| عنوان: | احکام تجارت (پہلی قسط) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مسئلہ نمبر 1: بیع استصناع میں پہلے سے تیار شدہ مال بیچنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم سرجیکل آئٹم آرڈر پر بناتے ہیں۔ بعض اوقات ہمارے پاس پہلے سے ہی کچھ آئٹم موجود ہوتے ہیں تو آرڈر آنے کے بعد نئے سرے سے مینوفیکچرنگ کرنے کی بجائے اپنے پاس پہلے سے موجود آئٹم جو کہ کسٹمر کی ڈیمانڈ کے مطابق ہوتے ہیں، اٹھا کر دے دیتے ہیں، کیا ہمارا ایسا کرنا درست ہے؟
الجواب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ:
پوچھی گئی صورت میں آپ کا آرڈر آنے کے بعد پہلے سے تیار شدہ سامان کسٹمر کو دینا، جائز ہے جبکہ وہ سامان کسٹمر کی ڈیمانڈ کے مطابق ہو۔
مسئلے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ آپ کا مذکورہ طریقے پر آرڈر پر سامان تیار کر کے بیچنا "بیع استصناع" (یعنی آرڈر کی بیع) کہلاتا ہے اور بیع استصناع میں مستصنع (آرڈر لینے والے) کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ آرڈر آنے کے بعد سامان تیار کرے یا پہلے سے تیار شدہ سامان جو کسٹمر کی ڈیمانڈ کے مطابق ہو، وہ دے دے، لہٰذا آپ کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔
بہارِ شریعت میں ہے: "استصناع میں جس چیز پر عقد ہے وہ بنائی ہوئی چیز لایا یا عقد سے پہلے بنا چکا تھا وہ لایا اور اس نے لے لی درست ہے اور عملِ معقود علیہ نہ ہو تا تو درست نہ ہوتا۔" (بہارِ شریعت، 2/808)
مسئلہ نمبر 2: ایڈوانس اجرت کی صورت میں ڈسکاؤنٹ دینے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک فیکٹری والے سے لیس ڈائی کرواتاہوں، ہر 14 گز لیس ڈائی کرنے کے 700 روپے لیتا ہے وہ یہ آفر دے رہا ہے کہ اگر آپ مجھے ڈائی کے ایڈوانس پیسے دیں تو میں آپ کو 600 روپے میں 14 گز لیس ڈائی کر دوں گا۔ کیا میں اسے ایڈوانس پیسے دے کر 700 کی جگہ 600 روپے کے حساب سے اجرت دے سکتا ہوں؟
الجواب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ:
پوچھی گئی صورت میں فیکٹری والے کے ایڈوانس اجرت کے مطالبہ پر آپ کا ایڈوانس اجرت دینا اس میں کمی کروانا جائز ہے۔
تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ آپ کا فیکٹری والے سے لیس ڈائی کروانا، عقد اجارہ ہے اور عقد اجارہ میں چند چیزوں سے اجرت کا استحقاق ہوتا ہے ان میں سے ایک پیشگی (Advance) اجرت لینے کی شرط ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں فیکٹری والے کو ڈائی کی ایڈوانس اجرت دیتے ہوئے اجرت میں کمی کروانا شرعی اعتبار سے جائز ہے اور یہ ایڈوانس دی جانے والی مکمل رقم اجرت ہے کسی قسم کا قرض نہیں ہے جس کی بنیاد پر اجرت میں کمی کروانے کو ناجائز کہا جائے۔
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: ”اجارہ میں اجرت محض عقد سے ملک میں داخل نہیں ہوتی یعنی عقد کرتے ہی اجرت کا مطالبہ درست نہیں یعنی فوراً اجرت دینا واجب نہیں اجرت ملک میں آنے کی چند صورتیں ہیں: اس نے پہلے ہی سے عقد کرتے ہی اجرت دیدی دوسرا اس کا مالک ہو گیا یعنی واپس لینے کا اس کو حق نہیں ہے، یا پیشگی لینا شرط کر لیا ہو اب اجرت کا مطالبہ پہلے ہی سے درست ہے، یا منفعت کو حاصل کر لیا مثلاً مکان تھا اس میں مدت مقررہ تک رہ لیا یا کپڑا اور رزی کو سینے کے لیے دیا تھا اس نے سی دیا، وہ چیز مستاجر کو سپرد کر دی کہ اگر وہ منفعت حاصل کرنا چاہے نہ کرے یہ اس کا فعل ہے مثلاً مکان پر قبضہ دے دیا یا اجر نے اپنے نفس کو تسلیم کر دیا کہ میں حاضر ہوں کام کے لیے تیار ہوں کام نہ لیا جائے جب بھی اجرت کا مستحق ہے۔“ (بہارِ شریعت، 3/ 110)
مسئلہ نمبر 3: غیر مسلم حکومت سے الاؤنس لینا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں کچھ عرصہ قبل پاکستان سے بیلجیم کے شہر برسلز رہنے گیا اور وہاں تقریبا ڈیڑھ سال میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی، اب میری وہ ملازمت چھوٹ گئی ہے اور میں بے روزگار ہوں، سوال میرا یہ ہے کہ یہاں کی گورنمنٹ جو کہ غیر مسلموں کی ہے وہ بے روزگاروں کو اپنی طرف سے الاؤنس دیتی ہے تو میرا گورنمنٹ سے وہ الاؤنس لینا کیسا ہے؟
الْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اللَّهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ:
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ گورنمنٹ کی پالیسی اور شرائط پر پورا اتر رہے ہیں اور کوئی دھوکا نہیں دے رہے تو آپ کا اس گورنمنٹ سے بے روزگاروں سے ملنے والا الاؤنس لینا جائز ہے کیونکہ گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والا الاؤنس آپ کے حق میں ہبہ ہے اور کافر سے ایسا ہبہ قبول کرنا جس سے مسلمان کے دین پر اعتراض نہ ہو جائز ہے، اسی طرح کافر کا مال بغیر دھوکا دیے اس کی رضامندی سے لینا جائز ہے۔
چنانچہ فتح القدیر میں ہے:
وانما یحل علی المسلم اذا كان بطريق الغدر فاذالم يأخذ غدراً فبأى طريق يأخذه حل بعد كونه برضا
ترجمہ: مسلمان پر کافر کا مال صرف اسی صورت میں حرام ہے جب دھوکے کے طور پر ہو، پس جب دھوکے کے ذریعے نہ لے تو جس طریقے سے بھی لے گا حلال ہوگا، جبکہ اس کی رضامندی سے لیا ہو۔ (فتح القدیر، 39/7)
فتاویٰ رضویہ میں ہے: "غیر ذمی سے بھی خرید و فروخت، اجارہ واستئجار، ہبہ واستيهاب بشرطها وطبا جائز۔۔ اس کا ہبہ قبول کرنا جس سے دین پر اعتراض نہ ہو۔۔ حلال ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، 14/421 ملخصاً)
