| عنوان: | آخری نبی محمدِ عربی ﷺ کے سونے کا انداز |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد ناصر جمال عطاری مدنی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
۳۔ امّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سوتے وقت تین مرتبہ یہ دعا فرماتے:
اَللّٰهُمَّ قِنِیْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
ترجمہ: "اے اللہ! جب تو (قیامت میں) اپنے بندوں کو اٹھائے، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لینا۔" (۱)
۴۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا فرماتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَ كَفَانَا وَ اٰوٰانَا فَكَمْ مِّنْ لَّا كَافِیَ لَهٗ وَلَا مُؤْوِیَ
ترجمہ: "خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہمیں کفایت کی اور ہمیں پناہ دی، کیونکہ بہت سے لوگ وہ ہیں جنہیں نہ کوئی کافی ہے اور نہ پناہ دینے والا۔" (۲)
۵۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سونے سے پہلے یہ دعا پڑھنے کی تلقین کی:
اَللّٰهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَـتَـوَفَّاهَا، لَـكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، اِنْ اَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَاِنْ اَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ الْعَافِيَةَ
ترجمہ: "اے اللہ! تو نے میری ذات کو پیدا کیا اور تو ہی اسے موت دے گا، اس کا مرنا اور اس کا جینا تیری ہی خاطر ہے (تو ہی اسے زندگی دینے اور اس کی زندگی لینے کا مالک ہے، تیرے سوا ان دونوں کا کوئی مالک نہیں ہے)۔ اگر تو اسے زندگی دے (اور جو کام تجھے ناپسند ہیں ان میں پڑنے سے) تو اس کی حفاظت فرما اور اگر تو اس کو موت دے تو اس (کے گناہوں) کو بخش دے، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت مانگتا ہوں۔"
ایک شخص نے پوچھا: کیا آپ نے یہ دعا (اپنے والد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ جواباً فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی بہتر شخصیت یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے سنی ہے۔ (۳)
۶۔ حضرت ابو اظہر انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم رات کے وقت سوتے ہوئے یہ پڑھتے:
بِسْمِ اللهِ وَضَعْتُ جَنْبِیْ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ، وَاَخْسِأْ شَيْطَانِیْ، وَفُكَّ رِهَانِیْ، وَاجْعَلْنِیْ فِی النَّدِیِّ الْاَعْلٰى
ترجمہ: "اللہ کا نام لے کر میں نے اپنی کروٹ رکھ دی، الٰہی میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دور فرما دے، میرا رہن چھڑا دے اور مجھے اعلیٰ مجلس میں داخل فرما۔" (۴)
توضیح: "میرے گناہ" سے مراد یا تو میری امت کے گناہ ہیں یا (میری امت کی) خطائیں مراد ہیں یا یہ لفظ ہماری تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضور گناہوں سے معصوم ہیں۔ شیطان سے مراد انسانی شیطان ہیں یا قرین شیطان ہے، رب تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی کہ آپ کا قرین شیطان مومن ہو گیا۔ 'اخساء' بمعنی کتے کو دھکارنا ہے۔ 'رہن' گروی چیز کو کہتے ہیں، یہاں مراد اپنی ذات ہے کیونکہ انسان کی ذات اپنے اعمال میں گروی ہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ﴾ (ترجمہ کنزالعرِفان: ہر آدمی اپنے اعمال میں گروی ہے)، یعنی مجھے نیک اعمال کی توفیق دے کر میرے نفس کو گروی ہونے سے چھڑا دے۔ (۵)
تسبیحات پڑھنے کی مبارک تلقین
ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سونے سے پہلے تسبیحات پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے، چنانچہ شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایک خدمت گار کا مطالبہ کیا تو آپ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب سونے لگو تو ۳۳ بار 'سبحان اللہ'، ۳۳ بار 'الحمد للہ' اور ۳۴ بار 'اللہ اکبر' کہو۔" (۶)
مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں نے اس دن سے کبھی بھی انہیں پڑھنا نہیں چھوڑا۔" کسی نے پوچھا: کیا صفین کی رات بھی؟ تو فرمایا: "صفین کی رات بھی میں نے انہیں نہیں چھوڑا۔" (۷)
آخری نبی کا بستر اور آرام فرمانے کا انداز
اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کبھی زمین پر، کبھی چٹائی پر اور کبھی چمڑے کے ایسے بستر پر آرام فرماتے جس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی تھی۔ ایک موٹا کھدر (انجھونا) بھی تھا، اس پر بھی آپ آرام فرماتے تھے۔ (۸)
کس انداز سے آرام فرماتے؟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنے بستر مبارک پر تشریف لاتے تو اپنی سیدھی ہتھیلی اپنے سیدھے گال مبارک کے نیچے رکھتے۔ (۹)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی خالہ امّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، آپ فرماتے ہیں: "میں بستر کی چوڑائی میں لیٹ گیا، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اس کی لمبائی میں کروٹ کے بل آرام فرما ہوئے اور سو گئے۔" اس کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے رات کی عبادت کے انداز بیان فرمائے۔ (۱۰)
دورانِ سفر آرام فرمانے کا انداز
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب رات کے آخری حصے میں کہیں پڑاؤ فرماتے تو اپنی سیدھی کروٹ پر آرام فرماتے اور جب صبح سے کچھ پہلے کہیں ٹھہرتے تو اپنا (سیدھا) ہاتھ کھڑا رکھتے اور اپنا سر مبارک اپنی ہتھیلی پر رکھتے۔ (۱۱)
آپ نے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سونے کا معمول تفصیل سے پڑھا، اسی انداز میں سونے کا معمول بنائیے تاکہ دین و دنیا کی برکتیں حاصل ہوں۔
حوالہ جات
(1) سنن ابوداؤد، ج ۴، ص ۴۰۴، حدیث: ۵۰۴۵
(2) صحیح مسلم، ص ۱۱۱۶، حدیث: ۶۸۹۴
(3) صحیح مسلم، ص ۱۱۱۵، حدیث: ۶۸۸۸؛ فیض القدیر، ج ۲، ص ۱۹۵
(4) سنن ابوداؤد، ج ۴، ص ۴۰۶، حدیث: ۵۰۵۴
(5) مرآة المناجیح، ج ۴، ص ۲۵
(6) صحیح البخاری، ج ۳، ص ۵۱۶، حدیث: ۵۳۶۲
(7) شرح البخاری لابن بطال، ج ۷، ص ۵۳۹
(8) مواہب اللدنیہ، ج ۲، ص ۱۸۵
(9) شمائل محمدیہ، ص ۱۵۷
(10) شمائل محمدیہ، ص ۱۶۲
(11) شمائل محمدیہ، ص ۱۶۲
