کامیابی (Success) | محمد رضا توصیفی

۔ کامیابی (Success)
عنوان: کامیابی (Success)
تحریر: محمد رضا توصیفی
پیش کش: مہدیا مہوتری، جنک پور، نیپال

جب ہم کامیابی یا Success کامیابی کا لفظ سنتے ہیں تو عموماً ہمارے ذہن میں دولت، قیمتی گاڑیاں، عالی شان بنگلے، بڑی بڑی عمارتیں، بلند منصب، شہرت اور دنیاوی آسائشیں آتی ہیں۔ اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ یہی کامیابی ہے۔

लेकिन کیا واقعی کامیابی صرف اسی کا نام ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کامیابی کہتے کس کو ہیں؟

کامیابی کی تعریف

سادہ الفاظ میں کامیابی سے مراد اپنے مقررہ ہدف یا مقصد کو حاصل کر لینا ہے۔

اگر ایک طالبِ علم کا مقصد امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنا ہو، ایک تاجر کا مقصد اپنے کاروبار میں ترقی کرنا ہو، یا ایک ملازم کا مقصد اپنے شعبے میں اعلیٰ مقام حاصل کرنا ہو، تو ان مقاصد کو حاصل کر لینا ان کی کامیابی کہلاتا ہے۔

लेकिन ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے بڑا، سب سے اہم اور حقیقی ہدف دنیا کی چند روزہ کامیابیاں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا، جنت کا مستحق بننا اور جہنم کے عذاب سے نجات پانا ہونا چاہیے۔

اسی لیے جب ایک مسلمان یہ جاننا چاہے کہ کون سی چیز درست ہے، کون سا معیار صحیح ہے اور حقیقی کامیابی کس چیز کا نام ہے، تو اسے اپنی خواہشات، لوگوں کی آراء یا دنیا کے بنائے ہوئے معیار کو نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب، قرآنِ مجید، اور رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

کامیاب کون؟

آئیے! اب ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں حقیقی کامیاب شخص کسے قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ [سورۃ آلِ عمران: 185]

ترجمہ: ”تو جسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی حقیقت میں کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔“

میرے پیارے قارئین کرام!
یہ آیتِ مبارکہ حقیقی کامیابی کا ایسا جامع معیار بیان کرتی ہے جس کے بعد کسی اور معیار کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حقیقی کامیابی نہ زیادہ دولت کا نام ہے، نہ بڑے بڑے محلات، نہ قیمتی گاڑیوں، نہ بلند عہدوں اور نہ ہی دنیاوی شہرت کا؛ بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کو جہنم سے نجات مل جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے جنت میں داخل فرما دے۔

یہ دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں، آسائشوں اور دلکشیوں کے باوجود عارضی ہے۔ یہاں کی دولت، شہرت، اقتدار، عزت اور ہر نعمت ایک دن ختم ہو جائے گی، لیکن آخرت کی کامیابی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

اس آیتِ مبارکہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر دنیا کی کامیابیاں انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، گناہوں اور آخرت کے نقصان کی طرف لے جائیں تو حقیقت میں وہ کامیابیاں نہیں بلکہ کھلا خسارہ ہیں۔

افسوس! آج بہت سے لوگ دنیاوی ترقی، مال و دولت، منصب اور شہرت کے حصول کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن آخرت کی کامیابی، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جہنم سے نجات کی فکر بہت کم کرتے ہیں۔

حالانکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کامیابی کی فکر کرے جو ہمیشہ رہنے والی ہے، نہ کہ اس کامیابی کی جو چند دن بعد ختم ہو جانے والی ہے۔

لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کو بنائے، ایسے اعمال اختیار کرے جو اسے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کریں، اور ہر اس گناہ اور برے عمل سے بچنے کی کوشش کرے جو اس کی حقیقی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

حقیقی کامیابی کا معیار

میرے معزز بھائیو! دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ اس دنیا میں آنے والا ہر انسان ایک نہ ایک دن اس سے رخصت ہونے والا ہے۔ نہ کسی کی دولت باقی رہے گی، نہ اقتدار، نہ شہرت اور نہ ہی دنیا کی کوئی نعمت۔ ہر انسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ [سورۃ آلِ عمران: 185]

ترجمہ: ”ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو بے شک وہ کامیاب ہو گیا۔“

محترم قارئینِ عظام!
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کی ایک ایسی حقیقت بتائی ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ وہ حقیقت موت ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک دن ہمیں اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم دنیا کی عارضی کامیابیوں کے پیچھے تو بہت دوڑتے ہیں، مگر آخرت کی دائمی کامیابی کی طرف ہماری توجہ بہت کم ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ قیامت کے دن حقیقی کامیاب وہ شخص ہوگا جسے جہنم کے عذاب سے نجات مل جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے جنت میں داخل فرما دے۔

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ظاہری کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، لیکن اگر وہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، گناہوں اور آخرت کے نقصان تک پہنچا دیں تو حقیقت میں وہ کامیابی نہیں بلکہ بہت بڑا خسارہ ہے۔

اس لیے ہر عقل مند مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر فیصلے میں یہ سوچے کہ آیا یہ کام مجھے اللہ تعالیٰ کی رضا کے قریب لے جا رہا ہے یا اس سے دور کر رہا ہے۔

ایمان پر خاتمہ ضروری ہے

ذی وقار قارئین کرام!
آخرت کی اس عظیم کامیابی کے لیے صرف نیک اعمال ہی کافی نہیں، بلکہ سب سے ضروری چیز ایمان پر خاتمہ ہے۔

اگر کسی انسان کی پوری زندگی نیکیوں میں گزری، لیکن (اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرمائے) اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہوا، تو وہ حقیقی کامیابی سے محروم ہو جائے گا۔

اسی لیے ہر مسلمان کو ہر وقت اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ خاتمہ کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

چنانچہ نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جہنم سے بچنا اور جنت میں داخل ہونا پسند کرے، اسے چاہیے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور لوگوں کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“

اس حدیثِ مبارکہ میں ہمارے لیے دو عظیم اصول بیان کیے گئے ہیں۔

  1. पहला اصول یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور پوری زندگی ایمان پر ثابت قدم رہے، تاکہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہو۔

  2. اور دوسرا اصول یہ ہے کہ وہ اپنے اخلاق کو اچھا بنائے، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، کسی پر ظلم نہ کرے، کسی کا حق نہ مارے، کسی کو تکلیف نہ دے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

اگر ہم ان دونوں اصولوں پر عمل کریں، تو ان شاء اللہ عزوجل ہم دنیا میں بھی سکون حاصل کریں گے اور آخرت میں بھی کامیابی ہمارے نصیب میں ہوگی۔

لہٰذا ہر مسلمان کی سب سے بڑی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے، فرائض و واجبات کی پابندی کرے، سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرے، نیک اعمال اختیار کرے، گناہوں سے بچے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد بنائے۔

کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دائمی کامیابی، جہنم سے نجات اور جنت کے حصول تک پہنچاتا ہے۔

کامیابی کے بنیادی اصول

میرے معزز بھائیو!
دنیا میں تقریباً ہر کام کے کچھ اصول، ضابطے اور قوانین ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان اصولوں کے مطابق محنت کرے تو کامیابی حاصل کر لیتا ہے، اور اگر ان اصولوں کو نظر انداز کر دے تو اکثر ناکامی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔

اسی طرح اگر ہم حقیقی کامیابی، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا، جنت کا حصول اور جہنم سے نجات چاہتے ہیں، تو ہمیں بھی چند بنیادی اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

1. واضح ہدف (Clear Goal)

کامیابی کے لیے سب سے پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان کا ہدف واضح ہو۔ جس شخص کا مقصد واضح نہ ہو، وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

ہم دنیا کے معاملات میں دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے لیے بڑے بڑے اہداف مقرر کرتے ہیں۔ کوئی یہ طے کرتا ہے کہ چند سالوں میں اپنا کاروبار وسیع کرے گا، کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ہدف بناتا ہے، کوئی گھر، گاڑی یا بڑی جائیداد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے اسی مقصد کو سامنے رکھ کر دن رات محنت کرتا ہے۔

لیکن افسوس!
جس زندگی کو ہمیشہ رہنا ہے، یعنی آخرت کی زندگی، اس کے لیے ہم اکثر کوئی واضح ہدف مقرر نہیں کرتے۔

حالانکہ ہم مسلمان ہیں، اور ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں، جنت میں داخل ہوں، جہنم سے نجات پائیں اور جنت میں اپنے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ کی رفاقت نصیب ہو۔

جب انسان کا مقصد واضح ہوتا ہے تو اس کی سوچ، اس کے فیصلے، اس کی محنت اور اس کا وقت بھی اسی مقصد کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ہر روز اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ میرا اصل ہدف کیا ہے؟ کیا میں اپنی زندگی اس مقصد کے مطابق گزار رہا ہوں؟

2. منصوبہ بندی (Planning)

میرے عزیز بھائیوں!
जब ہدف واضح ہو جائے تو اس کے بعد دوسرا اہم مرحلہ منصوبہ بندی کا ہے۔

دنیا میں کوئی بھی کامیاب انسان بغیر منصوبہ بندی کے کامیابی حاصل نہیں کرتا۔ وہ اپنے وقت کو منظم کرتا ہے، اپنی ترجیحات طے کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بناتا ہے۔

اسی طرح جب ہمارا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ہے، تو ہمیں بھی اپنی زندگی کا ایک واضح منصوبہ بنانا ہوگا۔

ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کون سے اعمال ہمیں اس عظیم کامیابی کے قریب کریں گے اور کون سے اعمال ہمیں اس سے دور کر دیں گے۔

قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ ہمیں اس کا واضح راستہ دکھاتے ہیں۔ اس لیے ہماری منصوبہ بندی کا مرکز یہی ہونا چاہیے کہ ہم نمازوں کی پابندی کریں، قرآنِ کریم کی تلاوت کریں، سنتوں پر عمل کریں، والدین کے حقوق ادا کریں، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، نیک اعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ہر اس گناہ سے بچنے کی کوشش کریں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔

اگر ہماری روزمرہ زندگی کا منصوبہ قرآن و سنت کے مطابق ہوگا، تو ان شاء اللہ عزوجل دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی۔

3. محنت (Hard Work)

قارئین کرام!
جب ہدف بھی واضح ہو جائے اور منصوبہ بھی تیار ہو جائے، تو اس کے بعد کامیابی کا تیسرا اور نہایت اہم اصول محنت ہے۔

صرف خواہشیں کر لینے سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی، صرف منصوبے بنا لینے سے منزل نہیں ملتی، بلکہ کامیابی کے لیے مسلسل محنت، استقامت، صبر اور عملی کوشش ضروری ہوتی ہے۔

دنیا میں بھی جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، وہ دن رات محنت کرتے ہیں، مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہمت نہیں ہارتے۔

इसी तरह अगर हमारा مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ہے، تو ہمیں بھی عبادت، نیک اعمال، سنتوں پر عمل، علمِ دین حاصل کرنے، گناہوں سے بچنے اور اپنے نفس کی اصلاح کے لیے مسلسل محنت کرنی ہوگی۔

ہمارا ہر دن پہلے دن سے بہتر ہونا چاہیے، ہر نماز پہلے سے زیادہ خشوع کے ساتھ ادا ہونی چاہیے، ہر نیکی میں اضافہ ہونا چاہیے اور ہر گناہ سے بچنے کی کوشش پہلے سے زیادہ مضبوط ہونی چاہیے۔

یاد رکھیے!
اللہ تعالیٰ محنت کرنے والوں کی محنت کو ضائع نہیں فرماتا۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔

لہٰذا اگر ہم اپنی زندگی میں ان تین اصولوں (واضح ہدف، منصوبہ بندی اور محنت) کو اپنا لیں، تو نیک اعمال ہمارے لیے آسان ہو جائیں گے، عبادت میں دل لگنے لگے گا، سنتوں پر عمل کرنے میں لذت محسوس ہوگی، اور ان شاء اللہ عزوجل جب ہماری زندگی کا اختتام ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایمان پر خاتمہ، جہنم سے نجات اور جنت الفردوس میں داخلہ عطا فرماے گا۔

محرر: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنک پور، نیپال)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!