| عنوان: | آمدِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قرآنی مقاصد |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ابو النور راشد علی عطاری مدنی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دینِ حق کو تمام ادیان پر غالب کرنا
اللہ تعالیٰ نے رسولِ مکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو صرف عرب، قریش، یا مخصوص قبائل کے لیے نہیں بھیجا، بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بعثت ساری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک ہمہ گیر، عالمی اور دائمی پیغامِ حق کے طور پر ہوئی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت صرف دعوتِ ایمان نہیں تھی، بلکہ نظامِ حق کے غلبے اور باطل کی بیخ کنی کے لیے ایک مکمل انقلابی تحریک تھی۔ قرآنِ مجید اس مقصد کو بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ
ترجمہ کنز الایمان: "وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے برا مانیں مشرک۔" (۱)
یہ آیتِ مبارکہ تین بار قرآنِ مجید میں آئی (۲) اور ہر بار نہایت زور دے کر اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مشن صرف تبلیغ نہیں، بلکہ دینِ حق کو ہر باطل نظریے، نظام اور تہذیب پر غالب کرنا ہے۔
دینِ حق وہ مکمل نظامِ زندگی ہے جو وحی، توحید، عدل، تقویٰ، بندگی، اخلاق، حلال و حرام اور اللہ کی حاکمیت پر مبنی ہے۔ اس کے مقابلے میں دنیا میں پائے جانے والے دیگر ادیان، خواہ وہ مشرکانہ ہوں یا تحریف شدہ، انسانی ساختہ فلسفے ہوں یا بے دین نظام، سب باطل کے دائرے میں آتے ہیں۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بعثت اس لیے ہوئی کہ اس دینِ فطرت، دینِ توحید، دینِ اسلام کو ہر باطل عقیدے اور نظام پر بالا و غالب کیا جائے، دلوں میں بھی، معاشروں میں بھی اور عالمی سطح پر بھی۔
دینِ حق کا غلبہ محض شمشیر و سیف کا نتیجہ نہیں، بلکہ علم، حجت، دعوت، سیرت اور سچائی کی قوت سے بھی حاصل ہوا۔ قرآن نے فرمایا:
قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ۞ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ
ترجمہ کنز الایمان: "بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) آیا اور روشن کتاب، اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے راستے۔" (۳)
رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس مقصدِ بعثت کی عملی تعبیر ہی ہے کہ مکہ میں عقیدے کی جنگ تھی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے توحید کے پیغام کو غالب کیا۔ مدینہ میں معاشرتی نظام قائم ہوا، جس میں دینِ حق نے سیاسی، اقتصادی اور عدالتی میدان میں برتری حاصل کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد خلفائے راشدین نے دنیا کے مختلف خطوں میں عدل و امن پر مبنی اسلامی معاشرے قائم کیے، جہاں رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر انسانی براب
