| عنوان: | مجھے اللہ کافی ہے |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی |
اے تھکی ہاری روحوں، اے دل کے بوجھ سے دبے ہوئے لوگوں! جب اس دنیا سے دل بھر آئے، جب اپنے بھی غیر لگنے لگیں، جب باتوں کے بوجھ آنسوؤں کی صورت آنکھوں تک آنے لگیں تو یاد رکھیں کہ، دکھ سنانے کو فقط اللہ ہی کافی ہے۔
ہر شخص کو اپنا دکھ نہ سنایا کریں، ہر کسی کے سامنے اپنا دل نہ کھولا کریں؛ لوگ ہمیشہ ویسے نہیں ہوتے جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ باتیں سن کر آپ کو کمزور سمجھنے لگتے ہیں، اور کچھ آپ کے درد کو محفلوں میں چٹکلہ بنا دیتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنی باتیں اپنے دل تک ہی محدود رکھیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ پریشانی بانٹنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، مگر اصل مسئلہ اس کے برعکس ہے؛ لوگ چند لمحوں کے لیے ہمدردی جتاتے ہیں، اور پھر پلٹتے ہی وہی پریشانی محفلوں کا چرچا بنا دیتے ہیں۔ یوں آپ کا راز، راز نہیں رہتا۔ مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ بڑھ جاتا ہے، اور ہر جگہ پھیل جاتا ہے۔
ہمیشہ یہی سوچیں، ہمیں ہمارا اللہ کافی ہے۔
وہ جو دلوں کی چھپی ہوئی آہوں سے بھی باخبر ہے، جو مشکلات سے بھرے دن کو اپنی رحمت سے ہلکی، آرام دہ رات میں، اور آزمائش بھری رات کو سکون بھری صبح میں تبدیل کرنے پر قادر ہے، وہی آپ کی پریشانی کو بھی دور کرنے پر قادر ہے۔
اس لیے ہمت ہار کر دوسروں کے محتاج نہ بنیں، کسی کے سامنے اپنا بھید نہ رکھیں۔ رات میں ہونے والی گھٹن اور سناٹے سے نہ گھبرائیں، بلکہ اللہ سے باتیں کریں، خوب دعائیں کریں کیونکہ انہی راتوں کی تاریکی سے روشن دن ابھرتے ہیں۔
اگر آپ کا رابطہ، آپ کی خلوت، آپ کی راتیں اللہ کے ساتھ کنکٹ ہیں تو مبارک ہو! آپ ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اللہ نے اپنے قرب کا ذائقہ چکھایا ہے۔ اس کنکشن کو کبھی کمزور نہ ہونے دیں، بلکہ ہر دن اسے مزید مضبوط کریں۔ اور جب جب تھک جائیں، تو بس کہہ دیں:
حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ [سورۃ التوبۃ: 129]
مجھے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔ [کنز الایمان]
