علمائے اہلِ سنت کی عظمت، صحیح العقیدہ علماء کی پہچان اور فتنۂ سوشل میڈیا

علمائے اہلِ سنت کی عظمت، صحیح العقیدہ علماء کی پہچان اور فتنۂ سوشل میڈیا
عنوان: علمائے اہلِ سنت کی عظمت، صحیح العقیدہ علماء کی پہچان اور فتنۂ سوشل میڈیا
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تمہید

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، وَعَلٰى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَوْلِيَائِهِ وَعُلَمَاءِ أُمَّتِهِ أَجْمَعِينَ۔

اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس کی بنیاد علم، عمل، عقیدہ، اخلاق اور ادب پر قائم ہے۔ اسلام نے جہاں والدین کی عظمت بیان کی، جہاں اہلِ ایمان کی شان بیان کی، جہاں اولیائے کرام کے مقام کو واضح فرمایا، وہیں علماءِ حق کی عظمت اور اہلِ علم کی شان کو بھی بلند فرمایا۔

علماء صرف کتابیں پڑھانے والے افراد کا نام نہیں، بلکہ جب وہ صحیح علم، صحیح عقیدہ، تقویٰ اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرتے ہیں تو وہ امت کی فکری رہنمائی کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔ وہ قرآن سمجھاتے ہیں، حدیث کی روشنی میں مسائل بیان کرتے ہیں، فقہ کے ذریعے زندگی کے معاملات کی رہنمائی کرتے ہیں اور امت کو فتنوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ موبائل کے ایک چھوٹے سے پردے نے بہت سے لوگوں کے لیے علم کا معیار بدل دیا ہے۔ اب بعض لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ کون عالم ہے؟ کس سے پڑھا ہے؟ اس کا عقیدہ کیا ہے؟ اس کی علمی بنیاد کیا ہے؟ بلکہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کون زیادہ اچھا بولتا ہے، کس کی آواز زیادہ پُرجوش ہے، کس کی ویڈیو زیادہ وائرل ہے اور کس کے فالورز زیادہ ہیں۔ حالانکہ یاد رکھنا چاہیے کہ وائرل ہونا، مشہور ہونا، خوبصورت تقریر کرنا یا زیادہ فالورز ہونا علم، فقاہت اور صحیح عقیدے کی دلیل نہیں۔

علم اور اہلِ علم کی عظمت قرآنِ کریم میں

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ

ترجمہ: "پपढ़و اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا فرمایا۔"

اسلام کی پہلی وحی ہی علم سے شروع ہوئی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دینِ اسلام میں علم کی کتنی عظمت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ: "فرما دیجیے! کیا علم والے اور بے علم لوگ برابر ہو سکتے ہیں؟"

قرآن کا جواب واضح ہے کہ علم والے اور بے علم برابر نہیں ہو سکتے۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ

ترجمہ: "اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم عطا کیے جانے والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔"

سوچنے کی بات ہے کہ جس طبقے کے درجات اللہ تعالیٰ خود بلند فرمائے، اس طبقے کی توہین، تحقیر اور بے ادبی کس قدر خطرناک ہو سکتی ہے!

علماء کا اصل مقام

حضور نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ" (بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں)۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا، لیکن دین کی تعلیم، قرآن و سنت کی حفاظت اور امت کی رہنمائی کا سلسلہ علماء کے ذریعے جاری رہا۔

علماءِ حق نے قرآنِ کریم کی تفاسیر لکھیں، احادیثِ مبارکہ کو جمع کیا، اصولِ حدیث مرتب کیے، فقہ کے عظیم ذخیرے تیار کیے، باطل نظریات کا رد کیا، اور عقائدِ اسلامیہ کی حفاظت کی۔ اگر امت میں علماء نہ ہوتے تو آج ایک عام مسلمان قرآن کی آیات کو اپنی مرضی سے سمجھتا، ہر شخص حدیث کا اپنا مطلب نکالتا اور دین سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا۔ اسی لیے علماء کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے اور قیامت تک رہے گی۔

ہر تقریر کرنے والا عالم نہیں

یہ موجودہ دور کی سب سے اہم بات ہے۔ ہر مقرر عالم نہیں ہوتا، ہر خطیب مفتی نہیں ہوتا، ہر قاری محدث نہیں ہوتا، ہر مشہور شخص محقق نہیں ہوتا، اور ہر مذہبی ویڈیو بنانے والا دین کا معتبر رہنما نہیں ہوتا۔ کسی شخص کے بولنے کا انداز اچھا ہو سکتا ہے، حافظہ اچھا ہو سکتا ہے، آواز اچھی ہو سکتی ہے اور وہ ہزاروں لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن ان چیزوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ہر دینی مسئلے میں صحیح رہنمائی کا اہل بھی ہے۔

دین کا علم حاصل کرنے کے لیے برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ قرآن، تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، عقائد، عربی زبان، نحو، صرف اور دیگر علوم کو سمجھنا پڑتا ہے۔ اس لیے صرف پانچ یا دس منٹ کی ویڈیو دیکھ کر کسی شخص کو بڑا عالم سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔

اے نوجوانو! مقرر کی آواز نہیں، عقیدہ دیکھو

میرے عزیز نوجوانو! آج اگر کوئی شخص بلند آواز میں بولے، جذباتی بات کرے، مخالفین پر تنقید کرے، اشعار پڑھے اور لوگوں کو جوش دلائے تو فوراً ہزاروں لوگ اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ لیکن ذرا رکو! ایک مرتبہ اپنے آپ سے سوال کرو:

• جس شخص کی بات میں سن رہا ہوں، کیا اس کا عقیدہ درست ہے؟
• اس نے دین کہاں سے پڑھا ہے؟
• اس کے اساتذہ کون ہیں؟
• کیا وہ اپنے سے بڑے اور معتبر اہلِ علم سے جڑا ہوا ہے؟
• کیا وہ مسائل میں تحقیق اور احتیاط سے کام لیتا ہے؟
• کیا وہ قرآن و سنت کو اہلِ علم کے اصولوں کے مطابق سمجھتا ہے؟
• کیا اس کی بات امت کے مسلمہ دینی اصولوں سے ٹکراتی تو نہیں؟

یہ سوالات کیے بغیر کسی شخص کو اپنا دینی رہنما بنا لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ دین یوٹیوب کی وائرل ویڈیو نہیں ہے کہ صبح ایک ویڈیو دیکھی، دوپہر میں دوسری تقریر سنی، شام کو کسی تیسرے مقرر کو سنا، اور دوسرے دن خود کو مفتی اور مناظر سمجھنے لگے۔ دین کتابوں، اساتذہ، تحقیق، ادب، مسلسل تعلیم اور اہلِ علم کی رہنمائی سے حاصل ہوتا ہے۔

صحیح العقیدہ عالم کی اہمیت

ایک مسلمان کے لیے صرف عالم ہونا کافی نہیں، بلکہ صحیح العقیدہ ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ عقیدہ دین کی بنیاد ہے۔ نماز اہم ہے، روزہ اہم ہے، زکوٰۃ اہم ہے، حج اہم ہے؛ لیکن ان سب کے ساتھ صحیح ایمان اور درست عقیدہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے ہمیں دین ان لوگوں سے سیکھنا چاہیے جو اپنے عقیدے میں مضبوط، علم میں معتبر اور اپنے اکابر کی علمی روایت سے وابستہ ہوں۔ اہلِ سنت و جماعت کے معتبر علماء نے صدیوں سے قرآن و سنت کی تشریح اور حفاظت کی ہے۔

برصغیر میں اہلِ سنت کے بہت سے عظیم علماء گزرے ہیں جنہوں نے دین کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ انہوں نے مدارس قائم کیے، فتاویٰ لکھے، حدیث پڑھائی، عقائد کی حفاظت کی اور امت کو سنتِ رسول ﷺ سے جوڑا۔ ان اکابر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی علمی خدمات بھی اہلِ سنت کے علمی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔ لیکن ہمیں صرف ناموں پر فخر کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ اپنے اکابر کی کتابیں، ان کی علمی خدمات اور ان کے اخلاق و کردار کو بھی سمجھنا چاہیے۔

عالم کی پہچان صرف لباس سے نہیں

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شخص جو مذہبی لباس پہن لے، وہ لازماً بڑا عالم نہیں ہو جاتا، اور دوسری طرف کسی عالم کی قدر صرف اس کی ظاہری شہرت سے بھی نہیں کی جاتی۔ حقیقی عالم کی پہچان میں یہ چیزیں دیکھی جاتی ہیں: صحیح اور مضبوط عقیدہ، قرآن و سنت کا علم، معتبر اساتذہ سے تعلیم، علمی روایت سے وابستگی، مسائل میں تحقیق اور احتیاط، تقویٰ اور خوفِ خدا، اخلاق اور عاجزی، علم کے ساتھ عمل، اور لوگوں کی اصلاح کی فکر۔

علماء کی توہین کیوں خطرناک ہے؟

علماء کی توہین دراصل علم کے راستے کو کمزور کرتی ہے۔ جب نوجوانوں کے دل سے علماء کی عزت نکال دی جاتی ہے تو پھر وہ کس سے دین سیکھیں گے؟ پھر ہر شخص اپنی عقل کو قرآن کا مفسر سمجھنے لگے گا، اور نتیجہ فتنہ، انتشار اور گمراہی کی صورت میں نکلے گا۔

یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی عالم سے اختلاف ہو سکتا ہے، کسی مسئلے میں علمی بحث بھی ہو سکتی ہے، کسی شخص کی غلطی کی نشاندہی بھی کی جا سکتی ہے؛ لیکن اس کے لیے ادب، تحقیق اور انصاف ضروری ہے۔ کسی ایک عالم کی غلطی کو بنیاد بنا کر تمام علماء کو برا کہنا انتہائی غلط طریقہ ہے۔ علماء بھی انسان ہیں، فرشتے نہیں؛ ان سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن اگر کسی عالم سے غلطی ہو جائے تو اس کی اصلاح علمی طریقے سے کی جائے، نہ کہ گالی اور تمسخر کے ذریعے۔

علماء کو چھوڑ کر خود قرآن و حدیث سمجھने کا دعویٰ

آج بعض لوگ کہتے ہیں: "ہمیں کسی عالم کی ضرورت نہیں، ہم خود قرآن و حدیث پڑھ لیں گے۔" اگر صرف ترجمہ پڑھ کر ہر شخص دین کا ماہر بن سکتا تو پھر تفسیر، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ اور عربی زبان کے علوم کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ جس طرح کوئی شخص میڈیکل کی کتاب پڑھ کر ڈاکٹر نہیں بن جاتا، اسی طرح چند ترجمے اور ویڈیوز دیکھ کر کوئی شخص عالمِ دین نہیں بن جاتا۔

اہلِ سنت کے نوجوانوں سے ایک پُرجوش اپیل

اے نوجوانانِ اہلِ سنت! اپنے علماء کو پہچانو، اپنے اکابر کو پہچانو، اپنی علمی تاریخ کو پہچانو اور اپنے فقہی و اعتقادی ورثے کو سمجھو! صرف جذباتی نعرے کافی نہیں، سوشل میڈیا پر بحث کافی نہیں۔ سب سے پہلے خود علم حاصل کرو، قرآن و حدیث کو سمجھو، فقہ و عقیدہ سیکھو، اپنے اکابر کی کتابیں پڑھو اور معتبر علماء کی صحبت اختیار کرو، کیونکہ جس نوجوان کے پاس علم نہیں ہوتا، اسے ہر شخص آسانی سے اپنے پیچھے لگا سکتا ہے۔

خلاصۂ کلام

آج امت کو سب سے زیادہ ضرورت صحیح علم اور صحیح رہنمائی کی ہے۔ موبائل کے دور میں ہزاروں آوازیں موجود ہیں، لیکن ہر آواز حق کی آواز نہیں۔ لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ دین کے معاملے میں تحقیق کرے، معتبر اور صحیح العقیدہ علماء سے تعلق رکھے، اہلِ علم کی عزت کرے اور سوشل میڈیا کے ہر شخص کو اپنا دینی رہنما نہ بنائے۔ علماءِ حق امت کا قلعہ ہیں؛ جب فتنے بڑھتے ہیں تو وہی امت کی رہنمائی کرتے ہیں۔

دعائیہ کلمات

اَللّٰهُمَّ عَلِّمْنَا مَا يَنْفَعُنَا، وَانْفَعْنَا بِمَا عَلَّمْتَنَا، وَزِدْنَا عِلْمًا وَعَمَلًا وَإِخْلَاصًا۔

اے اللہ! ہمیں نفع بخش علم عطا فرما، صحیح عقیدہ عطا فرما، علمائے حق کی محبت عطا فرما اور ہمیں دینِ اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں گمراہ کن نظریات، بے علمی، جھوٹے دعووں اور ہر قسم کے دینی فتنوں سے محفوظ فرما۔
اے اللہ! ہمارے علماءِ حق کی حفاظت فرما، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرما، ان کے ذریعے امت کی اصلاح فرما اور ہمیں ان کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ۔

آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!