| عنوان: | میلاد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (قسط اول - دوسری مجلس) |
|---|---|
| تحریر: | افروز قادری چریا کوٹی |
پیر کا روزہ اور ولادتِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ والہ وسلم
امام مسلم نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ایک دن حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوموار (پیر) کے دن روزہ رکھنے کے تعلق سے دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:
ذٰلِكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيْهِ، وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيْهِ النُّبُوَّةُ
یعنی: "یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور مجھے شرفِ نبوت سے بہرہ ور کیا گیا۔"
انبیاء و مرسلین کی زندگی میں تین دن نہایت اہم اور بے پناہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں: یومِ میلاد، یومِ وصال، اور یومِ بعثت۔ اگر قرآن کے اس فلسفے کو سمجھ لیا جائے تو بعض لوگوں کا یہ اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے کہ میلاد میں کیا رکھا ہے اور میلاد النبی کی اسلام میں کتنی گنجائش ہے۔
قرآن کی آیات کی روشنی میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ نبی کی زندگی میں یہ ایام غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَسَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا
ترجمہ: "سوغاتِ سلام پیش ہیں یحییٰ کے لیے جس دن وہ پیدا ہوا، اور جس دن وہ اس دنیا سے پردہ کر جائے گا، اور پھر جس دن اسے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔"
یوں ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے کہلوایا:
وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا
ترجمہ: "اور سلامتی ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا، اور جس دن میں وصال کر جاؤں گا، اور پھر جس دن مجھے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔"
ولادتِ مصطفٰے کا دن اور جمہور اہل علم کا موقف
اہلِ علم کا اس بات پر تقریباً اجماع ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سوموار (پیر) کے دن ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔ جبکہ بعض لوگوں نے جمعہ کے دن کا بھی قول کیا ہے؛ تاہم یہ قول باطل اور ساقط الاعتبار ہے۔ حضرت ابو جعفر امام باقر (م ۱۱۴ھ) اس تعلق سے توقف فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جاننے والا ہے، اور یہ اختلاف اس وجہ سے ہے کہ کوئی معتبر روایت اس تعلق سے منقول نہیں؛ لہذا اس بارے میں احتیاطاً توقف کرنا بہتر ہے۔
لیکن جمہور علماء نے اس بارے میں جو کچھ کہا وہ کافی و وافی ہے اور حضرت ابو جعفر نے بھی ایک روایت کے مطابق اس کی موافقت فرمائی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے روز اس دنیا میں تشریف لے آئے۔ یہ موقف جملہ اہل علم کے موافق ہے۔
نیز حضرت ابوقتادہ انصاری کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سوموار کو دن کے وقت ہوئی۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ طلوعِ فجر کے وقت رونق افزائے عالم ہوئے۔
غور طلب امر یہ ہے کہ جب یہ پچھلے پیغمبروں کی شانیں ہیں تو پھر جو محبوبِ رب العالمین ہو، جو امام الانبیاء والمرسلین ہو، اور جو وجہِ تخلیقِ آدم و بنی آدم ہو، ذرا سوچیں کہ اس کی ولادت کا دن کیسی خیر و سلامتی، برکت و رحمت اور یُمن و سعادت کا دن ہوگا!
اور پھر خاص بات یہ کہ جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے وہی دن آپ کے دنیا سے پردہ فرمانے کا بھی ہے، تو گویا اس دن کو یومِ ولادت اور یومِ وصال دونوں شانیں حاصل ہوئیں، اور اللہ کی درود و سلامتی ساون بھادوں کی طرح عالمِ انسانیت پر برستی ہیں۔ اور پھر یومِ بعثت کا پُر کیف و روح پرور منظر بازارِ قیامت اور ہنگامہٴ محشر میں دیکھنے کو ملے گا۔ سبحان اللہ! وہ منظر بھی کیا منظر ہوگا جس کی عکاسی کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے:
فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزمِ محشر کا
کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی ہے
سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے
جب ان کی رسائی ہے لو تب تو بن آئی ہے
راہب عیص کی پیش گوئی اور روایت کی تحقیق
ابوجعفر بن ابی شیبہ نے اپنی تاریخ میں اور ابو نعیم نے اپنے طریق سے دلائل میں ایک ضعیف سند کے ساتھ عبداللہ بن عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ظہران کے راستے میں عیص نامی ایک راہب رہتا تھا، جس کا تعلق ملکِ شام سے تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اے اہل مکہ! وہ زمانہ قریب آرہا ہے کہ تم میں ایک بچہ پیدا ہوگا جس کا پورا جزیرہٴ عرب تابعدار ہو جائے گا اور وہ عجم کا بھی مالک بن جائے گا، اور یہی اس کا زمانہ ہے۔ چنانچہ جب بھی مکے میں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا کرتا تھا۔
پھر جس دن وہ صبح نمودار ہوئی جس میں سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ ہوئی تو عبداللہ بن عبدالمطلب، عیص کے عبادت خانے میں آئے اور پکار کر کہا: "اے عیص، تو کہاں ہے؟" اس نے پوچھا: "تم کون ہو؟" کہا: "میں عبداللہ ہوں۔" پھر عبداللہ نے بچے کی ولادت کی خبر سنائی، جسے سن کر عیص نے کہا کہ یہ تو وہی بچہ ہے جس کے بارے میں میں تم لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ وہ پیر کے دن پیدا ہوگا، اسی دن اسے نبوت ملے گی اور اسی دن اس کی وفات ہوگی۔
پھر عیص نے پوچھا: "تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟" عبداللہ نے جواب دیا: "محمد۔" عیص نے کہا: "اللہ کی قسم! میری یہ دلی خواہش تھی کہ وہ مولود تمہارے ہی گھرانے میں پیدا ہو۔ اس بچے کو میں تین خصائل کی وجہ سے متعین کرتا ہوں: پہلی وجہ یہ کہ آج کی رات کے بعد ستارہ طلوع ہوا ہے، دوسری وجہ یہ کہ یہ آج کے دن پیدا ہوئے ہیں، اور تیسری وجہ یہ کہ ان کا نام محمد ہے۔ مجھے ان کے پاس لے چلو؛ کیونکہ میرے علم کے مطابق یہ وہی بچہ ہے جس کے بارے میں میں تم لوگوں سے کہا کرتا تھا۔"
نوٹ اور تحقیقی نظر: اگر اس روایت کو صحيح تسلیم کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت آپ کے والد محترم حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب بقیدِ حیات تھے؛ حالانکہ یہ بات متفق علیہ ہے کہ ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکمِ مادر ہی میں تھے کہ حضرت عبداللہ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور حضرت آمنہ کا درّ یتیم احساسِ یتیمی لے کر دنیا میں جلوہ آرا ہوا تھا۔ حیرت ہے کہ اس روایت پر نہ تو علامہ ابن رجب حنبلی نے کوئی جرح کی اور نہ ہی عالمِ عرب کے معروف محقق شیخ یاسین السواس نے کوئی حاشیہ چڑھایا، اور نہ ہی لطائف المعارف کے دیگر محققین نے بادی النظر ہی میں کھٹکتی ہوئی اس روایت پر کوئی روشنی ڈالنے کی زحمت گوارا فرمائی۔
مہرِ نبوت کے ساتھ ولادت مبارکہ
صحیح حاکم میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ کے اندر ایک یہودی تاجر رہتا تھا۔ جس رات سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو وہ کہنے لگا: "اے گروہِ قریش! کیا آج رات تمہارے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوا ہے؟" وہ کہنے لگے: "ہمیں اس کا علم نہیں۔" وہ کہنے لگا: "مجھ سے سنو! آج کی رات اس آخری امت کے نبی کی ولادت ہوئی ہے۔ ان کے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک علامت ہے جس میں گھوڑے کی ایال کی مانند بالوں کا گچھا ہے۔"
اہلِ مکہ یہودی کے ساتھ اس بچے کی تلاش میں نکلے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ کے پاس جا پہنچے اور کہنے لگے: "ہمیں اپنا بیٹا دکھاؤ۔" والدہٴ ماجدہ نے آپ کو ان کے سامنے رکھ دیا۔ جب ان لوگوں نے آپ کی پشتِ مبارک کھول کر دیکھی تو وہ علامت واضح طور پر نظر آرہی تھی۔ یہ دیکھ کر یہودی غش کھا کر گر پڑا، جب اسے ہوش آیا تو قریشی لوگ کہنے لگے: "افسوس ہے تجھ پر، تجھے اچانک کیا ہو گیا؟" تو یہودی نے اس موقع پر ایک تاریخی جملہ کہا:
ذَهَبَتْ وَاللَّهِ النُّبُوَّةُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
یعنی: "قسم بخدا! مجھے بس اس بات پر افسوس ہے کہ ہائے! آج نبوت بنی اسرائیل سے ہمیشہ کے لیے نکل گئی۔"
اس حدیث سے پتہ چلا کہ آپ کی ختمِ نبوت کی نشانی یعنی مہرِ نبوت بوقتِ ولادت پشتِ انور پر موجود تھی، یہی وہ مہر ہے جو آپ کی نبوت کی ظاہری علامات میں سے ہے اور جس کے بارے میں اہل کتاب کو خوب اچھی طرح علم تھا، وہ ایک دوسرے سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے اور اس کے آثار ڈھونڈا کرتے تھے۔
روایتوں میں آتا ہے کہ ہرقل نے ایک آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، اس وقت آپ تبوک میں تھے۔ مقصد یہ تھا کہ وہ آدمی آپ کی مہرِ نبوت کا مشاہدہ کرے اور پھر ہرقل کو اس پر مطلع کرے۔ چنانچہ حضرت ابوذر اور عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہما سے بھی شقِ صدر اور مہرِ نبوت کی روایات منقول ہیں، تا ہم بوقتِ ولادت مہرِ نبوت کا موجود ہونا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی معروف حدیث سے ثابت ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اسی دن سے یہود، محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ کے لائے ہوئے جامع دین اور اس دین سے وابستہ لوگوں سے اللہ واسطے کا حسد کرنے لگے اور آج بھی وہ اسی آگ میں جل رہے ہیں، اور عداوت و حسد کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ دنیا جہان میں بنائے جانے والے کارٹونز، فلمیں اور گستاخیِ رسول کے اس لائے ہوئے گندے سیلاب کے پیچھے اگر باریک بینی سے جائزہ لیں تو آپ کو کہیں نہ کہیں بد نصیب یہودیوں کی سازش، ان کی حاسدانہ ذہنیت اور ان کا ہاتھ ضرور دکھائی دے گا۔
کتاب کا نام: ربیع الاول اہمیت جامعیت معارف نکات اعمال وظائف (صفحہ ۵۸ تا ۶۲)
