| عنوان: | اور مجھ کو اس دور کے انسان سے ڈر لگتا ہے |
|---|---|
| تحریر: | محمد فداء المصطفیٰ قادری |
ظاہر و باطن کا تضاد
آج ہم جس دور میں زندگی گزار رہے ہیں، یہ صرف ترقی، سہولتوں اور آسائشوں کا دور نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے دور کی تصویر بھی پیش کرتا ہے جہاں انسان کا ظاہر کچھ اور اور باطن کچھ اور نظر آتا ہے۔ قدم قدم پر دکھاوا ہے، دھوکہ دہی ہے، چغلی ہے، غیبت ہے، نمیمہ ہے، خیانت ہے، حسد ہے، مفاد پرستی ہے اور طرح طرح کی اخلاقی برائیاں ہیں۔ انسان بظاہر جتنا خوب صورت اور پاکیزہ دکھائی دیتا ہے، کبھی کبھی اس کا باطن اتنا ہی خوفناک اور تاریک نکلتا ہے۔
آج بعض لوگوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نیکی اور دینداری کا ٹھیکہ انہیں ہی ملا ہوا ہے۔ لباس دیکھیں تو فرشتوں کی یاد آتی ہے، گفتگو سنیں تو تقویٰ اور دینداری کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، نماز کا ذکر ہو تو سب سے آگے، دین کی بات ہو تو سب سے نمایاں، اسلام کی حفاظت کا دعویٰ ہو تو سب سے بلند آواز انہی کی ہوتی ہے۔ ان کے ظاہر کو دیکھ کر انسان سمجھتا ہے کہ شاید یہی لوگ دین کے سچے محافظ اور شریعت کے وفادار پیروکار ہیں۔
مگر ذرا ان کے باطن کی دنیا میں جھانک کر دیکھیے! ذرا ان کے معاملات کو دیکھیے، ان کے رویوں کو دیکھیے، ان کے اخلاق کو دیکھیے، ان کی تنہائیوں کو دیکھیے، اور خاص طور پر یہ دیکھیے کہ وہ لوگوں کی غیر موجودگی میں ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ پھر معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص سامنے محبت کے پھول نچھاور کر رہا تھا، وہی پیچھے نفرت کے کانٹے بچھا رہا ہے؛ جو سامنے خیر خواہی کا دعویٰ کر رہا تھا، وہی پیٹھ پیچھے غیبت اور بدگمانی پھیلا رہا ہے؛ جو زبان سے عزت دے رہا تھا، وہی اپنی گفتگو سے کسی کی عزت خاک میں ملا رہا ہے۔
رشتوں میں بے خلوصی اور مفاد پرستی
یہی تو ہمارے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم نے ظاہر کو سنوار لیا، مگر باطن کو بھول گئے؛ لباس کو پاک رکھا، مگر دل کو پاک نہ کر سکے؛ زبان کو دین کی باتوں سے سجا لیا، مگر کردار کو دین کے رنگ میں نہ رنگ سکے۔ اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ بیماری صرف باہر کے لوگوں میں نہیں، بلکہ رشتوں کے اندر تک سرایت کر چکی ہے۔
آج بعض گھروں میں باپ اپنے بچوں کے درمیان بھی مال و دولت کی بنیاد پر فرق کرنے لگتا ہے۔ جس بچے کے پاس زیادہ پیسہ ہے، اس کی بات زیادہ اہم؛ جس کے پاس دولت ہے، اس کی عزت زیادہ؛ اور جو مالی اعتبار سے کمزور ہے، اس کی قدر و منزلت بھی کم!
کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بھائی بھائی کا نہیں رہا، بہن بھائی کی نہیں رہی، اولاد والدین کی نہیں رہی، والدین اولاد کے نہیں رہے۔ رشتے موجود ہیں مگر رشتوں میں مٹھاس نہیں، تعلقات موجود ہیں مگر تعلق میں خلوص نہیں، دوستیاں موجود ہیں مگر دوستی میں وفا نہیں۔
آخر کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے رشتوں کی جگہ مفاد کو دے دی ہے، محبت کی جگہ مال کو دے دی ہے، خلوص کی جگہ دنیاوی فائدے کو دے دیا ہے۔ آج انسان انسان کو اس لیے نہیں دیکھتا کہ وہ کون ہے، بلکہ اس لیے دیکھتا ہے کہ وہ کتنا رکھتا ہے۔ اس کے پاس دولت کتنی ہے؟ اس کا عہدہ کیا ہے؟ اس کی حیثیت کیا ہے؟ اس کا مقام کیا ہے؟ اس سے ہمیں فائدہ کتنا حاصل ہو سکتا ہے؟ بس یہی سوال ہماری ترجیحات بن گئے ہیں۔
دنیا کی دوڑ اور اخلاقی تنزلی
ہم اس دنیا کو حاصل کرنے کے لیے اس قدر بے چین ہیں کہ دنیا کی خاطر اپنے ہی لوگوں کے دل توڑنے لگے ہیں۔ دنیا میں مقام حاصل کرنے کے لیے اپنوں کو پیچھے دھکیلنے لگے ہیں۔ جاہ و جلال کے لیے دوسروں کی عزت پامال کرنے لگے ہیں۔ مال و دولت کے لیے رشتوں کو قربان کرنے لگے ہیں۔ اور اپنی کامیابی کے لیے کسی دوسرے مسلمان بھائی کی زندگی میں پریشانی پیدا کرنے سے بھی نہیں گھبراتے۔
ہم یہ نہیں سوچتے کہ جس دل کو ہم نے اپنی زبان سے توڑا ہے، اس کا درد کیا ہوگا۔ جس انسان کی عزت ہم نے لوگوں کے سامنے مجروح کی ہے، اس پر کیا گزری ہوگی۔ جس بھائی کے لیے ہم نے پیٹھ پیچھے برائی کی ہے، اگر اسے حقیقت معلوم ہو جائے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی۔
ہمیں اپنے لیے سکون چاہیے، مگر دوسرے کے سکون کی فکر نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے ساتھ برا نہ کرے، مگر ہم خود دوسروں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، اس کا حساب نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری عزت کریں، مگر دوسروں کی عزت کا خیال نہیں رکھتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری غلطیاں معاف کریں، مگر دوسروں کی چھوٹی سی لغزش کو بھی معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ کیسا زمانہ آ گیا ہے کہ مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائی کو تکلیف دینے میں وہ کام کر گزرتا ہے جسے کسی غیر سے کرتے ہوئے بھی شاید دل کانپ جائے۔
اسی لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف اپنے ظاہر کو نہیں، اپنے باطن کو بھی دیکھیں۔ صرف یہ نہ دیکھیں کہ لوگ ہمیں کیا سمجھتے ہیں، بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقت میں کیا دیکھ رہا ہے۔ لوگوں کی نظر میں ہم کتنے نیک ہیں، یہ اہم نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اللہ کی نظر میں ہم کتنے نیک ہیں۔ لوگ ہماری زبان کی مٹھاس سے متاثر ہو سکتے ہیں، ہمارے لباس سے دھوکا کھا سکتے ہیں، ہماری ظاہری عبادت سے مرعوب ہو سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کے حال سے واقف ہے۔ وہاں نہ دکھاوا چل سکتا ہے، نہ بناوٹ، نہ جھوٹی دینداری، نہ مصنوعی خلوص۔
شاعرانہ تمثیل اور انسان صفت شیطان
اور شاید اسی لیے کسی شاعر نے اس دور کی حقیقت کو چند اشعار میں اس قدر خوب صورت انداز میں بیان کر دیا:
یوں تو ہر ایک شخص کو شیطان سے ڈر لگتا ہے
اور مجھ کو اس دور کے انسان سے ڈر لگتا ہے
جس کی ہر بات میں ہو پوشیدہ نشتر کی چبھن
ایسے ہر صاحبِ احسان سے ڈر لگتا ہے
واقعی! شیطان کی دشمنی تو کھلی ہوئی ہے، اس کا کام ہی بہکانا ہے، اس کی پہچان ہی گمراہ کرنا ہے؛ مگر انسان کا معاملہ عجیب ہے۔ وہ مسکرا کر ملتا ہے اور دل میں کیا رکھتا ہے، معلوم نہیں۔ وہ محبت کے الفاظ بولتا ہے مگر ان الفاظ کے پیچھے کیا ارادہ ہے، معلوم نہیں۔ وہ احسان کرتا ہے مگر ہر بات میں ایسی چبھن رکھ دیتا ہے کہ احسان بھی بوجھ بن جاتا ہے۔
اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ آج ہمیں صرف شیطان سے نہیں، شیطان صفت انسان سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر انسان سے بدگمان ہو جائیں، ہر شخص کو برا سمجھیں یا ہر رشتے پر شک کرنے لگیں۔ نہیں! اسلام ہمیں بدگمانی نہیں سکھاتا؛ اسلام ہمیں بصیرت، احتیاط، حسنِ اخلاق اور اپنے کردار کی حفاظت سکھاتا ہے۔
اپنے باطن کی اصلاح اور پیغام
ہم دوسروں کے باطن کے فیصلے کرنے کے بجائے اپنے باطن کی اصلاح کریں۔ ہم دوسروں کی غیبت سننے کے بجائے اپنی زبان کی حفاظت کریں۔ ہم دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے عیب تلاش کریں۔ ہم دوسروں کی عزت گرانے کے بجائے ان کی عزت بچانے والے بنیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم دنیا کے پیچھے اتنا نہ بھاگیں کہ آخرت کو بھول جائیں۔
یاد رکھیے! یہ دنیا چند روزہ ہے۔ آج جس مال کے لیے ہم رشتے توڑ رہے ہیں، کل وہ مال ہمارے ساتھ نہیں جائے گا۔ آج جس مقام کے لیے ہم دوسروں کے دل دکھا رہے ہیں، کل وہ مقام ہمارے کسی کام نہیں آئے گا۔ آج جس جاہ و جلال کے لیے ہم اپنے مسلمان بھائی کو تکلیف دے رہے ہیں، کل قبر کی تنہائی میں وہ جاہ و جلال ہمارے ساتھ نہیں ہوگا۔ وہاں نہ مال کام آئے گا، نہ مرتبہ، نہ شہرت، نہ لباس، نہ ظاہری دینداری؛ وہاں کام آئے گا تو ایمان، اخلاص، نیک عمل، پاکیزہ اخلاق اور صاف دل۔
اس لیے آئیے! اس دور کے انسان سے ڈرنے سے پہلے اپنے اندر کے انسان کو دیکھیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی وہی بن گئے ہوں جس سے ہم دوسروں کو ڈرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھاتے اٹھاتے اپنا کردار بھول گئے ہوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم لوگوں کی نظروں میں نیک بننے کی کوشش میں اللہ کی نظر میں اپنی حقیقت کھو بیٹھے ہوں؟
آئیے! اپنے ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کو بھی سنواریں۔ اپنے لباس کے ساتھ اپنے اخلاق کو بھی خوب صورت بنائیں۔ اپنی زبان کے ساتھ اپنے دل کو بھی پاک کریں۔ اپنے رشتوں کی قدر کریں، اپنے مسلمان بھائی کے لیے خیر چاہیں، کسی کے دل کو تکلیف دینے سے بچیں اور دنیا کے عارضی مقام و مرتبے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہمیں اچھا انسان سمجھیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اچھا انسان پائے۔ اور شاید آج کے اس دور کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے:
شیطان سے ہر شخص کو ڈر لگتا ہے،
مگر مجھے اس انسان سے ڈر لگتا ہے
جس کے چہرے پر انسانیت ہو،
زبان پر محبت ہو،
لباس پر دینداری ہو،
مگر دل میں انسانیت، محبت اور خدا کا خوف نہ ہو۔
