میلاد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم (قسط دوم)

میلاد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (قسط دوم)
عنوان: میلاد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (قسط دوم)
تحریر: افروز قادری چریا کوٹی

بوقتِ ولادت کچھ اور عجیب و غریب نشانیاں

بوقتِ ولادتِ با سعادت اور بھی متعدد عجیب و غریب علامات و نشانیاں ظاہر ہوئیں۔ حضرت آمَنَہ بنتِ وہب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: "جب وضعِ حمل ہوا تو جس طرح عام بچے پیدا ہوتے ہیں اس انداز سے آپ کی ولادت نہ ہوئی، بلکہ آپ اس حال میں واردِ دنیا ہوئے کہ اپنے دستِ مبارک کو زمین پر رکھے ہوئے تھے اور اپنے سرِ انور کو آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے۔"

ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ "جب آپ نے زمین پر اپنا ہاتھ رکھا تو اپنی مٹھی میں مٹی بھری۔" اس پر بعض قیافہ شناسوں نے کہا کہ یہ تو نہایت نیک فال ہے، اگر یہ سچی ہوئی تو یہ مولودِ مسعود دنیا والوں پر ایک نہ ایک دن ضرور غالب آئے گا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ کی ولادت مبارکہ ایک لگن (برتن) کے نیچے ہوئی، پھر وہ برتن پھٹ گیا اور اہل خانہ نے آپ کو آسمان کی طرف نگاہ اٹھائے ہوئے پایا۔

کیا حضور اکرم ﷺ مختون پیدا ہوئے؟

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختون (ختنہ شدہ) پیدا ہونے کے تعلق سے روایات مختلف ہیں۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ مختون اور بریدہ ناف (کٹی ہوئی نال) کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں متواتر روایات موجود ہیں۔ جبکہ ایک اور روایت کے مطابق آپ کے دادا حضرت عبد المطلب نے آپ کا ختنہ کروایا۔

امام احمد بن حنبل اس سلسلے میں توقف فرماتے ہیں۔ علامہ مروزی بیان کرتے ہیں کہ امام احمد سے پوچھا گیا کہ کیا حضور اکرم ﷺ مختون پیدا ہوئے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: "اللہ ہی بہتر جانتا ہے، مجھے اس کا علم نہیں۔" جبکہ حنابلہ میں سے حضرت ابو بکر عبد العزیز بن جعفر فرماتے ہیں کہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مختون و مسرور پیدا ہوئے تھے، لیکن امام احمد اس روایت کو صحيح قرار دینے میں احتیاط برتتے تھے۔

ولادتِ نبوی کا مہینہ

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماہِ ولادت کے بارے میں بھی روایات میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو کی ایک روایت میں رمضان کا ذکر ملتا ہے، مگر اس کی سند درست نہیں۔ بعض نے رجب کا قول بھی کیا ہے، لیکن وہ بھی مرجوح ہے۔

سب سے مشہور، معتبر اور معروف قول **ماہِ ربیع الاول** کا ہے۔ علامہ ابن جوزی وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے اور یہی جمہور علماء و سیرت نگاروں کا حتمی موقف ہے۔

تاریخِ ولادتِ نبوی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربیع الاول کی کس تاریخ کو پیدا ہوئے؟ اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں:

• بعض علماء فرماتے ہیں کہ بالکل دقیق تاریخ کا تعین قطعی طور پر ممکن نہیں، بس اتنا یقینی ہے کہ آپ ربیع الاول کے مہینے میں سوموار (پیر) کے روز پیدا ہوئے۔
• کچھ روایات میں ۲، ۸، ۱۰، ۱۷، ۱۸ یا ۲۲ ربیع الاول کا ذکر ملتا ہے، مگر ان میں سے آخری اقوال شاذ و ضعیف ہیں۔
• **جمہور علماء کا مشہور و معتمد موقف:** سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ با سعادت **۱۲ ربیع الاول** بروز پیر ہوئی۔ معروف سیرت نگار ابن اسحاق وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔

سالِ ولادتِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

علماء کا اجماع: اکثر اہل علم کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت **عام الفیل** (جس سال ہاتھی کا واقعہ پیش آیا) میں ہوئی۔ یہی موقف حضرت قیس بن مخرمہ، حضرت قباث بن اشیم اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔

اگرچہ بعض شاذ روایات میں واقعہٴ فیل سے ۵۰ دن، ۵۵ دن، ۱ ماہ، ۴۰ دن، ۲۳ دن یا سال

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!