دوسرے انسانوں کے محتاج ہیں، اگر یہ سہارا ختم ہو جائے تو بڑے سے بڑا انسان بھی عام انسانوں سے زیادہ کوئی مقام نہیں رکھتا، اور یہ سہارا آئے دن دھوکا دیتا رہتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!