| عنوان: | ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں |
|---|---|
| تحریر: | عمران رضا عطاری مدنی بنارسی |
| پیش کش: | مجمع التصانیف |
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ مسلمانوں کی بے مثال قربانیوں، لازوال جدوجہد اور حب الوطنی سے روشن ہے۔ روزِ اوّل ہی سے اس ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں نے اپنا جان و مال، عزت و آبرو اور ہر عزیز و قیمتی چیز قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ تاریخ کے اوراق ان قربانیوں کے گواہ ہیں؛ اس حقیقت کا انکار یا تو تاریخ سے ناواقف شخص کر سکتا ہے یا پھر تعصب کی عینک سے تاریخ کو دیکھنے والا۔
ہندوستان کی آزادی کی اس عظیم جدوجہد میں بزرگانِ دین، علماے کرام اور مجاہدینِ آزادی نے اپنی زندگیاں وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دیں۔ انہوں نے ظلم و جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، پھانسی کے پھندوں کو قبول کیا، اپنا گھر بار چھوڑا اور وطن کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہی وہ قربانیاں ہیں جن کے نتیجے میں آج ہم ایک آزاد ملک کی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ان اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھیں، ان کے جذبۂ حب الوطنی کو سلام پیش کریں اور اپنے وطن کی سلامتی، ترقی اور خوش حالی کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کریں۔ بلاشبہ آزاد وطن ایک عظیم نعمت ہے، اور اس نعمت پر ہمیں اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
چند دلخراش واقعات اور عظیم قربانیاں:
انگریزوں کے وحشیانہ مظالم: مسٹر ڈی لین لکھتا ہے کہ انگریزوں نے مسلمانوں پر نہایت وحشیانہ مظالم ڈھائے؛ انہیں سور کی کھال میں سینا، پھانسی سے پہلے جسم پر سور کی چربی ملنا، زندہ آگ میں جلانا اور ہندوستانیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بدفعلی پر مجبور کرنا جیسے انسانیت سوز سلوک روا رکھے۔ وہ اعتراف کرتا ہے کہ دنیا کی کوئی مہذب تہذیب ایسی مکروہ اور انتقامی حرکات کی اجازت نہیں دیتی۔ (چند ممتاز علماے انقلاب، ص: ۳۶، ملخصاً)۔ چند مؤرخین کے اندازے کے مطابق ان مظالم میں تقریباً ۳۰ ہزار مسلمان شہید ہوئے، جن میں سو برس کے ضعیف افراد سے لے کر معصوم بچے تک شامل تھے۔ (تاریخِ جنگِ آزادیِ ہند، ص: ۱۷، ملخصاً)
۲ کے بدلے ۵۰۰ افراد کا قتل: انگریزوں کے لیے دوسروں کو قتل کرنا اور پھانسی دینا آسان تھا، مگر جب خود پر بیتی تو ظلم کا بدترین مظاہرہ کیا۔ صرف دو انگریزوں کے قتل کے بدلے میں انہوں نے ۵۰۰ بے گناہ افراد کو قتل کر دیا۔
پھانسی کی دردناک سزائیں: دو دن کے اندر بیالیس (۴۲) آدمیوں کو سڑک کے کنارے پر پھانسی دی گئی۔ اور بارہ (۱۲) آدمیوں کو تو صرف اس جرم پر پھانسی کی سزا ملی کہ جب فوج ان کے سامنے سے گزری تو ان کے چہرے دوسری طرف کیوں تھے؟ (چند ممتاز علماے انقلاب، ص:۳۸)۔ بعض اوقات یوں بھی ہوا کہ بغیر نام نہاد عدالت کے حکم سے بھی پھانسیا ں دی گئیں، جن میں مرد و عورت کی کوئی تمییز روا نہ رکھی گئی۔ اس طرح خون ریزی کی آگ دن بہ دن اور بھڑکتی گئی۔
ٹائمز آف انڈیا کے رپورٹر کا بیان:
"میں نے دہلی کے گمنام بازاروں میں سیر کرنا مطلقاً چھوڑ دیا ہے۔ کیوں کہ کل، ایک دردناک واقعہ دیکھنے میں آیا، جس سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب ایک افسر (20) سپاہیوں کو لے کر شہر کی گشت کو جانے لگا تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا اور راستے میں ہم نے چودہ (14) عورتوں کو لاشوں میں لپٹے ہوئے بازار میں پڑا پایا۔ جن کے سر، دھڑوں سے ان کے خاوندوں نے خود جدا کر دیے تھے۔"
دہلی کا وحشت ناک منظر: ایک انگریز کمانڈر دہلی کا خوف ناک منظر بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ صبح کے وقت لال قلعہ سے چاندنی چوک تک پورا شہر شہرِ خموشاں بنا ہوا تھا۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کے سوا کوئی آواز نہ تھی، نہ کوئی زندہ انسان دکھائی دیتا تھا؛ ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور ہم خاموشی سے گزر رہے تھے۔
علامہ کفایت علی کافی کی شہادت: ۲۵ اپریل ۱۸۵۸ء کو مراد آباد پر انگریزوں کے دوبارہ قبضے کے بعد مولانا سید کفایت علی کافی رحمۃُ اللہ علیہ کو ۳۰ اپریل کو گرفتار کر لیا گیا۔ مختلف دفعات کے تحت ایک رسمی مقدمہ چلایا گیا اور بالآخر پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ مو لانا کافی نے نہایت مسرت و اطمینان کے ساتھ یہ حکم سنا اور مراد آباد جیل کے سامنے پھانسی دے دیے گئے، جہاں بعدِ شہادت آپ کی تدفین بھی ہوئی۔ پھانسی کے پھندے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے مولانا کافی نہایت شوق و جذب کے ساتھ اپنی تازہ نعتِ رسول ﷺ کے اشعار ترنم سے پڑھ رہے تھے:
کوئی گل باقی رہے گا، نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ ﷺ کا دینِ حَسَن رہ جائے گا
شاہ احمد اللہ مدراسی کی بہادری: مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی رحمۃُ اللہ علیہ فیض آباد میں مسلسل آزادی کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ جب انگریزوں نے آپ کی گرفتاری کا حکم دیا تو پولیس نے انکار کردیا، چناں چہ مسلح فوج بھیجی گئی۔ آپ سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا تو بے خوفی سے فرمایا: ”ہم ہتھیار نہیں دیں گے، کیونکہ یہ ہمیں اپنے پیر سے ملے ہیں۔“ جب شہر چھوڑنے کی دھمکی دی گئی تو دوٹوک جواب دیا: ”فقیر اپنی مرضی سے شہر چھوڑے گا۔“ انگریزوں نے اچانک حملہ کیا، مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اس معرکے میں آپ کے تین ساتھی شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے، مگر آپ کی جرأت و استقامت میں ذرّہ بھر کمی نہ آئی۔ (چند ممتاز علماے انقلاب، ص:۱۴۹، ۱۵۰، ملخصاً)
کالا پانی: مفتی مظہر کریم دریابادی رحمۃُ اللہ علیہ اور علامہ فضلِ حق خیرآبادی رحمۃُ اللہ علیہ نے مجاہدینِ آزادی کی صف میں شامل ہوکر ہندوستان کی آزادی کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ اس جرم کی پاداش میں انگریزوں نے دونوں بزرگوں کو گرفتار کرکے کالا پانی، جزیرۂ انڈمان بھیج دیا، جہاں انہیں شدید ظلم و ستم اور سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
مولانا امام بخش صہبائی کی شہادت: مولانا امام بخش صہبائی رحمۃُ اللہ علیہ انگریز مخالف جذبات رکھتے اور مجاہدینِ آزادی کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامے میں ایک انگریز کے زخمی ہونے پر انگریز افسر نے کوچہ چیلان کے تمام مردوں کو قتل یا گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ چناں چہ بہت سے افراد قتل کیے گئے اور گرفتار شدگان کو جمنا کے کنارے لے جا کر گولیوں سے شہید کر دیا گیا۔ ان شہید ہونے والوں میں مولانا امام بخش صہبائی بھی شامل تھے، جو اپنے خاندان کے تقریباً ۲۱ افراد کے ساتھ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
