| عنوان: | مسکرانا بھی ضروری ہے، مگر عقل و احتیاط کے ساتھ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
دین اسلام رحمت، محبت اور حسن اخلاق کا دین ہے۔ شریعت مطہرہ ہمیں دوسروں کے ساتھ نرمی، شفقت، خندہ پیشانی اور اچھے اخلاق سے پیش آنے کی تعلیم دیتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
لیکن اسلام نے جہاں حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے وہیں عقل و احتیاط کا دامن تھامنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ہر شخص پر بلا تحقیق اعتماد کرنا، یا جذبات میں آکر کوئی ایسا کام کر بیٹھنا جس سے نقصان اٹھانا پڑے، دانش مندی نہیں۔
لوگوں میں مشہور ایک حکایت ہے کہ ایک نوجوان نے ایک خاتون کو اپنی ماں سمجھ کر “امی جی” کہا، بعد میں معلوم ہوا کہ خاتون نے اپنی خریداری کا بل بھی اسی کے کھاتے میں شامل کرا دیا۔
ایک بیس بائیس سالہ نوجوان ہائپر اسٹار میں داخل ہوا اور کچھ خریداری کر ہی رہا تھا کہ اسے محسوس ہوا کہ ایک خاتون اس کا تعاقب کر رہی ہے۔ اس نے پہلے تو اسے اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کیا، مگر وہ خاتون مسلسل اس کے پیچھے چلتی رہی۔ آخرکار نوجوان نے مڑ کر پوچھا، “امی جی! خیریت تو ہے؟”
خاتون نے نم آنکھوں سے جواب دیا، “بیٹا! تمہاری شکل میرے مرحوم بیٹے سے بہت زیادہ ملتی جلتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں تمہیں اپنا بیٹا سمجھ کر تمہارے پیچھے چل پڑی ہوں۔” یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نوجوان نے محبت سے کہا، “کوئی بات نہیں امی جی! آپ مجھے اپنا بیٹا ہی سمجھیں۔”
خاتون بولی، “بیٹا! کیا ایک مرتبہ پھر مجھے امی جی کہہ دو گے؟” نوجوان نے بلند آواز میں کہا، “جی امی جی!” مگر خاتون نے گویا نہ سنا۔ نوجوان نے دوبارہ اونچی آواز میں کہا، “جی امی جی!” اب خاتون نے آگے بڑھ کر نوجوان کے دونوں ہاتھ پکڑے، انہیں چوما، اپنی آنکھوں سے لگایا اور روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
یہ منظر دیکھ کر نوجوان بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، اس کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے، اور وہ اپنی خریداری مکمل کیے بغیر واپسی کے لیے کاؤنٹر پر پہنچ گیا۔ کیشیئر نے اسے دس ہزار روپے کا بل تھما دیا۔ نوجوان حیران ہو کر بولا، “دس ہزار روپے کیسے؟” کیشیئر نے جواب دیا، “آٹھ سو روپے آپ کی خریداری کے ہیں، جبکہ نو ہزار دو سو روپے آپ کی والدہ کی خریداری کے ہیں، جنہیں آپ ابھی امی جی، امی جی کہہ رہے تھے۔”
وہ دن ہے اور آج کا دن، وہ نوجوان اپنی حقیقی امی کو بھی “خالہ جان” کہہ کر پکارتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک مزاحیہ حکایت ہے، مگر اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو حسن اخلاق کے ساتھ ساتھ ہوشیاری اور معاملہ فہمی بھی اختیار کرنی چاہیے۔
دین اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ مسلمان خوش اخلاق، رحم دل، سچا اور امانت دار ہو، مگر دھوکے سے بھی اپنے آپ کو بچائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَآ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو۔
يَآ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ [سورۃ النساء: 29]
ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے ناجائز طریقے سے مال لینے کو حرام فرمایا ہے، جیسے دھوکہ، فریب، خیانت، رشوت، چوری اور باطل معاملات وغیرہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈالا تو اندر نمی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي [رقم الحديث: 102]
ترجمہ: تم نے گیلا حصہ اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کریں، مسکرا کر ملیں، بزرگوں کا احترام کریں، مگر ہر معاملے میں عقل، احتیاط اور شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا اور کامیاب زندگی کا راستہ ہے۔
ہر مسکراہٹ پہ ہرگز نہ کر لینا اعتبار
عارفؔ احتیاط ہی ہے مؤمن کا بہترین حصار
