یوم اساتذہ: اساتذہ کی کچھ باتیں

یوم اساتذہ: اساتذہ کی کچھ باتیں
عنوان: یوم اساتذہ: اساتذہ کی کچھ باتیں
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی

یوم اساتذہ: اساتذہ کی کچھ باتیں

اساتذہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کی عظمت، شفقت، محبت اور احسانات کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ استاد صرف کتاب کا علم نہیں دیتا، بلکہ اپنے شاگرد کی شخصیت بناتا ہے، اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اس کی کام یابی پر خوش ہوتا ہے اور مشکل وقت میں اس کا سہارا بھی بنتا ہے۔

میرے محترم اساتذہ کی کچھ باتیں:

❶ اساتذہ اپنے شاگرد کی کامیابی اور ترقی سے جس قدر خوش ہوتے ہیں، شاید دوسری چیزوں سے اتنے خوش نہ ہوں۔ میرے ایک استاذ گرامی ہیں، جب مجھے زندگی میں کچھ کامیابیاں حاصل ہوئیں تو وہ اس قدر خوش ہوئے کہ میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ ان کی خوشی دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ استاد کے دل میں اپنے شاگرد کے لیے کتنی محبت ہوتی ہے۔

❷ ہمارے اساتذہ اپنے تلامذہ کی حوصلہ افزائی بھی بہت کرتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ انسان کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے میں حوصلہ افزائی کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ میری کتاب "تذکرۃ المصنفین" اور "شہر مصطفیٰﷺ" کی اشاعت کے موقع پر میرے اساتذہ کرام نے میری بہت حوصلہ افزائی فرمائی اور ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری ایک کتاب شائع ہونے والی تھی۔ میرے سب سے عزیز استاذ گرامی نے کتاب کی اشاعت کے لیے مجھے 500 روپے دیے تھے، میرے لیے اس کی قدر بہت زیادہ تھی۔ اس وقت مجھے جو خوشی ہوئی تھی، اسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو دل خوش ہو جاتا ہے۔

❸ استاد اپنے شاگرد کی عزت صرف خود ہی نہیں کرتا بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی اپنے شاگرد کی عزت پیدا کرتا ہے۔ میرے ایک استاذ گرامی کے ایک انتہائی عزیز اور کام یاب شاگرد مفتی صاحب ہیں۔ ایک مرتبہ جب وہ اپنے استاذ کے جامعہ میں تشریف لائے تو استاذ گرامی نے اپنے شاگرد کا جس شان دار انداز میں استقبال کروایا، وہ منظر دیکھ کر آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جامعہ کے باہر سے اندر تک طلبہ ہاتھوں میں پھول لیے ادب و احترام کے ساتھ قطار بنائے اپنے استاذ کے اس قابلِ فخر شاگرد کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ یہ منظر استاد اور شاگرد کے درمیان محبت و تعلق کی ایک خوب صورت مثال تھا۔ ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا۔ میں اپنے دو محترم اساتذہ کرام کے جامعہ میں حاضر ہوا۔ انہوں نے طلبہ کے درمیان نہ صرف میرا بیان کروایا بلکہ میری حوصلہ افزائی اور عزت افزائی کی انتہا تو اس وقت محسوس ہوئی جب دونوں اساتذہ کرام اول تا آخر میرے بیان میں موجود رہے۔ میرے لیے یہ لمحہ نہایت خوشی اور اعزاز کا تھا۔

❹ استاد یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کا شاگرد کسی آزمائش، مصیبت یا پریشانی میں مبتلا رہے۔ یہ بات میں صرف کتابوں میں نہیں پڑھتا بلکہ ذاتی تجربے اور مشاہدے سے کہہ رہا ہوں۔ ایک مرتبہ میں بہت بڑی آزمائش میں تھا، ایسی آزمائش جسے بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ اسی دوران میرے ایک استاذ گرامی نے مجھے فون کیا، میرے پورے حالات دریافت کیے، میری کیفیت کا جائزہ لیا اور پھر میری ٹھیک ٹھاک مدد فرمائی۔ ان کی وہ شفقت، محبت اور مدد ایسی ہے جسے میں مرتے دم تک نہیں بھول سکتا۔

یہی تو استاد ہے! جو شاگرد کی کامیابی پر خود خوش ہوتا ہے، جو اس کی ناکامی پر فکر مند ہوتا ہے، جو اسے آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیتا ہے، جو اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھتا ہے، اور جو مشکل وقت میں اپنے شاگرد کا سہارا بنتا ہے۔ یقیناً میرے الفاظ میرے اساتذہ کرام کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میرے اساتذہ میری زندگی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہیں۔

رب کریم میرے تمام اساتذہ کرام کو سلامت رکھے، ان کا سایۂ شفقت ہمارے سروں پر قائم رکھے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ ان کا ادب و احترام کرنے والا بنائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ

عمران رضا عطاری مدنی (بنارس)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!