لکھنؤ کا سفر | سفر نامہ (قسط اول) شہرِ نواباں کی سیر

لکھنؤ کا سفر (سفر نامہ - قسط اول)
عنوان: لکھنؤ کا سفر (سفر نامہ - قسط اول)
تحریر: محمدثاقب نظامی

علمی سفر کا آغاز اور لکھنؤ کا تعارف

میں اپنی دس سال کی عمر سے آج تک علمی سفر میں ہوں۔ علم کے حصول کی نیت سے کئی شہروں قصبوں کی خاک چھانی، کئی دشوار اور خوشگوار اسفار کا سامنا ہوا، انہی اسفار میں سے ایک یادگار اور تاریخی سفر لکھنؤ کا بھی ہے۔ کئی مدارسِ اسلامیہ سے ہوتے ہوئے میں نے ۲۰۱۸ میں ضلع رانچی کے ایک دیہاتی علاقے میں واقع مدرسہ اسلام نگر میں داخلہ لیا، وہاں دو سال کی مسلسل تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اور دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لینے کی غرض سے لکھنؤ جانے کا موقع ملا۔

لکھنؤ ہندوستان کی سب سے کثیر آبادی والی ریاست اتر پردیش کا دارالحکومت اور اردو کا قدیم گہوارہ ہے، نیز اسے مشرقی تہذیب و تمدن کی آماجگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ لکھنؤ شہر اپنی نزاکت، تہذیب و تمدن، اور کثیر الثقافتی ماحول کے لیے مشہور ہے۔ کانپور کے بعد یہ شہر اتر پردیش کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ اس شہر کے درمیان سے گومتی ندی رواں دواں ہے جو اس شہر کی ثقافت کا بھی ایک حصہ ہے۔ اسی ندی کی دوسری سمت دارالعلوم ندوۃ العلماء کی متعدد خوبصورت اور دلکش عمارتیں ہیں جس میں مہمان خانہ، مسجد، درسگاہیں، لائبریری، کانفرنس ہال، دارالافتاء، رسالوں کی اشاعت کے لیے دفتر اور مشہورِ زمانہ پندرہ روزہ تعمیر حیات و دیگر رسالوں کے دفاتر موجود ہیں۔ اسی دارالعلوم سے مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی، عظیم مؤرخ سید سلیمان ندوی، اور بہت سارے دانشوران نے جنم لیا اور سیاست کے ایوانوں سے لے کر ادب، سیرت اور تاریخ وغیرہ کی سنگلاخ زمین پر اپنی صلاحیت سے گل کھلائے۔

لکھنؤ اس خطے میں واقع ہے جسے ماضی میں اودھ کہا جاتا تھا۔ یہاں کے حکمرانوں اور نوابوں نے انسانی آداب، خوبصورت باغات، شاعری، موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ کی خوب پذیرائی کی۔ لکھنؤ نوابوں کا شہر بھی کہلاتا ہے، نیز اسے مشرق کا سنہرا شہر اور شیرازِ ہند بھی کہتے ہیں۔

رخصت کا لمحہ اور ٹرین کا سفر

مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے، فرحت و غم سے بھرا کیا وہ حسین لمحہ تھا، ایک طرف اعلیٰ تعلیم کی خاطر لکھنؤ جانے کی خوشی تھی تو دوسری طرف اپنے عزیز ترین احباب سے دور جانے کا غم۔ شام کا وقت تھا، رانچی اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ایک اژدہام نظر آرہا تھا، ہر سمت ٹوپیاں ہی ٹوپیاں تھیں۔ رات کے ۸ بجے ہماری گاڑی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ آ لگی۔ ہمارے عزیزوں نے ہمارے سامان کو ٹرین پر سوار کیا، ابھی ٹرین کے دروازے پر الوداعی ملاقات جاری ہی تھی کہ ٹرین نے اپنی روانگی کا اعلان کر دیا۔ سیٹی کی آواز سن کر تمام ساتھی پلیٹ فارم پہ آگئے اور ٹرین اپنے چپ و راست سے بے خبر اپنی منزل کی طرف چل پڑی۔

لکھنؤ، رانچی سے کافی دوری پر واقع ہے، ابھی ہماری منزل بہت دور تھی، ہمیں ٹرین پر پوری رات اور پورا دن گزارنا تھا اس لیے ہم سب نے رانچی کے ہوٹل سے رات کا کھانا لے لیا تھا۔ سب نے رات کا کھانا کھایا اور اپنی اپنی سیٹ پر لیٹ گئے۔ میری سیٹ کھڑکی والی تھی، میں کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھنے لگا۔ ابھی میری گاڑی ایک ہولناک جنگل سے گزر رہی تھی، میں انہی مناظر میں کھویا تھا کہ لوگوں نے لائٹ آف کر دی اور مجھ سے کھڑکی بند کرنے کا مطالبہ کرنے لگے، میں نے بھی کھڑکی بند کی اور سو گیا۔

صبح ۸ بجے میری نیند کھلی، میں نے جلدی سے چہرہ دھویا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ناشتہ کرنے لگا۔ ناشتے کے بعد سب آپس میں گپ شپ کرنے لگ گئے اور میں اپنی جگہ پہ واپس آگیا۔ میری یہ عادت ہمیشہ سے رہی ہے کہ جب میں سفر میں ہوتا ہوں ایک یا دو کتابیں میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ میں نے اپنے بیگ سے اردو ادب کی ایک کتاب نکالی اور پڑھنے لگا۔ کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ گاہے بگاہے اپنی نظریں کتاب سے اٹھا کر ریل گاڑی کی کھڑکی کے باہر تیزی سے دوڑتے ہوئے مناظر پر ڈالتا جاتا، پھر جلد ہی اُکتا کر کتاب بند کر دیتا اور پوری یکسوئی کے ساتھ لوہے کی دو عمودی سلاخیں لگی بڑی سی کھلی کھڑکی پر اپنی ٹھوڑی ٹکا کر باہر نظر آنے والے مناظر کو بڑی ہی محویت کے ساتھ تکنے لگتا۔ ریل گاڑی چھک چھک چھک چھک کے مدھر گیت کی تانیں اڑاتی ہوئی اپنی برق رفتاری سے چلی جا رہی تھی۔ کھڑکیوں سے آتے بھیگی نم آلود ٹھنڈی ہواؤں کے دبیز جھونکے بوگی میں سوار افراد کے بالوں کو رقصاں کر رہے تھے۔

لکھنؤ آمد اور شہرِ نواباں کی سیر

دیکھتے ہی دیکھتے سورج زوال کی طرف ڈھلنے لگا، اور ہم اپنی منزل کے بہت قریب آگئے۔ میں نے سبھی ساتھیوں کو مطلع کیا کہ وہ تیاریاں شروع کر دیں، کچھ ہی دیر میں ہماری گاڑی لکھنؤ اسٹیشن کے پلیٹ فارم ۳ پہ تھی۔ ہم لوگ پلیٹ فارم کے سرنگی راستے سے ہوکر اسٹیشن کے باہر آئے، لکھنؤ کے چارباغ کا منظر یقیناً ہمیں مدہوش کر دینے والا تھا۔ خوبصورت اور دلفریب عمارتیں ہمیں پلٹ پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کررہی تھیں، ابھی ہم عمارت کی خوبصورتی سے سرشار ہو ہی رہے تھے کہ ہمارے ساتھی ہمارے استقبال کیلئے حاضر ہوگئے۔

رات کے ۱۰ بجے ہم لوگ ندوے کے احاطے میں تھے، ہم سب نے کھانا کھایا اور سونے کو ترجیح دی۔ صبح فجر کے بعد پرانے ساتھیوں کے ساتھ سیر کیلئے نکلے۔ ہمارے ساتھی ہمیں سب سے پہلے ندوے کے سامنے پارک نما ایک میدان 'جھولے لال پارک' لے گئے جس کی ایک سمت گومتی ندی بہتی ہے۔ گومتی ندی کی دوسری جانب ’’چھتر منزل‘‘ واقع ہے جو واجد علی شاہ والیِ اودھ کا دفتر تھا۔ کچھ اور آگے بڑھے تو ’شہید اسمارک‘ نظر آیا، ساتھیوں نے بتایا کہ یہ پاک جنگِ آزادی کے دوران شہیدوں کی یاد میں بنایا گیا ہے، پندرہ اگست کو یہاں دیپ جلاکر شہداء کو یاد کیا جاتا ہے۔

لکھنؤ میوزیم اور ملک گیر شہرت یافتہ مصنوعی ہاتھ پیر بنانے والے ہسپتال سے ہوتے ہوئے ہم اسی سائنس سٹی میں داخل ہوئے جس میں مصنوعی سورج چاند تارے جس شکل میں آسمان میں موجود ہیں یہاں موجود دیکھے۔ دن میں اس کی دو بار نمائش بھی ہوتی ہے؛ ایک بار بزبان انگریزی اور ایک بار بزبان اردو۔

آگے چلنے پر کنونشن ہال، پارک اور اس کے سامنے بُدھا پارک ملا۔ قریب ہی میں میڈیکل کالج کی خوبصورت عمارت موجود ملی۔ ’’پتنگ پارک‘‘ اور اس سے متصل ایک خوبصورت مسجد بھی دیکھی جو پرفضا مقام پر رنگ و روغن سے معمور ہے۔ آگے چل کر پیر محمد کے نام سے مشہور ٹیلے والی خوبصورت مسجد ملی۔ اسی سے ملا ہوا گومتی ندی پر شمال سمت میں سیتاپور جانے کے لیے شاہی پل ہے جس کو اکبر بادشاہ نے اپنے نورتن عبدالرحیم خان خاناں کی نگرانی میں تعمیر کروایا تھا۔

مسجد کی دوسری سمت کچھ دوری پہ بڑا امام باڑا نظر آیا جو ہندوستان میں تمام امام باڑوں کی جان ہے۔ اسی میں عالمی شہرت یافتہ بھول بھلیاں بھی ہے جس کو آصف الدولہ نے تعمیر کروایا تھا۔ ساتھ ایک بہت خوبصورت مسجد، اور پارک بھی ہے، اس کے سامنے نوبت خانہ ہے جہاں نوبت بجائی جاتی تھی۔ امام باڑے کے سامنے والی سڑک پر ایسے پتھر لگائے گئے ہیں جو کبھی خراب نہیں ہوتے۔ اس سڑک پر موٹر کے سفر سے بھی معمولی ہچکولے ملتے ہیں۔ مزید مغرب سمت چلنے پر گھنٹہ گھر ہے جو 300؍فٹ سے زائد اونچائی کا کلاک ٹاور ہے، جس میں گھڑی ابھی بھی صحیح وقت بتاتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!