| عنوان: | نبی کریم ﷺ کی پیش گوئیاں اور اخبارِ غیب |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے ہر دور میں اپنے برگزیدہ انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان مقدس ہستیوں کی صداقت اور نبوت کی حقانیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف معجزات عطا فرمائے۔ انہی عظیم معجزات میں سے ایک اہم باب اخبارِ غیب اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کی وہ خبریں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب رسولوں کو مطلع فرمایا۔
خاتم النبیین، سید المرسلین، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز فرمایا اور اپنی مشیت و عطا سے بہت سے ایسے امور کی خبریں عطا فرمائیں جو عام انسانی علم، تجربے اور مشاہدے کی دسترس سے باہر تھیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو آنے والے فتنوں، بعض جنگوں، فتوحات، امت کے باہمی اختلافات، بعض افراد کے مستقبل اور متعدد دیگر واقعات کی خبریں دیں، اور پھر تاریخ نے ان میں سے بے شمار پیش گوئیوں کو پورا ہوتے دیکھا۔
یہاں ایک بنیادی عقیدہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ:
علمِ غیب بالذات، ذاتی اور مستقل طور پر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے، جبکہ انبیاء علیہم السلام کو جو غیبی علوم حاصل ہوتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے، وحی اور اطلاع کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔
لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخبارِ غیب، اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کی دی ہوئی اطلاع کے تحت تھے، اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقتِ نبوت اور عظمتِ رسالت کے روشن دلائل میں سے ہیں۔
1۔ علمِ غیب اور اخبارِ غیب کا صحیح اسلامی تصور
اسلامی عقیدے کے مطابق غیب کا حقیقی، ذاتی اور کامل علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ وہی ماضی، حال اور مستقبل کی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو بلاواسطہ اور کامل طور پر جانتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ﴾ [سورۃ النمل: 65]
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔
لیکن قرآنِ کریم ہی سے یہ بھی ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے منتخب بندوں اور رسولوں کو اپنی مشیت کے مطابق غیب کی بعض خبریں عطا فرماتا ہے۔
لہٰذا اہلِ اسلام کا درست عقیدہ یہ ہے کہ:
اللہ تعالیٰ: غیب کو بالذات، ذاتی، کامل اور مستقل طور پر جانتا ہے۔
انبیاء و رسل علیہم السلام: غیب کی جو خبریں جانتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا، وحی اور اطلاع کے ذریعے جانتے ہیں۔
یہی فرق علمِ غیبِ ذاتی اور علمِ غیبِ عطائی کے درمیان ہے۔
2۔ اخبارِ غیب پر قرآنی دلائل
پہلی دلیل: سورۃ الجن
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ﴾ [سورۃ الجن: 26-27]
ترجمہ: وہ غیب کا جاننے والا ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا، مگر اپنے پسندیدہ رسول کو۔
یہ آیت نہایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ غیب کا اصل علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے منتخب رسولوں کو اپنی مشیت کے مطابق غیب کی بعض خبریں عطا فرماتا ہے۔ یہی آیت اخبارِ غیبِ نبوی کی ایک مضبوط قرآنی دلیل ہے۔
دوسری دلیل: سورۃ آلِ عمران
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ﴾ [سورۃ آل عمران: 179]
ترجمہ: اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تم سب کو غیب پر مطلع فرما دے، لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے منتخب فرما لیتا ہے۔
اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عام انسانوں کو غیب پر مطلع نہیں کیا جاتا، البتہ اللہ تعالیٰ اپنے منتخب رسولوں کو اپنی مشیت کے مطابق غیبی امور کی اطلاع عطا فرماتا ہے۔
تیسری دلیل: سورۃ التکویر
اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ﴾ [سورۃ التکویر: 24]
ترجمہ: اور وہ غیب کی باتوں کے معاملے میں بخیل نہیں ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں اہلِ علم نے بیان فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو پہنچنے والی وحی اور غیبی خبروں کو امت تک پہنچانے میں بخل نہیں فرماتے۔ یہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہونے والی غیبی خبروں کے باب میں ایک اہم قرآنی دلیل ہے۔
3۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخبارِ غیب کی حقیقت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد ایسے واقعات کی خبریں دیں جو اس وقت مستقبل سے تعلق رکھتے تھے اور عام انسانی اندازے سے معلوم نہیں کیے جا سکتے تھے۔
ان میں شامل ہیں:
-
آنے والے فتنوں کی خبریں
-
بعض گمراہ گروہوں کے ظہور کی خبریں
-
امت میں اختلافات کی خبریں
-
بعض مخصوص افراد کے مستقبل کی خبریں
-
بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق پیش گوئیاں
-
اسلامی فتوحات کی خبریں
-
دشمنوں کی شکست کی خبریں
-
قیامت سے پہلے کے بعض واقعات اور علامات
ان خبروں کا بعد میں واقع ہو جانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقتِ نبوت کی عظیم دلیل ہے۔
4۔ آخری زمانے میں جھوٹے اور دھوکے باز لوگوں کا ظہور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ» [صحيح مسلم، المقدمة | مشكاة المصابيح]
مفہوم: “آخری زمانے میں ایسے جھوٹے اور دھوکے باز لوگ پیدا ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی باتیں پیش کریں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمہارے باپ دادا نے، لہٰذا تم ان سے بچ کر رہنا، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں۔”
اس حدیث سے کیا معلوم ہوتا ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو پہلے ہی خبردار فرما دیا کہ آنے والے زمانوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو جھوٹ کو حق کے لباس میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ حدیث امت کے لیے ایک عظیم اصول بھی بیان کرتی ہے کہ ہر بات کو قرآن، سنت اور معتبر دینی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔
5۔ امت میں اختلاف اور ایک گمراہ گروہ کے ظہور کی خبر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں اختلاف اور بعض گمراہ گروہوں کے پیدا ہونے کی خبریں بھی عطا فرمائیں۔ حضرت ابو ذر اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے مختلف روایات میں ایسے گروہ کا ذکر ملتا ہے جو قرآن کی تلاوت کرے گا، ظاہری عبادت میں نمایاں ہوگا، لیکن دین کی صحیح روح اور تعلیمات سے دور ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ» [صحيح البخاري | صحيح مسلم]
مفہوم: “وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔”
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم پیش گوئیوں میں سے ہے جس کا ظہور بعد کے زمانے میں خوارج کی صورت میں ہوا۔
6۔ ذو الخویصرہ کا واقعہ اور خوارج کے ظہور کی پیش گوئی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مال تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص، جسے روایات میں ذو الخویصرہ کہا گیا ہے، اس نے گستاخانہ انداز میں کہا: “اے اللہ کے رسول! انصاف کیجیے۔” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں اپنی ناراضی کا اظہار فرمایا۔
اس موقع پر بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس شخص کے خلاف کارروائی کی اجازت چاہی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«دَعْهُ، فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ» [صحيح البخاري | صحيح مسلم]
مفہوم: “اسے چھوڑ دو، کیونکہ اس کے ایسے ساتھی ہوں گے کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں کم سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔”
اس پیش گوئی کی اہمیت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے گروہ کی صفات بیان فرمائیں:
-
ظاہری عبادت میں کثرت
-
قرآن کی بکثرت تلاوت
-
دین کی ظاہری شکل پر زور
-
دین کی صحیح روح اور فہم سے محرومی
-
گمراہی اور شدت پسندی
بعد کے زمانے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں خوارج کا ظہور ہوا، اور ان کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ متعدد علامات پائی گئیں۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخبارِ غیب کی ایک عظیم مثال ہے۔
7۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں عظیم پیش گوئی
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا:
«إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [صحيح البخاري]
ترجمہ: “بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرا دے گا۔”
بعد میں یہ پیش گوئی اس وقت پوری ہوئی جب حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امت کے خون کو بچانے اور مسلمانوں کے درمیان صلح کی خاطر خلافت سے دستبرداری اختیار فرمائی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان اتحاد قائم ہوا۔ یہ واقعہ تاریخِ اسلام میں عامُ الجماعۃ کے نام سے معروف ہے۔
8۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی پیش گوئی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا:
«وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» [صحيح البخاري | صحيح مسلم]
ترجمہ: “عمار پر افسوس! اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ عمار انہیں جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اسے آگ کی طرف بلائیں گے۔”
بعد کے زمانے میں حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگِ صفین کے موقع پر شہید ہوئے اور یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی بھی پوری ہوئی۔
یہاں تاریخی واقعات کے بیان میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات کے بارے میں اہلِ سنت کا اصول ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ ہم تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب و احترام کرتے ہیں اور ان کے باہمی اجتہادی اختلافات کو ادب اور احتیاط کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
9۔ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں پیش گوئی
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے پاس بلایا اور ان سے راز کی بات فرمائی۔ ابتدا میں وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دوسری بات فرمائی تو وہ مسکرانے لگیں۔
بعد میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: “تم میرے اہلِ بیت میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملو گی۔”
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سب سے پہلے اہلِ بیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملیں۔ [صحيح البخاري | صحيح مسلم]
یہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخبارِ غیب کی ایک عظیم اور واضح مثال ہے۔
10۔ فتوحات کی خبریں اور اسلام کی پیش قدمی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں متعدد اسلامی فتوحات اور آئندہ پیش آنے والے عظیم واقعات کی خبریں عطا فرمائیں۔
مشہور روایات میں فارس اور دیگر علاقوں کی فتوحات کی بشارتیں بھی ملتی ہیں۔ ایسے مواقع پر جب مسلمان بظاہر کمزور اور مشکلات میں گھرے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عطا سے امت کے روشن مستقبل کی خبریں دیں۔
بعد کے ادوار میں اسلامی ریاست نے وسیع فتوحات حاصل کیں اور فارس و روم کے متعدد علاقوں تک اسلام کی حکومت اور اثر و رسوخ پہنچا۔
یہ واقعات اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد صرف ظاہری حالات پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی عطا کردہ بشارتوں پر قائم تھا۔
11۔ خوارج کی مخصوص علامات اور پیش گوئی کا پورا ہونا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کے بارے میں صرف عمومی خبر ہی نہیں دی بلکہ ان کی متعدد علامات بھی بیان فرمائیں۔
ان روایات میں ان کی خصوصیات کا ذکر ملتا ہے، مثلاً:
-
ظاہری عبادت میں کثرت
-
قرآن کی تلاوت
-
دین کی گہری سمجھ سے محرومی
-
شدت اور غلو
-
مسلمانوں کے بارے میں غلط طرزِ فکر
-
دین کی صحیح روح سے دوری
بعد میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت میں خوارج کا ظہور ہوا اور نہروان کے مقام پر ان کا فتنہ نمایاں ہوا۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ پیش گوئیوں کا ایک نمایاں مصداق تاریخ کے سامنے آیا۔
12۔ اخبارِ غیب اور معجزۂ نبوت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبی خبریں محض مستقبل کی باتیں نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کی عظیم دلیل ہیں۔ کیونکہ ایک انسان اپنی ذاتی طاقت سے صدیوں بعد پیدا ہونے والے گروہوں، مستقبل کے واقعات اور بعض مخصوص افراد کے انجام کو یقینی طور پر نہیں جان سکتا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے امور کی خبریں دیں اور وہ بعد میں واقع ہوئیں تو یہ بات اس حقیقت کو مزید روشن کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی اور اطلاع حاصل ہوتی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾ [سورۃ النجم: 3-4]
ترجمہ: اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ وہ تو وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
اہلِ علم نے ان آیات کے سیاق و سباق اور دائرۂ معنی پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔ ان آیات سے بالخصوص یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دین کی تبلیغ اور وحی کے معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق کلام فرماتے ہیں۔ لہٰذا دینی امور اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی خبروں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر حق اور معتبر ہے۔
13۔ اخبارِ غیب کے باب میں اعتدال اور صحیح عقیدہ
اس موضوع میں مسلمانوں کے لیے اعتدال اور صحیح عقیدہ اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
ہمیں یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ:
-
علمِ غیب بالذات صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے بہت سی غیبی خبریں عطا فرمائیں۔
-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عطائی علم، اللہ تعالیٰ کے ذاتی علم کی مانند نہیں۔
-
انبیائے کرام علیہم السلام کو جو کچھ غیب کا علم حاصل ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور اطلاع سے ہوتا ہے۔
-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اخبارِ غیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور دلائلِ نبوت میں سے ہیں۔
یہی عقیدہ قرآنِ کریم، صحیح احادیث اور اہلِ سنت کے بنیادی اصولوں کے مطابق اعتدال اور ادب پر مبنی ہے۔
حاصلِ کلام
نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت اور انسانیت کے لیے کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار فضائل، معجزات اور کمالات عطا فرمائے، اور انہی عظیم معجزات میں سے ایک اہم باب اخبارِ غیب اور نبوی پیش گوئیاں ہیں۔
قرآنِ کریم سے ثابت ہے کہ غیب کا ذاتی اور مستقل علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، لیکن وہ اپنے منتخب رسولوں کو اپنی مشیت کے مطابق غیب کی بعض خبریں عطا فرماتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے:
-
آنے والے فتنوں کی خبر دی،
-
جھوٹے اور گمراہ کرنے والے لوگوں سے خبردار فرمایا،
-
خوارج کے ظہور اور ان کی علامات بیان فرمائیں،
-
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے امت میں صلح کی پیش گوئی فرمائی،
-
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر دی،
-
سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اپنے بعد اہلِ بیت میں سب سے پہلے وصال کی خبر عطا فرمائی،
-
اور متعدد دیگر واقعات و فتوحات کے بارے میں بشارتیں اور خبریں دیں۔
پھر تاریخ نے ان میں سے بے شمار پیش گوئیوں کو حقیقت بنتے ہوئے دیکھا۔
یہ تمام حقائق اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی اور غیبی اطلاعات عطا فرمائی جاتی تھیں۔
پس مسلمان کا ایمان یہ ہے کہ:
غیب کا علم بالذات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو غیبی علوم اور خبریں عطا ہوئیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل، وحی اور عطا سے تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخبارِ غیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقتِ نبوت، عظمتِ رسالت اور معجزاتِ نبویہ کے روشن اور تابندہ دلائل میں سے ہیں۔
دعا
«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ»
اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت، کامل ادب، صحیح عقیدہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ (آمین یا رب العالمین)
