مرشدِ طریقت سیٹھ عبدالستار اسماعیل رضوی گجراتی رحمۃ اللہ علیہ | مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

مرشدِ طریقت سیٹھ عبدالستار اسماعیل رضوی گجراتی رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: مرشدِ طریقت سیٹھ عبدالستار اسماعیل رضوی گجراتی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

تعارف

حضرت سیٹھ عبد الستار اسماعیل قادری رضوی جناب سیٹھ محمد اسماعیل رضوی کاٹھیاواڑی کے فرزند تھے۔ باپ اور بیٹے کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے بیعت و ارادت کا شرف حاصل تھا۔ آپ دین کے سچے فدائی، ایمان و سنت کے حقیقی شیدائی تھے۔ آپ کی زندگی کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ 1328ھ میں امامُ الوہابیہ مولوی اشرف علی تھانوی رنگون (برما) پہنچا، تو آپ نے اسے ایسی شکستِ فاش دی کہ اسے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتے ہی بن پڑی۔ حضرت سیٹھ عبد الستار رضوی صاحب کی کامیابی پر مرشدِ برحق سیدی امام احمد رضا قدس سرہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ: “انہوں نے رنگون کے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی۔” اور آپ کو “فرار دہندہِ تھانوی از رنگون” کا مقدس لقب عطا فرمایا۔ سیٹھ عبد الستار رضوی کاٹھیاواڑ (گجرات) کے رہنے والے تھے، مگر تجارت کے سلسلے میں زیادہ تر اوقات رنگون میں گزارتے تھے۔ وہ اپنے پیر و مرشد کے جانثار مرید تھے۔

حصولِ علم

مرشدِ طریقت حضرت شاہ صوفی عبد الستار اسماعیل قادری رضوی گجراتی رحمۃ اللہ علیہ نے باضابطہ علمِ دین کے حصول کے لیے کسی استاد کی بارگاہ میں زانوئے ادب تہ نہیں کیا ہے، علما اور مشائخ کی صحبتِ بابرکت نے انہیں اسلام و سنیت کی خدمت کی طرف رغبت دلائی اور مسائلِ شرعیہ کی جانکاری کے لیے کمر بستہ ہوئے۔ اور جب بھی کوئی پیچیدہ مسئلہ درپیش ہوا ہے تو آپ نے اپنے مرشدِ برحق سیدی امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے علمی استفادہ کیا اور ان مسائل سے عوام کو واقف کرانے کے لیے اس کی اشاعت کر کے گھر گھر پہنچایا۔

شرفِ بیعت و خلافت

حضرت مرشدِ طریقت سیٹھ عبد الستار اسماعیل رضوی کاٹھیاواڑی کی دینی حمیت، مسلکی خدمات، رضویاتی مشن کا فروغ اور حنفیت کی اشاعت میں انتھک کوششوں کے پیشِ نظر حضرت مجددِ اعظم امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرفِ بیعت سے نواز کر سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی خلافت سے بھی مشرف فرمایا۔

جماعتِ رضائے مصطفےٰ سے وابستگی

7 ربیع الآخر 1339ھ / 17 دسمبر 1920ء کو مجددِ اعظم سیدی امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے “جماعتِ رضائے مصطفےٰ” بریلی شریف میں قائم فرمائی اور آپ ہی سرپرستِ اول قرار دیے گئے۔ اس تنظیم سے امام احمد رضا کے رفقا، مریدین، خلفا اور تلامذہ زیادہ تر منسلک تھے۔ ان میں “مخصوص عمائدینِ جماعت” میں جماعتِ اہلِ سنت کے سرخیل میں سے 18 نفوسِ قدسیہ کے اسمائے مبارکہ شامل ہیں، جن میں پہلے نمبر پر مرشدِ طریقت حضرت سیٹھ عبد الستار اسماعیل گجراتی رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی اس طور پر ہے: “(1) حضرت عبد الستار اسماعیل رضوی کاٹھیاواڑی، مقیم رنگون۔” [تاریخِ جماعتِ رضائے مصطفےٰ، ص: 44]

شدھی تحریک

اس تحریک نے راجستھان، آگرہ، راجپوتانہ اور دوسرے علاقوں کو نشانہ بنایا اور مسلمانوں کو مرتد کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس تحریک کے ذریعے فتنۂ ارتداد کی خبر جب مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف پہنچی تو جماعتِ رضائے مصطفےٰ کے مرکزی صدر حضور حجتہ الاسلام علامہ حامد رضا قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کو فتنۂ ارتداد سے بچانے کے لیے بریلی شریف سے علما اور مشائخ کے وفود مختلف علاقوں میں روانہ کرنا شروع کیے، اور اس تحریک کے سدِ باب کے لیے حضرت مرشدِ طریقت سیٹھ عبد الستار اسماعیل قادری رضوی کاٹھیاواڑی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وقت کی قربانی دے کر کثیر تعداد میں مسلمانوں کو فتنۂ ارتداد سے بچایا۔

القابات و خطابات

  1. فرار دہندہِ تھانوی از رنگون

آپ کو امامِ اہلِ سنت نے مذکورہ لقب سے اس وقت یاد کیا جب آپ نے رنگون (برما) میں دیوبندیوں کے حکیم الامت کو شکست سے دوچار کر دیا۔ جیسا کہ “تاریخِ جماعتِ رضائے مصطفےٰ” میں ہے:

“آپ کی زندگی کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ 1328ھ میں امامُ الوہابیہ مولوی اشرف علی تھانوی رنگون (برما) پہنچا، تو آپ نے مولوی تھانوی کو ایسی شکستِ فاش دی کہ تھانوی صاحب کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتے ہی بن پڑی۔ حضرت سیٹھ عبد الستار رضوی صاحب کی کامیابی پر مرشدِ برحق سیدی امام احمد رضا قدس سرہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: ‘انہوں نے رنگون کے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی’ اور ‘فرار دہندہِ تھانوی از رنگون’ کا مقدس لقب عطا فرمایا۔” [تاریخِ جماعتِ رضائے مصطفےٰ، ص: 49]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!