| عنوان: | انبیاء کرام کے واقعات: حضرت سیدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام (دوسری قسط) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ابو عبید عطاری مدنی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
کنویں کا پانی اوپر آگیا
جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے ماموں کے پاس پہنچے تو وہاں قحط سالی تھی، ماموں کے پاس بہت ساری بکریاں تھیں جبکہ کنواں ایک ہی تھا اور اس کا پانی بھی کم ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے بکریاں پوری طرح سیراب نہ ہو پاتیں، ماموں نے آپ کو یہ صورتِ حال بتائی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کھڑے ہوئے اور کنویں سے ایک ڈول پانی نکالا پھر تھوڑا سا پیا اور بقیہ بچا ہوا پانی کنویں میں واپس ڈال دیا تو کنویں کا پانی اوپر آنے لگا یہاں تک کہ پہلے جہاں تک رہتا تھا اس سے بھی مزید اوپر آگیا۔ جب ماموں نے یہ حیرت انگیز معاملہ دیکھا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے اپنی خواہش ظاہر کی کہ آپ میرے پاس ٹھہر جائیں اور یہیں قیام کریں، آپ نے ماموں کی بات مان لی اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ماموں کی چھوٹی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام دیا تو ماموں نے کہا: کیا آپ کے پاس حق مہر کے لیے کچھ مال ہے تاکہ میں اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے کروں؟ آپ نے فرمایا: میرے پاس کچھ نہیں، البتہ میں حق مہر کے لیے سات سال تک تمہاری خدمت کر لوں گا، اس طرح آپ عَلَیْہِ السَّلَام سات سال تک ماموں کی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ سات سال بعد ماموں نے چھوٹی کے بجائے اپنی بڑی بیٹی کا نکاح آپ سے کر دیا، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا: ہمارے یہاں بڑی سے پہلے اگر چھوٹی کی شادی کر دی جاتی ہے تو باپ کو سخت عار و شرم دلائی جاتی ہے، کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ لوگ مجھے شرم و عار دلائیں؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام مزید پانچ یا سات سال ماموں کے کاموں کی دیکھ بھال کرتے رہے یہاں تک کہ پہلی زوجہ کے انتقال کے بعد ماموں نے اپنی چھوٹی بیٹی راحیل کا نکاح بھی آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے کر دیا۔
لعاب کی برکتیں
جب حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام اپنے گھر واپس جانے لگے تو ماموں نے کہا: میرے پاس مزید ایک سال ٹھہر جاؤ، میں آپ کو اس کا معاوضہ دوں گا، آپ نے فرمایا: مجھے کیا ملے گا؟ اس نے کہا: میں بکریوں کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا اور ایک حصے میں جو بھی بکری پیدا ہوگی وہ آپ کو دوں گا۔ آخر کار آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے ماموں کے پاس مزید ایک سال ٹھہر گئے، حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کریم نبی حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے: آپ فلاں جگہ جایئے اور وہاں کے درختوں کے پتوں کو لے کر ان پر اپنے لعاب والی پھونک ماریں پھر ان پتوں کو وادی میں پھیلا دیں، بکریاں ان پتوں کو کھائیں گی تو سب بچے نر پیدا ہوں گے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایسا ہی کیا تو ریوڑ کے اس حصے میں صرف نر بچے پیدا ہوئے۔ ماموں پر یہ بات بڑی ناگوار گزری، لہٰذا ماموں نے کہا: ایک سال مزید رک جاؤ، میں دوسرے حصے سے پیدا ہونے والی نسل میں مادہ بچے آپ کو دے دوں گا، آپ عَلَیْہِ السَّلَام مزید ایک سال وہاں ٹھہر گئے۔ حضرت جبرائیل معزَّز نبی حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہ میں دوبارہ حاضر ہوئے اور پہلا والا عمل دوبارہ کرنے کا عرض کیا، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ویسا ہی کیا تو اس بار دوسرے حصے کی بکریوں نے مادہ بچے جنے، اس طرح آپ کی بکریوں کی تعداد ماموں کی بکریوں سے بڑھ گئی۔
آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر وحی کا نزول ہوا اور حکم ہوا کہ اپنی قوم اور والد کے شہروں کی جانب روانہ ہو جائیں تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے بیوی بچوں اور مال و اسباب کو لے کر وہاں سے کوچ کر گئے۔ راستے میں ایک مقام پر فرشتوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو واپس لوٹ آنے پر خوش آمدید کہا، آخر کار آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے والد محترم حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس پہنچ گئے اور زمینِ کنعان کی بستی جبرون میں قیام فرمایا، اس کے بعد والد محترم حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام بیمار ہو گئے اور وفات پا گئے، حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے بھائی عیص کے ساتھ مل کر والد محترم کی تدفین کی۔
بادشاہ کو شکستِ فاش دی
سر زمینِ کنعان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کا نام سُحَیم بن داران تھا۔ جب اسے یہ خبر ملی کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کنعان آ چکے ہیں تو اس بادشاہ نے اپنے پورے لاؤ لشکر کو جمع کیا اور حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام سے جنگ کرنے کا ارادہ کر کے آپ کے پاس پہنچ گیا اور پوچھنے لگا: آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب دیا: میں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم کا پوتا، حضرت اسحاق کا بیٹا یعقوب ہوں، میں تمہیں خدا و وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں اور تم اس بات کا اقرار کرو کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اگر تم اللہ پر ایمان لاتے ہو تو وہ تمہیں بہت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا ورنہ میں تم سے رضائے الہی کی خاطر جہاد کروں گا۔ یہ سن کر بادشاہ غضب ناک ہو گیا اور کہنے لگا: آپ کیسے میرے ساتھ جہاد کریں گے، آپ کے پاس تو نہ لشکر ہے نہ سپاہی؟ حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے دس بیٹوں کی طرف دیکھا اور فرمایا: میں اللہ کی مدد سے، اس کے فرشتوں کی مدد سے اور اپنے بیٹوں کی مدد سے تمہارے خلاف جہاد کروں گا۔ پھر وہ وقت بھی آ گیا جب یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے جہاد شروع کر دیا، جنگ طویل ہو گئی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام بادشاہ کے محل کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے ایک بیٹے سے فرمایا: اس محل کو اللہ کے حکم سے گرادو، بیٹے نے اللہ کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا حکم سنتے ہی اپنے پاؤں کی ٹھوکر ماری تو محل کا دروازہ گر گیا، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے دُعا کی: اے اللہ! تو ہمیں فتح دے تو ہی بہترین فتح دینے والا ہے، دُعا کا اثر ظاہر ہوا اور محل کی دیواریں زمین بوس ہو گئیں، بادشاہ اور اس کا لشکر ڈوب کر مر گیا، اہل کنعان کو یہ خبر پہنچی تو ان کے دلوں میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی عظمت بیٹھ گئی اور وہ سب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپ پر ایمان لے آئے۔
