| عنوان: | قرآنیات (سلسلہ: 01) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | تحریک علمائے ہند |
ابابیل عربی زبان سے اسمِ جمع ہے جس کا واحد نہیں ہوتا اور اردو میں بطورِ واحد ہی مستعمل ہے، البتہ بطورِ جمع ابابیلیں اور ابابیلوں استعمال کر لیا جاتا ہے۔
- اس پرندے کی عمومی خوراک حشرات الارض ہیں۔
- اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اڑتے اڑتے بھی کھا سکتا ہے۔
- اس کی لمبائی 18 سے 20 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔
- یہ مٹی اور گھاس کو ملا کر گھونسلا بناتا ہے۔
- عموماً یہ پرانی عمارتوں کی چھت پر گھونسلا بناتا ہے۔
- عام طور پر یہ پرندہ اپنے جوڑے کے ساتھ اڑتا ہے۔
- مادہ ابابیل چار انڈے دیتی ہے۔
- اس کا انڈا نقطہ دار ہوتا ہے۔
- ابابیل پرندہ ہجرت کرنے میں مشہور ہے، لیبیا، ایران اور شام کے علاقوں سے 60 تا 80 پرندوں پر مشتمل جھنڈ کی شکل میں یورپی ممالک کی طرف ہجرت کرتے ہیں، اور وہیں انڈے بچے دیتے ہیں۔ اسی طرح سوڈان سے جنوبی افریقہ بھی ہجرت کرتے ہیں۔ عراق کے شہر موصل میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
- یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ پرندہ 70 تا 80 سال اپنا گھونسلا نہیں چھوڑتا اور اسے محفوظ رکھتا ہے۔ [ملخصاً: ویکی پیڈیا]
- ابابیل کا موسم کی تبدیلی سے گہرا تعلق ہوتا ہے، اور ان کی آمد یا روانگی موسم کی شدت کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔
- ابابیل کی فطرت اور نقل مکانی پر جدید تحقیق کی جا رہی ہے تاکہ ان کی بائیولوجیکل خصوصیات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر روشنی ڈالی جا سکے۔
قرآن میں ذکر:
ابابیل کا قرآن مجید کی سورۂ فیل میں ذکر آیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے ابرہہ بادشاہ کی فوج کو شکست دینے کے لیے ابابیل بھیجے اور ان چھوٹے چھوٹے پرندوں نے قدرتِ خداوندی سے اپنی چونچ اور دونوں پنجوں میں تھامی ہوئی کل 3 کنکریوں سے ہاتھیوں کے لشکر کو تباہ کر ڈالا۔ سورۂ فیل کی آیت نمبر 3 تا 5 میں اس واقعے کو یوں بیان کیا گیا ہے:
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
ترجمہ: ”اور اس نے ان پر ابابیل پرندے بھیجے۔“
تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ
ترجمہ: ”جو ان پر کنکر کے پتھروں سے نشانہ لگاتے تھے۔“
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ
ترجمہ: ”تو اس نے انہیں کھائی ہوئی کھیتی کی پتی کی طرح کر ڈالا۔“ [الفیل: 3 تا 5]
ان آیات میں جس واقعے کی طرف اشارہ ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے:
یمن اور حبشہ کے بادشاہ ابرہہ نے جب حج کے موسم میں لوگوں کو بیت اللہ کا حج کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے اس غرض سے صنعاء میں ایک کنیسہ (عبادت خانہ) بنایا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ جانے کی بجائے یہیں آئیں اور اسی کنیسہ کا طواف کریں۔
عرب کے لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص نے موقع پا کر اس کنیسہ میں قضائے حاجت کی اور اس کو نجاست سے آلودہ کر دیا۔ جب ابرہہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو اسے بہت طیش آیا اور اس نے قسم کھائی کہ وہ کعبہ معظمہ کو گرا دے گا، چنانچہ وہ اس ارادے سے اپنا لشکر لے کر چلا۔ اس لشکر میں بہت سے ہاتھی بھی تھے اور ان کا پیش رو ایک بڑے جسم والا کوہ پیکر ہاتھی تھا، جس کا نام ”محمود“ تھا۔ ابرہہ جب مکہ مکرمہ کے قریب پہنچا تو اس نے اہلِ مکہ کے جانور قید کر لیے اور ان میں حضرت عبد المطلب کے دو سو اونٹ بھی تھے۔ حضرت عبد المطلب ابرہہ کے پاس آئے تو اس نے ان کی تعظیم کی اور اپنے پاس بٹھا کر پوچھا کہ آپ کس مقصد سے یہاں آئے ہیں اور آپ کا کیا مطالبہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میرا مطالبہ یہ ہے کہ میرے اونٹ مجھے واپس کر دیے جائیں۔“ ابرہہ نے کہا: ”مجھے آپ کی بات سن کر بہت تعجب ہوا ہے کہ میں اس خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لیے یہاں آیا ہوں جو آپ کا اور آپ کے باپ دادا کا معظم و محترم مقام ہے، آپ اس کے لیے تو کچھ نہیں کہتے اور اپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں!“ آپ نے فرمایا: ”میں اونٹوں ہی کا مالک ہوں اس لیے انہیں کے بارے میں کہتا ہوں اور کعبے کا جو مالک ہے، وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا۔“ یہ سن کر ابرہہ نے آپ کے اونٹ واپس کر دیے۔
حضرت عبد المطلب نے واپس آ کر قریش کو صورتِ حال سے آگاہ کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ پہاڑوں کی گھاٹیوں اور چوٹیوں میں پناہ گزین ہو جائیں، چنانچہ قریش نے ایسا ہی کیا اور حضرت عبد المطلب نے کعبے کے دروازے پر پہنچ کر بارگاہِ الٰہی میں کعبے کی حفاظت کی دعا کی اور دعا سے فارغ ہو کر آپ بھی اپنی قوم کی طرف چلے گئے۔ ابرہہ نے صبح تڑکے اپنے لشکر کو تیاری کا حکم دیا تو اس وقت محمود نامی ہاتھی کی حالت یہ تھی کہ جب اسے کسی اور طرف چلاتے تو چلتا تھا، لیکن جب کعبے کی طرف اس کا رخ کرتے تو وہ بیٹھ جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے لشکر پر سمندر کی جانب سے پرندوں کی فوجیں بھیجیں اور ان میں سے ہر پرندے کے پاس تین کنکریاں تھیں، دو دونوں پاؤں میں اور ایک چونچ میں تھی۔ وہ پرندے آئے اور کنکر کے پتھروں سے انہیں مارنے لگے۔ چنانچہ جس شخص پر وہ پرندہ سنگریزہ چھوڑتا تو وہ سنگریزہ اس کے خود کو توڑ کر سر سے نکلتا ہوا، جسم کو چیر کر ہاتھی میں سے گزرتا ہوا زمین پر پہنچ جاتا اور ہر سنگریزے پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس سنگریزے سے اسے ہلاک کیا گیا، اس طرح ان پرندوں نے ابرہہ کے لشکریوں کو جانوروں کے کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔ جس سال یہ واقعہ رونما ہوا، اسی سال سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ [تفسیر صراط الجنان، بحوالہ: خازن]
اگرچہ مفسرین اس بابت مختلف آراء رکھتے ہیں کہ سورۂ فیل میں مذکور ابابیل کس نوع کے تھے، چنانچہ ابنِ کثیر نے 3 روایتیں نقل کی ہیں:
- کچھ پرندے چھوٹے تھے۔
- کچھ بڑے تھے۔
- کچھ پرندے مختلف رنگوں کے تھے۔
تاہم اس تعیین و تخصیص سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بہر صورت اس واقعے میں مذکور پرندے اور ان کا کارنامہ قدرتِ خداوندی کا واضح اظہار، اس کی شانِ الوہیت و ملوکیت کی دلیل اور تاقیامت خلقِ خدا کے لیے سامانِ عبرت ہے۔
