| عنوان: | جنت کی نعمتیں: کیا وہاں انسان کو اپنی پسندیدہ اور پاکیزہ خواہشات کے مطابق نعمتیں ملیں گی؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
تمہید
جنت کے بارے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جانب سے مختلف سوالات کیے جاتے ہیں۔ بعض لوگ واقعی علم و تحقیق کی غرض سے پوچھتے ہیں، جبکہ بعض لوگ اعتراض یا اشکال کے انداز میں سوال کرتے ہیں، مثلاً:
• کیا جنت میں انسان اپنی پسند کا کام کر سکے گا؟
• کیا وہاں کتابیں پڑھنے کو ملیں گی؟
• کیا جنت میں کھیتی باڑی یا باغبانی کی جا سکے گی؟
• کیا انسان اپنے پسندیدہ مشاغل اختیار کر سکے گا؟
• کیا جنت میں صرف وہی چیزیں ہوں گی جن کا قرآنِ مجید میں صراحتاً ذکر کیا گیا ہے؟
ان تمام سوالات کا جواب الگ الگ دینے کے بجائے اگر قرآن و سنت کے ایک بنیادی اصول کو سمجھ لیا جائے تو مسئلہ بڑی حد تک واضح ہو جاتا ہے:
بنیادی اصول: جنت کی نعمتیں انسانی عقل، تصور اور گمان سے کہیں زیادہ وسیع اور عظیم ہیں۔
۱۔ جنت کی نعمتیں انسانی تصور سے بالاتر ہیں
قرآنِ مجید میں جنت کی متعدد نعمتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، جیسے باغات، نہریں، پھل، عمدہ کھانے، پاکیزہ مشروبات، محلات، لباس، مسندیں، سایہ اور بے شمار دوسری نعمتیں۔ لیکن جنت صرف انہی چیزوں کا نام نہیں جن کا قرآنِ مجید میں تفصیل سے ذکر موجود ہے، بلکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
ترجمہ: "پس کسی جان کو معلوم نہیں کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں آنکھوں کی کیسی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔" (سورۃ السجدۃ: ۱۷)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جنت کی تمام نعمتوں کی مکمل تفصیل انسان کو نہیں بتائی گئی۔ وہاں ایسی نعمتیں بھی ہوں گی جن کی حقیقت اور شان انسانی علم اور تصور سے بالاتر ہے۔
۲۔ جنت کو دنیا کے پیمانوں سے نہیں ناپنا چاہیے
انسان بعض اوقات جنت کو بھی دنیا کے قوانین اور تجربات کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً: اگر جنت میں کھانا ہوگا تو کیا بھوک بھی ہوگی؟ اگر باغات ہوں گے تو کیا محنت و مشقت بھی ہوگی؟ اگر کوئی کام کیا جائے گا تو کیا تھکن بھی ہوگی؟
یہ سوچ درست نہیں، کیونکہ جنت دنیا نہیں ہے۔ دنیا میں تقریباً ہر نعمت کے ساتھ کوئی نہ کوئی کمی، پریشانی یا تکلیف وابستہ ہوتی ہے، جبکہ جنت میں نعمت کامل ہوگی اور وہاں ہر قسم کی تکلیف اور ناگواری سے انسان محفوظ ہوگا:
• دنیا میں انسان کھانے کا محتاج ہے، جبکہ جنت میں کھانا نعمت، لذت اور خوشی کا ذریعہ ہوگا۔
• دنیا میں کام کے ساتھ تھکن ہوتی ہے، جبکہ جنت میں اہلَ جنت کو کوئی رنج اور مشقت لاحق نہ ہوگی۔
• دنیا میں انسان محرومی اور کمی کا شکار ہوتا ہے، جبکہ جنت میں اہلَ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطائیں بے شمار ہوں گی۔
۳۔ قرآن میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کیوں کیا گیا؟
قرآنِ مجید نے جنت کی بہت سی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ انسان کو جنت کی عظمت، راحت اور خوشیوں کا ایک قابلِ فہم تعارف حاصل ہو سکے۔ باغ، نہر، پھل، سایہ، عمدہ لباس اور پاکیزہ مشروبات جیسی چیزیں انسان دنیا میں جانتا اور سمجھتا ہے، اس لیے ان کا ذکر فرمایا گیا؛ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ نعمتیں صرف انہی چیزوں تک محدود ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ
ترجمہ: "میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔" (صحیح البخاری: ۳۲۴۴، صحیح مسلم: ۲۸۲۴)
۴۔ جنت کے بارے میں قرآن کا سب سے جامع اصول
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
ترجمہ: "اور تمہارے لیے وہاں وہ سب کچھ ہے جس کی تمہارے دل خواہش کریں، اور تمہارے لیے وہاں وہ سب کچھ ہے جو تم طلب کرو۔" (سورۃ فصلت: ۳۱-۳۲)
ایک اور مقام پر فرمایا:
لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ
ترجمہ: "ان کے لیے وہاں وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔" (سورۃ ق: ۳۵)
یہ آیات جنت کی نعمتوں کے بارے میں انتہائی جامع اصول بیان کرتی ہیں کہ اہلَ جنت کے لیے وہ کچھ ہوگا جس کی وہ خواہش کریں گے اور جو وہ طلب کریں گے۔ اور "وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ" یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس بندوں کی طلب اور تصور سے بھی بڑھ کر نعمتیں موجود ہیں۔
۵۔ کیا جنت میں انسان اپنا پسندیدہ مشغلہ اختیار کر سکے گا؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت کا ایک شخص اپنے رب سے کھیتی باڑی کرنے کی اجازت طلب کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا:
أَوَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟
ترجمہ: "کیا تمہیں جو کچھ تم چاہتے تھے، وہ سب حاصل نہیں؟" وہ عرض کرے گا:
بَلَى، وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ
ترجمہ: "کیوں نہیں! لیکن مجھے کھیتی باڑی کرنا پسند ہے۔" چنانچہ اسے اجازت دی جائے گی۔ وہ بیج ڈالے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے فصل اگے گی، بڑھے گی، پکے گی اور اس کی پیداوار بہت زیادہ ہو جائے گی۔ (صحیح البخاری: ۲۳۴۸)
اس جنتی کو بھوک یا رزق کی ضرورت کی وجہ سے کھیتی باڑی کی خواہش نہیں تھی، بلکہ اسے اس سے رغبت و محبت تھی۔ معلوم ہوا کہ جنت میں اہلِ جنت کی پسندیدہ رغبتیں اور مشاغل بھی اللہ کے فضل سے پورے کیے جائیں گے۔
۶۔ کیا جنت میں کتابیں پڑھنے کو ملیں گی؟
قرآنِ مجید یا کسی صحیح حدیث میں ایسی صریح نص موجود نہیں جس میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہو کہ "جنت میں کتابیں پڑھنے کو ملیں گی۔" لہٰذا اسے قرآن یا حدیث کی صریح تعلیم قرار دینا درست نہیں۔
البتہ قرآنِ مجید کے عمومی اصول "وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ" کے تحت اتنا کہنا درست ہے کہ جنت میں اہلِ جنت کو ان کی خواہشات کے مطابق بے شمار نعمتیں عطا ہوں گی۔ اس بارے میں قطعی اثبات یا قطعی نفی، دونوں سے احتراز کرنا چاہیے اور علمی احتیاط برتنی چاہیے۔
۷۔ کیا جنت میں گناہ یا ناپسندیدہ خواہشات بھی ہوں گی؟
جنت پاکیزگی، سلامتی اور کامل نعمت کا مقام ہے۔ قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ جنت کے دلوں سے کینہ، بغض اور ناپاک رغبات نکال دی جائیں گی:
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ
ترجمہ: "اور ہم ان کے سینوں سے ہر قسم کا کینہ نکال دیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔" (سورۃ الحجر: ۴۷)
۸۔ ادنیٰ ترین جنتی بھی عظیم نعمتوں کا مالک ہوگا
احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا
