قرآن—خدا کی آواز: ایک زندہ معجزہ، ایک ابدی پیغام

قرآن—خدا کی آواز: ایک زندہ معجزہ، ایک ابدی پیغام
عنوان: قرآن—خدا کی آواز: ایک زندہ معجزہ، ایک ابدی پیغام
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

"پیغمبروں میں سے ہر پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزات عطا فرمائے جنہیں دیکھ کر لوگ ایمان لائے، اور مجھے جو معجزہ عطا ہوا ہے وہ قرآن ہے۔" (صحیح بخاری، باب الاعتصام)

یہ ارشادِ نبوی ﷺ ہماری تلاش اور غور و فکر کے صحیح رخ کو متعین کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو پہچاننے کے لیے آج ہمارے پاس جو سب سے بڑا، زندہ اور ابدی ذریعہ موجود ہے، وہ قرآنِ مجید ہے؛ وہ کتاب جسے رسولِ اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کلام کے طور پر دنیا کے سامنے پیش فرمایا۔

قرآن رسول اللہ ﷺ کا نمائندہ بھی ہے اور آپ ﷺ کے سچا رسول ہونے کی روشن دلیل بھی۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کی وہ کون سی خصوصیات ہیں جو اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ یہ کسی انسان کی تصنیف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے؟ اس کے بے شمار پہلو ہیں، جن میں سے چند اہم اور ایمان افروز پہلو درج ذیل ہیں:

۱۔ قرآن کا لازوال چیلنج اور انسان کی عاجزی

قرآنِ مجید کے الہامی ہونے کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس کا وہ عظیم چیلنج ہے جو صدیوں سے دنیا کے سامنے موجود ہے۔ قرآن نے ان لوگوں کو، جو اسے انسانی کلام سمجھتے تھے، چیلنج دیا کہ اگر یہ انسان کا بنایا ہوا کلام ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

"اور اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اپنے تمام مددگاروں کو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔" (البقرۃ: ۲۳)

یہ ایک غیر معمولی دعویٰ ہے۔ انسانی تاریخ میں کسی مصنف نے اپنی کتاب کے بارے میں ایسا چیلنج نہیں دیا کہ پوری انسانیت اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز ہے۔ عرب فصاحت و بلاغت پر ناز کرتے تھے، شاعری ان کی تہذیب کا اہم حصہ تھی، لیکن قرآن کے سامنے ان کے بڑے بڑے فصحاء بھی بے بس نظر آئے۔ صدیاں گزر گئیں، زمانے بدل گئے، زبان و ادب کے انداز تبدیل ہوئے، لیکن قرآن کا چیلنج آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔

لبید بن ربیعہ کا واقعہ

عرب کا نامور شاعر لبید بن ربیعہ فصاحت و بلاغت میں بلند مقام رکھتا تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ جب اس نے قرآن کا کلام سنا تو اس کی تاثیر سے بے حد متاثر ہوا۔ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اشعار سنانے کی فرمائش کی تو اس نے قرآن کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "جب اللہ نے مجھے البقرہ جیسا کلام عطا کر دیا ہے تو اب شعر کہنا مجھے زیب نہیں دیتا۔" (الاستیعاب، ابن عبدالبر)

یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن کا اسلوب اور اس کی تاثیر عرب کے بلند پایہ اہلِ زبان کے لیے بھی غیر معمولی تھی۔

ولید بن المغیرہ کا اعتراف

مکہ کا نامور فصیح و بلیغ شخص ولید بن المغیرہ جب نبی کریم ﷺ سے قرآن کی آیات سن کر لوٹا تو قریش کے سامنے اعتراف کرنے پر مجبور ہو گیا: "خدا کی قسم! میں نے ان سے جو کلام سنا ہے، وہ نہ انسانوں کا کلام ہے اور نہ جنوں کا۔ اس میں ایک خاص مٹھاس ہے اور اس پر ایک الگ ہی رونق ہے۔ اس کی شاخیں بارآور ہیں اور اس کی جڑیں گہری ہیں۔ یہ غالب رہنے والا کلام ہے اور اس پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔" (مستدرک حاکم)

یہی قرآن کی وہ خصوصیت ہے جس نے عرب کے فصحاء و بلغاء کو سوچنے پر مجبور کیا کہ جس کلام کو ایک انسان کی تصنیف کہا جا رہا ہے، اس کے مقابلے میں ایک سورت بھی پیش کرنا کیوں ممکن نہیں؟

۲۔ قرآن کی پیشین گوئیاں اور ان کی سچائی

قرآنِ مجید کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی وہ پیشین گوئیاں ہیں جو ایسے حالات میں بیان ہوئیں جب ان کا پورا ہونا بظاہر انتہائی بعید دکھائی دیتا تھا۔

اسلام کے غلبے کی بشارت

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمان انتہائی کمزور، بے سہارا اور مظلوم تھے۔ تعداد کم تھی، وسائل محدود تھے اور ہر طرف مخالفت کا طوفان تھا۔ ایسے حالات میں قرآن نے اعلان فرمایا:

كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي

"اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔" (المجادلۃ: ۲۱)

اور فرمایا:

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ۝ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

"وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا، خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناپسند ہو۔" (الصف: ۸-۹)

اور تاریخ گواہ ہے کہ چند ہی برسوں میں اسلام پورے جزیرۂ عرب میں پھیل گیا۔ جو لوگ کل تک مسلمانوں کے مخالف تھے، ان میں سے بہت سے لوگ اسلام کے علم بردار بن گئے۔

رومیوں کی دوبارہ فتح کی پیشین گوئی

قرآن کی ایک نہایت مشہور پیشین گوئی سورۂ روم میں موجود ہے۔ اس زمانے میں ایرانی سلطنت نے رومی سلطنت کو شدید شکست دی تھی۔ حالات ایسے تھے کہ رومیوں کی دوبارہ فتح انتہائی بعید محسوس ہوتی تھی۔ اسی موقع پر قرآن نے اعلان فرمایا:

غُلِبَتِ الرُّومُ ۝ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ۝ فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ

"رومی مغلوب ہو گئے ہیں قریب کی سرزمین میں، اور اپنی مغلوبیت کے بعد چند برسوں میں وہ غالب آ جائیں گے۔ پہلے بھی اور بعد میں بھی اختیار اللہ ہی کا ہے۔" (الروم: ۲-۴)

بعد کے واقعات نے اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی گواہی دی اور رومیوں نے دوبارہ ایرانیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ واقعہ انسان کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ایک ایسے وقت میں، جب ظاہری حالات پیشین گوئی کے خلاف نظر آ رہے تھے، قرآن نے مستقبل کے بارے میں اتنے اعتماد کے ساتھ یہ بات کیسے بیان کی؟

۳۔ قرآن اور کائنات کے اسرار

قرآنِ مجید بنیادی طور پر کتابِ ہدایت ہے، سائنس کی درسی کتاب نہیں۔ تاہم قرآن انسان کو بار بار کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے اور آسمان و زمین، سمندروں، پہاڑوں اور انسان کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں قرار دیتا ہے۔

دو سمندروں کے درمیان برزخ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ۝ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ

(الرحمن: ۱۹-۲۰)

اور فرمایا:

وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا

(الفرقان: ۵۳)

قرآن دو مختلف پانیوں کے درمیان برزخ کا ذکر کرتا ہے۔ جدید سمندری علوم نے بھی مختلف خصوصیات رکھنے والے پانی کے باہمی اختلاط اور ان کے درمیان بننے والے پیچیدہ طبعی نظاموں کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ آیات انسان کو سمندروں کے اس حیرت انگیز نظام میں غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔

اجرامِ فلکی اور کائنات کا نظام

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا

(الرعد: ۲)

اور فرمایا:

وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ

(الانبیاء: ۳۳)

آج کی فلکیات نے واضح کیا ہے کہ زمین، چاند، سورج اور بے شمار اجرام ایک عظیم اور منظم کائناتی نظام کا حصہ ہیں۔ قرآن انسان کو اس نظام کے مشاہدے سے آگے بڑھ کر اس کے خالق کی قدرت پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔

کائنات کی ابتدا اور پھیلاؤ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا

"کیا منکر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین باہم جڑے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کر دیا؟" (الانبیاء: ۳۰)

کائنات کی ابتدا اور اس کے پھیلاؤ کے بارے میں جدید سائنس میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ قرآن کی اس آیت پر بھی کائنات کے ابتدائی مرحلے کے حوالے سے غور کیا جاتا ہے۔ یہاں اصل مقصد یہ ہے کہ انسان کائنات کی عظمت کو دیکھ کر اس کے خالق کی قدرت و حکمت کو پہچانے۔

انشقاقِ قمر

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ

"قیامت قریب آ گئی اور چاند شق ہو گیا۔" (القمر: ۱)

انشقاقِ قمر رسول اللہ ﷺ کے عظیم معجزات میں سے ہے۔ مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اس لیے معجزات کو محض انسانی تجربات اور معمول کے طبعی قوانین تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

پہاڑ اور زمین

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ

"اور اس نے زمین میں مضبوط پہاڑ رکھ دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگانے نہ لگے۔" (النحل: ۱۵)

قرآن کی یہ آیت بھی انسان کو زمین اور پہاڑوں کے نظام پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

۴۔ قرآن، علم اور خشیتِ الٰہی

قرآنِ مجید نے علم کو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کرنے کے بجائے اس کی معرفت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَٰلِك ۗ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ

"اور انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے علم رکھنے والے ہی اس سے ڈرتے ہیں۔" (فاطر: ۲۸)

یہ قرآن کا ایک عظیم فلسفہ ہے: حقیقی علم انسان کو متکبر نہیں، بلکہ اپنے رب کے سامنے جھکنے والا بناتا ہے۔ جس قدر انسان کائنات کے اسرار کو سمجھتا ہے، اسی قدر اسے اپنے خالق کی عظمت و قدرت کا احساس ہونا چاہیے۔

حاصلِ کلام

قرآنِ مجید کا چیلنج، اس کی پیشین گوئیاں، اس کے تاریخی بیانات، اس کی عقلی دعوت اور کائنات میں غور و فکر کی ترغیب—یہ سب انسان کو ایک عظیم حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ قرآن کسی ایک قوم، ایک زمانے یا ایک نسل کے لیے نہیں؛ یہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا پیغام ہے۔

یہ وہ کتاب ہے جو صدیوں گزرنے کے باوجود آج بھی دلوں کو بدل رہی ہے، عقلوں کو بیدار کر رہی ہے اور انسان کو اپنے خالق کی طرف بلا رہی ہے۔ یہ صرف پڑھنے کی کتاب نہیں؛ زندگی بدلنے کی کتاب ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں؛ ہدایت کا نور ہے۔ یہ صرف ماضی کی یادگار نہیں؛ آج کے انسان کے لیے بھی زندہ پیغام ہے۔

اس لیے قرآن کو صرف الماری کی زینت نہ بنائیں، بلکہ اسے پڑھیں، سمجھیں، اس پر غور کریں اور اپنی زندگی کو اس کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ جس کتاب نے صدیوں سے انسانیت کے دلوں کو روشن کیا ہے، وہ آج بھی ہمارے لیے اسی طرح روشنی کا سرچشمہ ہے۔

اختتامیہ

ہے قولِ محمد ﷺ، قولِ خدا
فرمان نہ بدلا جائے گا
بدلے گا زمانہ لاکھ مگر
قرآن نہ بدلا جائے گا

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!