| عنوان: | امام احمد رضا اور علم تفسیرِ قرآن (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ابو الحسن مصباحی |
قرآنِ مقدس وہ منزّل کلام ہے جو تمام آسمانی کتابوں میں افضل و برتر ہے، یہ ربِّ قدیر عز اسمہ کی عظمتوں کا بے مثال شاہکار اور رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روشن معجزہ ہے، اربابِ دہر کے حق میں لاجواب چیلنج ہے، بلا شبہ اہل خرد کے لیے سر چشمۂ ہدایت اور اربابِ ایمان کے واسطے آئینۂ اصول اور دستورِ حیات ہے۔ اللہ عزّوجل فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ يَهۡدِىۡ لِلَّتِىۡ هِىَ اَقۡوَمُ﴾ کہ یہ قرآن سیدھی راہ کی رہنمائی فرماتا ہے۔ اور ایک دستورِ حیات پر عمل کے ذریعے ہی ابدی سعادتوں کا حصول ممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ زمانۂ نزول سے لے کر اب تک جس قدر اس کتابِ منزل سے اربابِ عالم کا اشتغال رہا کسی دوسری کتاب سے نہیں، اور ظاہر ہے کہ اس کی ہدایات و برکات کما حقہ فہمِ معنیٰ و مراد کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ہیں، یونہی اس کے احکام پر عمل غیر ممکن ہے، اس لیے اسلافِ کرام، فقہائے اسلام، ائمۂ عظام، محدثینِ ذوی الاحترام نے اس کتابِ ربّانی کو اپنی فکر و نظر کا محور بنایا اور اس کے الفاظ کی تشریح، معانی کی تعیین، مقامِ نزول اور اسباب و وجوہ بیان کر کے اس کے اسرار و حقائق، نکات و دقائق سے پردہ اٹھایا، جو خدمتِ قرآن کے باب میں ان کی زندگی کا بے مثال کارنامہ کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ تفسیر و ترجمہ مہتمم بالشان کام ہے۔
تفسیر کی فضیلت
اس کی اہمیت و فضیلت اس سے عیاں (اجاگر) ہو جاتی ہے کہ ربّ العزّت عز اسمہ نے خود اپنے محبوب دانائے غیوب صلّی اللہ علیہ وسلم کو مفسرِ قرآن و ترجمانِ فرقان کی حیثیتِ جلیلہ عطا فرمائی، اور آپ کی اس صفتِ کریمہ کا قرآن میں ذکر فرمایا۔ چنانچہ ارشاد ہے:
«وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ» (پ: ۱۴، سورۂ نحل، آیت: ۴۴)
اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے لیے مفسر ہونے کی یوں دعا فرمائی:
«اللهم فقهه في الدين وعلمه التأويل» (بخاری شریف)
کہ اے اللہ! انھیں دین کی سمجھ اور تاویل و تفسیر کا علم عطا فرما۔
اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کی ایک ایک آیت کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی اور کب نازل ہوئی، اور اگر مجھے کسی ایسے شخص کا سراغ مل جائے جو مجھ سے کتاب اللہ کے بارے میں زیادہ جانتا ہو اور اس کے پاس سواری کے ذریعے جانا ممکن ہو تو میں ضرور اس کے پاس جا کر علمِ تفسیر سیکھوں گا۔ (کنز الدارین اول، ص: ۱۷)
بلکہ بغیر فہمِ قرآن اس پر عمل ناممکن ہے، یوں ہی سمجھائے بغیر کسی کو اس کے احکام پر عمل کی دعوت بھی نہیں دی جا سکتی، اس لیے اس کی تفسیر و توضیح، ضرورت و حاجتِ اسلام و مسلمین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامۂ زمان امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ الاتقان میں فرماتے ہیں: "علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تفسیر کا علم فرضِ کفایہ ہے، اور تین شرعی علوم میں یہ بزرگ تر علم ہے اور بقول امام اصبہانی انسان کا عمدہ تر عمل قرآن کریم کی تفسیر ہے"۔ (فقرۃ العیون فی تذکرۃ الفنون، ص: ۳۸)
اب ذیل میں لفظِ تفسیر کی تعریف اور اس کی تاریخِ ادوار و تدوین سے متعلق قدرے تفصیل پیش کی جاتی ہے تاکہ فنِ تفسیر کی حیثیت نمایاں ہو سکے:
تفسیر کی لغوی تعریف
لفظِ تفسیر، تفعیل کا مصدر ہے، مادہ فـسـر ہے، لغت میں اس کا معنیٰ واضح کرنا، کھول کر بیان کرنا، مراد بتانا، وضاحت کرنا، کشف اور ایضاح ہے۔ چونکہ تفسیرِ قرآنی میں اس کے الفاظ و معانی کی وضاحت، اسبابِ نزول، نسخ و ربطِ آیات وغیرہ بیان کیے جاتے ہیں، اس لیے اسے تفسیر کہتے ہیں۔
قرآن کریم کی درج ذیل آیت میں تفسیر کا لغوی معنیٰ ہی مراد ہے:
«وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا» (سورة الفرقان: ۳۳)
ترجمہ: اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے۔
اصطلاحی تعریف
علمِ تفسیر کی اصطلاحی تعریف علمائے اسلام نے مختلف اور متعدّد الفاظ میں کی ہے۔ چنانچہ علّامہ زرکشی کے الفاظ یہ ہیں:
«هو علم يعرف به كتاب الله المنزل على نبيه محمد صلى الله تعالى عليه وسلم وبيان معانيه واستخراج احكامه وحكمه»
یعنی وہ ایسا علم ہے جس سے کتاب اللہ شریف کی سمجھ حاصل ہو اور اس کے معانی کی وضاحت ہو، نیز اس کے احکام و حِکَم نکالے جا سکیں۔
جب کہ ابو حیان نے البحر المحیط میں یوں تعریف کی ہے:
«وهو علم يبحث عن كيفية النطق بالفاظ القران ومدلولاتها واحكامها الافرادية والتركيبية ومعانيها التي تحمل عليها حالة التركيب وتتمات لذلك»
(یعنی تفسیر ایسا علم ہے جس میں کلماتِ قرآن کی طرزِ ادا، اس کی مدلولات، اس کے افرادی اور ترکیبی احکام اور حالتِ ترکیب میں مراد معانی اور ان سے متعلق دیگر امور سے بحث ہو)۔
ابو حیان نے خود اپنی اس تعریف کی قیدوں کے فوائد بھی ذکر کر دیے ہیں، فرماتے ہیں: "ہمارا قول «علم» بدرجۂ جنس ہے جو تمام علوم کو شامل ہے۔ ہمارے قول «يبحث عن كيفية النطق بالفاظ القران» سے مراد قرأتوں کا علم ہے، اور ہمارے قول «واحكامها الافرادية والتركيبية» سے علمِ تصریف، علمِ الاعراب اور علومِ بلاغت مراد ہیں، ہمارے قول «ومعانيها التي تحمل عليها حالة التركيب» سے مراد لفظ کا حقیقی یا مجازی معنیٰ ہے، کیونکہ کبھی ترکیبِ عبارت معنیٰ حقیقی پر حمل کرنے سے مانع ہوتی ہے، اور ہمارے قول «وتتمات لذلك» سے نسخ، اسبابِ نزول وغیرہ کا علم مراد ہے۔"
تعریفاتِ مذکورہ کی روشنی میں ایک مختصر اور جامع تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ: "تفسیر ایسا علم ہے جس میں بقدرِ طاقتِ انسانی قرآن مجید کے ان احوال سے بحث کی جائے کہ جن سے مرادِ الٰہی حاصل ہو سکے۔" یہ تعریف ان تمام چیزوں کو شامل ہے جن پر فہمِ معنیٰ اور بیانِ مراد موقوف ہو۔
علمِ تفسیر کا موضوع، غرض و غایت
موضوع: قرآنی آیات اس حیثیت سے کہ ان کے معانی و مطالب اور مقاصد بیان کیے جائیں۔
غرض و غایت: دارین کی سعادت و برکت حاصل کرنا۔
الحاصل دیگر علوم کی طرح اس علم کی تینوں چیزوں یعنی تعریف، موضوع، اور غرض و غایت کی معرفت ضروری ہے، ورنہ علمِ تفسیر کی جانب طبعی رجحان ہوگا نہ اس کے دوسرے علوم سے امتیاز حاصل ہو سکے گا، اور نفس کی توجہ بھی کسی علم کی طرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب اس کا من وجہٍ تصوّر ہو۔
علمِ تفسیر کے مراحل و ادوار
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم قرآن کریم کے جملہ اسرار و دقائق سے من جانب اللہ واقف تھے، اس لیے ان کے زمانۂ ظاہر تک صحابۂ کرام قرآن کے الفاظ و معانی، آیات وغیرہ سے متعلق ہر مشکل کے حل کے لیے براہِ راست ان کی طرف رجوع لاتے اور وہ توضیح و تشریح فرما کر تشفیِ خاطر فرماتے۔ اس اعتبار سے روئے زمین پر سب سے پہلے اور سب سے بڑے مفسر و ترجمانِ قرآن خود رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔
دورِ اول (عہدِ صحابہ):
یہ صحابہ کا دور ہے، اس میں صحابۂ کرام عموماً اور خلفائے عظام خصوصاً قرآن کی تفسیر و تشریح کی طرف متوجہ ہوئے کہ آیاتِ قرآنیہ سیکھتے پھر ان کے معانی و مطالب سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے اور آپس میں بھی ایک دوسرے سے معلومات کرتے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں: "ہم میں سے جب کوئی دس آیتیں سیکھ لیتا تو ان سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتا تھا جب تک ان کے معانی و مطالب نہ جان لیتا اور ان پر عمل پیرا نہ ہو جاتا"۔ (جامع الاحادیث، ج: ۷، ص: ۲۱)
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "قسم بخدا! جو آیت نازل ہوئی تو میں نے اس کے بارے میں یہ ضرور جانا کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی"۔ (جامع الاحادیث، ج: ۷، ص: ۲۵)
غرض یہ کہ صحابۂ کرام نے علمِ قرآن کی اشاعت و تحصیل کی سعیِ تمام کی۔ ترجمان القرآن رئیس المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت اُبی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم قرآنی تفسیر اور اس کے معانی و مطالب کی تشہیر و ترویج میں بہت نمایاں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے مکہ شریف، حضرت ابی بن کعب نے مدینہ شریف اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے عراق میں تفسیرِ قرآن کے مدرسے قائم کر دیے، جن سے ایک بڑی جماعت عالم اور مفسر بن کر تیار ہوئی، ان میں چند یہ ہیں: سعید بن جبیر، مجاہد، عکرمہ، طاؤس بن کیسان یمانی، عطا بن ابی رباح، ابو العالیہ، محمد بن کعب القرظی، زید بن اسلم، علقمہ بن قیس، مسروق، اسود بن یزید، مرہ ہمدانی، حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہم۔
اس دور کی خصوصیات یہ ہیں کہ قرآن کی پوری تفسیر بیان نہ ہوتی بلکہ جس آیت کے سمجھنے میں دشواری ہوتی اس کی وضاحت کر دی جاتی۔ صحابۂ کرام اجمالی معنی پر اکتفا کرتے، تفصیلات سے گریز رکھتے، اس میں تفسیر کی کوئی منظّم جداگانہ صورت نہ تھی، بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول آیات کی تشریح و توضیح احادیثِ کریمہ کے ضمن میں ہوتی تھی۔ تفسیر ابن کعب (م ۳۵ھ) اور تفسیر ابن عباس (م ۶۸ھ) اس دور کی اہم تفسیریں ہیں۔ تفسیر ابی بن کعب کا ایک بڑا نسخہ جس کو ابو جعفر رازی (۱۶۰ھ) بواسطہ ربیع بن انس (م ۱۴۰ھ) عن ابی العالیہ رباحی (م ۹۰ھ) روایت کرتے تھے، امام ابن جریر (م ۳۱۰ھ)، ابن ابی حاتم (م ۳۲۷ھ) اور امام احمد بن حنبل (م ۲۴۱ھ) نے اس سے روایت لی ہیں۔ تفسیرِ عباسی حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفاسیر کا مجموعہ ہے، ابو جعفر نحاس (۳۳۸ھ) نے اس سے روایت لی ہے، اس لیے یہ نسخہ چوتھی صدی تک موجود تھا اور اب بھی متفرق کتب خانوں میں اس کے نسخے موجود ہیں۔ (کنز الدارین مقدمہ)
دورِ دوم (عہدِ تابعین):
یہ دور تابعین کا ہے۔ اہل مکہ قرآن کریم کی تفسیر میں ممتاز تھے کیونکہ وہ عبد اللہ بن عباس (م ۶۸ھ) کے شاگرد تھے، جیسے مجاہد (م ۱۳۲ھ)، عطا بن رباح (م ۱۱۲ھ)، عکرمہ (م ۱۰۵ھ)، سعید بن جبیر (م ۹۵ھ)۔ اور کوفہ میں عبد اللہ بن مسعود (م ۳۴ھ) کے شاگرد سب سے زیادہ تفسیر جاننے والے ہیں، جیسے علقمہ (م ۶۲ھ)، حسن بصری (م ۱۱۰ھ) وغیرہ۔ اور علمائے اہل مدینہ میں جیسے زید بن اسلم (م ۱۳۶ھ) اور مجاہد (م ۱۲۳ھ) اس پایہ کے شخص ہیں کہ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ تفسیر میں مجاہد کا قول مل جائے تو وہ تمہیں کافی ہے۔
اس دور میں ہمیں تفسیری ارتقا میں کچھ مخصوص میلانات و رجحانات کا پتہ چلتا ہے، عہدِ صحابہ کے مقابلے میں اختلاف کی خلیج گہری ہو گئی اور مذہبی اختلافات کی بنیاد بھی اسی دور میں پڑی، ہر شہر کے رہنے والے اپنے شہر کے امام و عالم کے اقوال سے استفادہ کرنے لگے۔ اہل مکہ حضرت ابن عباس سے، اہل مدینہ حضرت ابی بن کعب سے اور اہل عراق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کی، اسی دور میں تفسیر کے اندر اسرائیلی روایات کی ملاوٹ کا سلسلہ شروع ہوا۔
دورِ سوم (عہدِ تبع تابعین):
یہ دور تبع تابعین کا ہے، اس دور کے مفسرین صحابہ اور تابعین کے اقوال اپنی تفسیر میں بیان کرتے ہیں، اس دور کے اہم مفسرین میں سفیان بن عیینہ (۱۹۸ھ)، وکیع بن الجراح (۱۹۷ھ) اور یزید بن ہارون (۲۰۶ھ) بہت مشہور ہیں، ان مفسرین کا مطمح نظر عمل تھا، عمل ہی کے ذریعہ یہ حضرات قرآن کا مطلب سمجھتے اور سمجھاتے تھے۔
دورِ چہارم:
یہ دور تیسری صدی ہجری میں گزرا، اس دور میں ایک آیت کے لیے زیادہ سے زیادہ روایات جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، ان کا مقصود عمل سے زیادہ اقوالِ صحابہ و تابعین کا جمع کر دینا تھا، اس دور کی اہم تفاسیر میں تفسیر ابن جریر طبری (م ۳۱۰ھ) کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس دور میں تدوین کتب کا عام رواج ہو گیا تھا، صحاحِ ستہ کی تالیف اسی دور میں ہوئی، قرآن کریم کی مکمل تفسیر لکھی جانے لگی، تفسیر بالماثور کی حدود میں رہتے ہوئے قرآن کریم، حدیث شریف، اقوالِ صحابہ و تابعین کی روشنی میں تفسیریں لکھی گئیں، مگر ان میں ایک تبدیلی یہ آئی کہ پہلے کی طرح اسناد کی شرط باقی نہ رہی۔ (اردو تفاسیر بیسویں صدی میں، ص: ۷)
دورِ پنجم:
اس دور میں بہت تفسیریں لکھی گئیں، لیکن اس دور کے مفسرین اپنی تفسیروں میں اکابرین کے اقوال کو نقل کرتے مگر ان کی اسناد کو حذف کر دیا کرتے تھے۔ اس کا ایک فائدہ تو ضروری یہ ہوا کہ عبارت میں تخفیف اور محنت میں کمی ہو گئی، مگر بڑی خرابی یہ پیدا ہوئی کہ اقوالِ صحیح، سقیم اور علیل بھی جل گئے۔ اس دور کے اہم مفسرین میں ابو عبد الرحمن نیشاپوری (۴۱۲ھ) اور ابو اسحاق احمد ثعلبی (۴۲۷ھ) خصوصی شہرت کے حامل ہیں۔
دورِ ششم:
اس دور میں ہر جماعت اور ہر ایک اہل فن نے اپنے نقطۂ نظر یا رجحانِ طبع کے مطابق تفسیریں لکھیں، جو نحوئین کی جماعت تھی ان کے نزدیک تفسیر نام تھا اعرابِ نحوی، قواعدِ نحوی اور اس کے مناسبات کے بیان کا۔ جو اخباری یا تاریخی ذوق رکھتے تھے ان کی توجہ قصص اور اخبار کی طرف تھی، فلسفہ سے دلچسپی رکھنے والوں نے اپنی تفاسیر حکما اور فلاسفہ کے اقوال سے بھر دیں جن کی علمِ تفسیر میں کوئی ضرورت نہ تھی۔ فخر الدین رازی (م ۶۰۶ھ) اور ابو القاسم زمخشری (م ۵۳۸ھ) کی تفسیریں اسی نوعیت کی ہیں۔
عصرِ تدوین اور دیگر علوم کا امتزاج
عصرِ تدوین (اواخر عہدِ بنی امیہ) سے پہلے تک عام طور پر تفسیری روایات کا سرمایہ زبانی طور پر منتقل ہوتا رہا، عصرِ تدوین کے آغاز میں تفسیری روایات کو کتبِ احادیث میں ایک مستقل اور جداگانہ باب میں جگہ دی جاتی تھی، لیکن آگے چل کر تفسیر نے باقاعدہ ایک الگ فن کی شکل اختیار کر لی اور اس کے بعد بہت سارے لوگوں نے ایسی تفاسیر کی تالیف کا آغاز بھی کر دیا جن میں اسناد ذکر کیے بغیر ہی تفسیری روایات ذکر کی جانے لگیں۔ جس سے صحیح اور سقیم روایات باہم خلط ملط ہو گئیں اور اس کا برا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ان میں مندرجہ تمام روایات کو صحیح اور معتبر سمجھنے لگا۔
لیکن بایں ہمہ اب تک تفسیر میں روایاتِ ماثورہ پر ہی اعتماد کیا جاتا تھا، البتہ بعد میں تفسیر بالماثور پر انحصار باقی نہ رہ گیا اور ماثور و غیر ماثور تفسیری اقوال کا باہم امتزاج ہو گیا۔ پھر جب علومِ لغت اور نحو وغیرہ مدوّن ہوئے اور فقہی مذاہب کا ظہور ہوا اور مسائلِ کلام میں اختلاف رونما ہوا اور کتبِ فلاسفہ عربی میں منتقل ہوئیں تو علمِ تفسیر میں ان تمام علوم کا بھی امتزاج ہو گیا۔ اور اس کے بعد ہر فن سے خصوصی شغف رکھنے والوں نے اپنی تالیف کردہ تفسیری کتاب میں اپنے فنِ اختصاص کا رنگ غالب رکھا، چنانچہ نحوی اپنی تفسیر میں وجوہِ اعراب کا مکمل شرح و بسط سے بیان کرنے لگا، زجاج، واحدی اور ابو حیان کی تفاسیر پر یہی رنگ چھایا ہوا ہے۔
ماہرینِ علومِ عقلیہ اپنی تفسیر میں حکما و فلاسفہ کے افکار و نظریات ذکر کرنے اور اسلامی نظریات سے متصادم آراء کی تردید و ابطال کو ترجیحی حیثیت دینے لگے اور علم پر اپنی توجہات مرکوز کرنے لگے۔ اور صوفیائے کرام نے اپنے مشرب کے لحاظ سے قرآن حکیم کی تفاسیر لکھیں، حتیٰ کہ بدمذہب اپنی بدمذہبیت کو فروغ دینے اور مقبولِ انام بنانے کے لیے فاسد تاویلات کو تفسیر کی شکل میں رقم کرنے لگے۔ غرض ہر ماہرِ فن نے اپنے ذوق کے لحاظ سے قرآن حکیم کو اپنی فکر و نظر کا محور بنایا۔
(بحوالہ: مصنف اعظم نمبر، ص: ۱۱۴ تا ۱۱۸ / کنز الدارین، ج: ۱، ص: ۲۰)
