| عنوان: | اسلام میں انسانی جان کی قدر و قیمت |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عمران عطاری |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کریم نے مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کی قدر و قیمت اور اہمیت ہر ذی شعور پر عیاں اور ظاہر ہے۔ بیش بہا اور انمول نعمتوں میں سے ایک نعمت ”جان“ ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس نعمت کی قدر کرنے اور اس سے نفع اٹھانے کی ترغیب دلائی اور اسے کسی بھی طرح نقصان پہنچانے سے سختی سے منع کیا۔ دینِ اسلام کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام انسانی جان کا محافظ ہے۔
یاد رکھیے! اسلام صرف انسانی جان کا ہی نہیں بلکہ ہر جان دار چیز کی جان کی اہمیت بیان کرتا ہے اور بلا وجہ کسی کی بھی جان لینے سے منع کرتا اور ظلم و زیادتی کرنے والوں کو ”عذابِ الٰہی“ سناتا ہے۔
اسلام سے پہلے انسانی جان
اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں تو جگہ جگہ معمولی باتوں اور تنازعوں پر انسانی خون بہتا ہوا نظر آتا ہے، اس لیے کہ اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں انسانی خون کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ عرب معاشرہ معمولی باتوں پر خون بہانے کو فخر سمجھتا تھا۔ ایسے ہولناک مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں کہ آدھی آدھی صدی تک وراثت کے معاملے پر ایک دوسرے کے سر کاٹ کاٹ کر بازو شل نہیں ہوتے، دل ڈرتا نہیں کانپتا، ان سارے کارناموں پر نہ تو کوئی شرم و عار محسوس ہوتی بلکہ وہ تو انسانی جانوں کو یوں بے دریغ قتل کرنے کو اپنی بہادری کے کارناموں میں شمار کر کے خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔
بچیوں کو زندہ دفن کرنا، غلاموں کو بے وقعت جاننا، قبیلہ پرستی کے نام پر قتلِ عام کرنا اور انتقام کی آگ میں نسلوں تک لڑائیاں جاری رکھنا ان کی پہچان تھی۔ زمانہ جاہلیت میں ادنیٰ سی بات پر تلواریں نکل آتیں، گھوڑے یا اونٹ کی سبقت، پانی پلانے میں دیر یا انا کی چھوٹی سی بات نسلوں تک جاری رہنے والی جنگوں میں بدل جاتی۔ چار دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگِ بسوس اور چالیس سال تک ختم نہ ہونے والی جنگِ داحس و غبراء اسلام سے پہلے کے سیاہ کارناموں میں سے ہیں۔
چالیس سال جاری رہنے والی جنگِ بسوس کی وجہ
جنگِ بسوس دو قبائل بنو بکر اور بنو تغلب کے درمیان لڑی گئی۔ بنو تغلب سے تعلق رکھنے والا وائل بن ربیعہ ”کلیب“ کے لقب سے مشہور تھا، اس کا اثر و رسوخ بہت پھیل چکا تھا، اس نے اپنے لیے ایک ایسی چراگاہ بنوائی جس میں کسی دوسرے کو جانور چرانے کی اجازت نہیں تھی اور وہاں کی کسی چیز کو تکلیف پہنچانا بھی ممنوع تھا۔ اس نے اپنی زمینوں کے شکار کو ممنوع کر رکھا تھا، اپنے اونٹوں کے ساتھ دوسروں کے اونٹوں کی شمولیت کو حرام قرار دے دیا تھا، اس کی آگ کے ساتھ دوسری آگ جلانے کی اجازت نہیں تھی، اور ان کے گھروں کے درمیان سے گزرنا بھی ممنوع تھا۔ یہاں تک کہ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر کسی جگہ حملہ کرنے کی اجازت تک نہیں تھی، چنانچہ یہی امور ان کی آپسی جنگ کا سبب بنے۔
کلیب کی شادی قبیلہ بنو بکر میں جساس بن مرہ کی بہن سے ہوئی تھی۔ ایک دن جساس کی خالہ ”بسوس“ کے گھر ایک مہمان آیا، اس کی اونٹنی بھی تھی جو جساس کی اونٹنیوں کے ساتھ کلیب کی چراگاہ میں چر رہی تھی۔ کلیب نے منع کیا کہ اگر آئندہ یہ مجھے نظر آئی تو میں اسے قتل کر دوں گا۔ پھر کچھ دن بعد دوبارہ کلیب نے دیکھا کہ وہ اونٹنی یہاں چر رہی ہے تو اس نے ایک تیر اس کے تھن پر مار دیا۔ جب اونٹنی کے مالک کو اس کا علم ہوا تو اس نے اور بسوس نے غم کا اظہار کیا جس پر جساس نے کہا کہ میں عنقریب اس اونٹنی سے زیادہ قیمتی اونٹ کو قتل کر دوں گا (اس کی مراد کلیب کو قتل کرنا تھی)۔
چنانچہ اس نے موقع دیکھ کر کلیب کی پیٹھ میں نیزہ مارا اور اسے قتل کر دیا۔ جب اس سارے واقعے کا علم کلیب کے بھائی کو ہوا تو اس نے اپنے بال کاٹ دیے، کپڑے پھاड़ لیے اور خود پر شراب اور کھیل کود کو حرام کر لیا۔ اس نے کہا: "میں خوشبو نہیں سونگھوں گا، تیل نہیں لگاؤंगा جب تک میں کلیب کے ہر عضو کے بدلے بنو بکر بن وائل کے ایک آدمی کو قتل نہ کر دوں۔" اور پھر بالآخر جنگ شروع ہو گئی جو چالیس سال تک جاری رہی۔ (۱)
جنگِ داحس و غبراء
بنو عبس کے سردار قیس بن زہیر کا داحس نامی گھوڑا تھا اور حذیفہ بن بدر ذبیانی کا بھی ایک گھوڑا تھا جس کا نام غبراء تھا۔ یہ دونوں سردار آپس میں رشتہ دار تھے، دونوں نے گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ رکھا، جیت پر سو اونٹ انعام مقرر ہوئے۔ دوڑ شروع ہونے سے پہلے حذیفہ نے اپنی قوم کے کچھ لوگ تیار کیے اور انہیں مقررہ ہدف کے قریب بٹھا دیا کہ اگر داحس، غبراء سے آگے نکلنے لگے تو اسے تھپڑ مارنا۔ جب داحس گھوڑا غبراء سے سبقت لے جانے لگا تو حذیفہ کے آدمی عمیر نے اسے تھپڑ مار دیا۔ یوں داحس یہ مقابلہ ہار گیا۔
جب قیس بن زہیر کو واقعے کا پتہ چلا تو تکرار اور ہاتھا پائی کے بعد یہ معاملہ قتل و غارت گری تک جا پہنچا اور دونوں قبیلوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی جو کہ چار دہائیوں تک جاری رہی۔ (۲) ان دونوں جنگوں کی ابتدا کس قدر معمولی تھی لیکن انجام ہزاروں جانوں کے نقصان کی صورت میں سامنے آیا۔ اسلام سے قبل خونِ انسانی کی ناقدری اور ارزانی کو اس بات سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ وہاں قصاص کا کوئی اصول نہ تھا، طاقتور قبیلہ اگر کسی کو قتل کر دیتا تو اس کے بدلے کمزور ق
