| عنوان: | میلاد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (قسط چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد افروز قادری چریا کوٹی |
ابتدائے نبوت اور دیگر مناسبات کا مہینہ
یہ بات بھی مختلف فیہ ہے کہ حضورِ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت (اعلانِ نبوت و نزولِ وحی) کا آغاز کس مہینے سے ہوا تھا۔ بعض ماہِ رمضان اور بعض ماہِ رجب کو قرار دیتے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ اور بعض نے ربیع الاول کا قول کیا ہے، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو پیر کے دن آپ کو نبوت عطا کی گئی تھی۔
وضاحتی نقطہ: اگرچہ متعدد احادیث مبارکہ کی روشنی میں سرکارِ دو عالم ﷺ اس وقت بھی نبی تھے جب ابھی حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان مرحلے میں تھے، تاہم یہاں 'ابتدائے نبوت' سے مراد نزولِ وحی اور اعلانِ نبوت کا آغاز ہے، واللہ اعلم۔
اسی طرح ماہِ معراج کے تعلق سے بھی اہل علم کی مختلف آراء ہیں۔ بعض علماء نے ماہِ رجب کو قرار دیا ہے (اور یہی عند العوام والخواص مشہور و مروج ہے)، جبکہ حضرت ابراہیم حربی (م ۲۸۵ھ) وغیرہ کا کہنا ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ تھا۔
دخولِ مدینہ و وفاتِ مبارک کا مہینہ
سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ منورہ میں داخل ہونے اور آپ کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے تعلق سے بھی جمہور کا اتفاق ہے کہ یہ دونوں واقعات ماہِ ربیع الاول ہی میں پیش آئے؛ تاہم مہینے کی دقیق تاریخ کے تعین میں روایات مختلف ہیں۔
وجودِ مصطفیٰ ﷺ: خزانہٴ قدرت کی سب سے بڑی نعمت
ایک مرتبہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے روزے کی بابت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: "یہی وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور مجھ پر نبوت نازل کی گئی۔" اس حدیث سے دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت اپنے بندوں پر نازل ہو، اس دن بطورِ شکرانہ روزہ رکھنا مستحب ہے۔
تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جہان میں مبعوث فرمایا جانا اللہ تعالیٰ کا اس امت پر سب سے بڑا احسانِ عظیم ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُول
