حجیتِ حدیث احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

حجیتِ حدیث احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں (قسط دوم)
عنوان: حجیتِ حدیث احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں (قسط دوم)
تحریر: محمد شفیع احمد عطاری رضوی

جہاں متعدد آیاتِ مقدسہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و پیروی کا حکم دیا گیا ہے، وہیں بے شمار احادیثِ مبارکہ میں بھی پیروئ رسول اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم وارد ہوا ہے۔

اس حوالے سے ذیل میں فقط پانچ احادیثِ مبارکہ سپردِ قرطاس کی جاتی ہیں:

۱. حضور کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے!

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ملائکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے:

فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ

ترجمہ: جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی، تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی؛ اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی؛ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم (اچھے اور برے) لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ (صحیح البخاری)

۲. جس نے انکار کیا وہ داخلِ جنت نہ ہوا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى

ترجمہ: میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی مگر وہ شخص جس نے انکار کیا۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کس نے انکار کیا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ (صحیح البخاری)

۳. مجھے قرآن اور اس کے مثل دیا گیا!

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ، يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرَّمُوهُ...

ترجمہ: سنو! مجھے قرآن بھی دیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کے مثل (حدیث) بھی۔ سنو! قریب ہے کہ کوئی پیٹ بھرا تکیہ لگائے ہوئے یہ کہنے لگے کہ لوگو! تمہیں یہ قرآن کافی ہے، بس جو چیز اس میں حلال ملے اس کو حلال سمجھو اور جو حرام ملے اسے حرام سمجھو۔ سنو! تمہارے لیے پالتو گدھا حلال نہیں اور نہ ہی شکاری درندے، اور نہ تمہارے لیے کسی ذمی کی پڑی ہوئی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے۔ (سنن ابی داؤد)

۴. میری اور خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کرو!

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، وَسَتَرَوْنَ مِنْ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

ترجمہ: تم اللہ سے ڈرو، اور امیر (سربراہ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی لازم ہے، اسے دانتوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو۔ اور دین میں نئی باتوں سے بچو؛ کیونکہ ہر بدعت (جو دین سے متصادم ہو) گمراہی ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

۵. میں کوئی حدیث بیان کروں، تو اسے لے لو!

حضرت موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا کھجوروں کے پاس کچھ لوگوں پر گزر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: یہ لوگ کھجوروں میں قلم لگا رہے ہیں یعنی نر کھجور کو مادہ کھجور کے ساتھ ملا رہے ہیں جس سے وہ پھل دار ہو جاتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گمان میں یہ عمل ان کو کسی چیز سے مستغنی نہیں کرے گا۔ جب ان صحابہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی خبر ہوئی تو انہوں نے یہ عمل ترک کر دیا۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْنَعُوا، فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا فَخُذُوا بِهِ فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ: اگر ان کو اس میں فائدہ ہے تو کرتے رہیں، میں نے گمان کیا تھا، تو تم میرے گمان پر میرا مؤاخذہ نہ کرو، البتہ جب میں تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات (حدیث) بیان کروں تو اسے لے لیا کرو؛ کیونکہ میں خدائے عزوجل پر کوئی غلط بات نہیں کہتا۔ (صحیح مسلم)

حاصلِ کلام

ذی وقار قارئین! اگر آپ بھی تعصب کا عینک اتار کر ماقبل ذکر کردہ آیاتِ مقدسہ اور احادیثِ شریفہ کا مطالعہ کریں گے تو فقیر قادری کو آپ کی ذات سے امیدِ قوی ہے کہ آپ بھی برملا اس بات کا اعتراف کریں گے کہ فقط قرآن کو ماننا اور دین و شریعت کو اسی پر ہی منحصر کرنا ہرگز کسی عقلمند و ذی شعور و ذی فہم کا کام نہیں۔ لیکن ہاں! جو اپنی بات کو ہی حرفِ آخر سمجھنے لگے، خود کو ہی کامل کہے اور اپنے علاوہ کسی کی کوئی بات سننے کو پسند نہ کرے، تو اس کی یہ بات ("قرآن ہی کافی ہے، حدیث کی ضرورت نہیں") حماقت و مجنونیت سے خالی نہیں۔

نیز یہ بات بھی ہر اربابِ علم و دانش پر اظہر من الشمس اور ابین من الامس ہے کہ فقط قرآن کو ہی سب کچھ سمجھنا اور حدیثِ پاک سے روگردانی کرنا حقیقت میں قرآن کو ہی نامکمل بتانا ہے۔ یاد رکھیں! نبی کریم ﷺ کا ہر ہر فرمان گویا کہ وحیِ الٰہی ہے، جس کا اعلان خود قرآن یوں کرتا ہے:

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ۝ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى ۝

ترجمہ (کنز الایمان): اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے۔ (سورۂ النجم: ۳-۴)

لہٰذا اس بات پر سرِ تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں کہ جہاں قرآنِ مجید احکامِ شرعیہ کے ثبوت و تقرر کے لیے ماخذِ اول کی حیثیت رکھتا ہے، وہیں احادیثِ مبارکہ بھی شرعی احکام کی معلومات و اثبات کے لیے ماخذِ ثانی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!