حضرت سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات

حضرت سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات
عنوان: حضرت سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

حضرت سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات

صحرائے عرب کی چِلْچِلا تی اور سخت دھوپ میں ایک شخص اپنے سَر پر چادر ڈالے مدینہ منورہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً کی جانب بڑھ رہا تھا، راستے میں گدھے پر سوار ایک غلام کو دیکھا تو اس سے کہا: گرمی بہت ہے مجھے اپنے پیچھے سوار کرلو۔ غلام نے اس شخص کو پہچان لیا، فوراً اُتر کر عرض کی: آپ اس پر سوار ہوجائیے، مگر اس شخص نے کہا: تم سوار ہوجاؤ اور میں تمہارے پیچھے بیٹھوں گا، غلام نے پھر عرض کی: آپ سوار ہوجائیے اور میں پیدل چلتا ہوں، مگر وہ شخص نہ مانا بالآخر غلام نے اس شخص کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ دونوں سوار جب مدینۂ منوّرہ کی حدود میں داخل ہوئے تو لوگ اس شخص کو حیرت سے تَک رہے تھے۔ (تاریخِ ابنِ عساکر، ج44، ص318 ملخصاً)

غلام کے پیچھے سوار ہونے والا کوئی عام آدمی نہ تھا بلکہ وہ عظیم ہستی تھی جس نے کفر و گمراہی کے شہروں میں ہدایت کی شمعیں روشن کیں، قیصر و کسریٰ کے غرور کو خاک میں ملایا، جس کے دورِ حکومت میں ایک ہزار سے زائد شہر فتح ہوئے، چار ہزار سے زائد مساجد تعمیر کی گئیں۔ یہ محترم ہستی امامُ العادِلین، غیظُ المنافقین، امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ذاتِ مقدّسہ ہے۔

کنیت، لقب اور حلیہ مبارکہ

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کنیت ”ابو حفص“ اور لقب ”فاروقِ اعظم“ ہے۔ آپ دراز قد، بھاری جسم اور سفید رنگت والے جبکہ داڑھی مبارَکہ گھنی اور گھنگریالی تھی۔ (فیضانِ فاروقِ اعظم، ج1، ص59 تا 60) آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ عامُ الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے، یوں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تاریخِ ولادت 583 عیسوی ہے۔

مشہور کرامات

آپ کی کرامات بہت ہیں ان میں سے چند مشہور کرامتیں ذکر کی جاتی ہیں: بیہقی وابو نعیم وغیرہ محدثین نے بطریق معتبر روایت کیا کہ امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اثناء خطبہ میں تین مرتبہ فرمایا: "یا ساریۃ الجبل!" حاضرین متحیر و متعجب ہوئے کہ اثناء خطبہ میں یہ کیا کلام ہے۔ بعد کو آپ سے دریافت کیا گیا کہ آج آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے خطبہ فرماتے فرماتے یہ کیا کلمہ فرمایا؟ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ لشکر اسلام جو ملک عجم میں مقام نہاوند میں کفار کے ساتھ مصروف پرکار ہے میں نے دیکھا کہ کفار اس کو دونوں طرف سے گھیر کر مارنا چاہتے ہیں۔ ایسی حالت میں میں نے پکار کر کہہ دیا کہ اے ساریہ! جبل۔ یعنی پہاڑ کی آڑ لو۔ یہ سن کر لوگ منتظر رہے کہ لشکر سے کوئی خبر آئے تو تفصیلی حال دریافت ہو۔ کچھ عرصہ کے بعد ساریہ کا قاصد خط لے کر آیا اس میں تحریر تھا کہ جمعہ کے روز دشمن سے مقابلہ ہو رہا تھا خاص نماز جمعہ کے وقت ہم نے سنا: "یا ساریۃ الجبل" یہ سن کر ہم پہاڑ سے مل گئے اور ہمیں دشمن پر غلبہ حاصل ہوا یہاں تک کہ دشمن کو ہزیمت ہوئی۔ سبحان اللہ! خلیفہ اسلام کی نظر مدینہ طیبہ سے نہاوند میں لشکر کو ملاحظہ فرمائے اور یہاں سے ندا کرے تو لشکر کو اپنی آواز سنائے، نہ کوئی دور بین ہے نہ ٹیلیفون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی سچی غلامی کا صدقہ ہے۔ والحمد لله رب العالمین۔

ابو القاسم نے اپنی "فوائد" میں روایت کی کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے اس کا نام دریافت فرمایا: کہنے لگا: میرا نام جمرہ (اخگر) ہے۔ فرمایا: کسی کا بیٹا؟ کہا: ابن شہاب (آتش پارہ) کا، فرمایا: کن لوگوں میں سے ہے؟ کہا: حرقہ (سوزش) میں سے، فرمایا: تیرا وطن کہاں ہے؟ کہا: حرہ (تپش)، فرمایا: اس کے کسی مقام پر؟ کہا: ذات لظی (شعلہ وار) میں، فرمایا: اپنے گھر والوں کی خبر لے سب جل گئے۔ لوٹ کر گھر آیا تو سارا کنبہ جلا پایا۔

ابوالشیخ نے "کتاب العظمة" میں روایت کی ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو ایک روز اہلِ مصر نے حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کیا کہ اے امیر! ہمارے دریائے نیل کی ایک رسم ہے جب تک اس کو ادا نہ کیا جائے دریا جاری نہیں رہتا۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا؟ کہا: اس مہینے کی گیارہ تاریخ کو ہم ایک کنواری لڑکی کو اس کے والدین سے لے کر عمدہ لباس اور نفیس زیور سے سجا کر دریائے نیل میں ڈالتے ہیں۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اسلام میں ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا اور اسلام پرانی واہیات رسموں کو مٹاتا ہے۔ پس وہ رسم موقوف رکھی گئی اور دریا کی روانی کم ہوتی گئی یہاں تک کہ لوگوں نے وہاں سے چلے جانے کا قصد کیا، یہ دیکھ کر حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں تمام واقعہ لکھ بھیجا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں تحریر فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔ بے شک اسلام ایسی رسموں کو مٹاتا ہے۔ میرے اس خط میں ایک رقعہ ہے اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا۔ عمرو بن عاص کے پاس جب امیر المومنین کا خط پہنچا اور انہوں نے وہ رقعہ اس خط میں سے نکالا تو اس میں لکھا تھا: "از جانب بندۂ خدا عمر امیر المومنین بسوئے نیل مصر بعد از حمد و صلوۃ آنکہ اگر تو خود جاری ہے تو نہ جاری ہو اور اللہ تعالی نے جاری فرمایا تو میں اللہ واحد قہار سے درخواست کرتا ہوں کہ تجھے جاری فرمادے۔" عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈالا، ایک شب میں سولہ گز پانی بڑھ گیا اور بھینٹ چڑھانے کی رسم مصر سے بالکل موقوف ہو گئی۔ (تاریخ الخلفاء، فصل فی کراماتہ، ص 299)

حضور اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ شیطان تمہیں جس راستے پر چلتے دیکھتا ہے وہ دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔ (جامع ترمذی، مشکوٰۃ المصابیح)

شہادت

تاریخِ عالَم کے اس عظیم حکمران کی پوری زندگی عزّت و شرافت اور عظمت کے کارناموں کی اعلیٰ مثال تھی، 26 ذوالحجۃ الحرام کی صبح ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے آپ پر فجر کی نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا اور شدید زخمی کردیا۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، جب لوگ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اٹھا کر آپ کے گھر میں لائے تو مسلسل خون بہنے کی وجہ سے آپ پر غشی طاری ہوچکی تھی۔ ہوش میں آتے ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا اور وضو کرکے نمازِ فجر ادا کی، پھر چند دن شدید زخمی حالت میں گزار کر اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ حضرتِ صُہَیْب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یکم محرَّم الحرام 24 ہجری روضۂ رسول میں خلیفۂ اوّل حضرتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ (طبقات ابن سعد، ج3، ص266، 280، 281 - تاریخ ابن عساکر، ج 44، ص422، 464) بوقتِ شہادت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عُمْر مبارک 63 برس تھی۔

اے اللہ! ہمیں حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی سیرتِ مبارکہ سے سبق حاصل کرنے، حق و باطل میں فرق کرنے، دینِ اسلام پر ثابت قدم رہنے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سچی محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مولا کریم عزوجل ہمیں ایمان، تقویٰ، اخلاص اور نیک اعمال کی دولت عطا فرما اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرما۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!