ارکانِ نماز کی حکمتیں، اسرار اور فوائد

ارکانِ نماز کی حکمتیں
عنوان: ارکانِ نماز کی حکمتیں
تحریر: مولانا ابرار اختر القادری

علمائے کرام نے ارکانِ نماز کی متفرق حکمتیں بیان کی ہیں۔ جن میں سے چند حکمتیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:

یہ فطری دستور ہے کہ جب انسان کسی اعلیٰ مرتبے والے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے اعضاء کو بلا ضرورت حرکت نہیں دیتا کہ بلاوجہ حرکت کرنا برا سمجھا جاتا ہے۔ اگر مخلوق کا یہ حال ہے تو اب اگر بندہ اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہونے لگے تو اسے کیسا ہونا چاہیے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خوفِ خدا کا خوگر اور زیادہ متقی ہوگا۔ اس کے علاوہ اسے چاہیے کہ وہ دل کو متوجہ رکھے اور اللہ پاک کے سوا ہر چیز کا خیال دل سے نکال دے۔

اعلیٰ حضرت کے والدِ محترم، حضرت علامہ مفتی نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ نماز کے اسرار لکھتے ہوئے بارگاہِ ربوبیت میں قیام کرنے کے متعلق فرماتے ہیں:

جو بات دل میں ہوتی ہے اس کا اثر اقوال و افعال میں ظاہر ہوتا ہے۔ اثرِ قولی یہ ہے کہ زبان سے کہتا ہے: "اللہ اکبر"، اللہ بہت بڑا ہے۔ علماء فرماتے ہیں: جو تکبیر کے معنیٰ نہیں جانتا سخت جاہل ہے اور جو جان کر خدا کے حضور اپنے نفس یا دوسرے کی طرف مائل ہے وہ چیز اس کے نزدیک خدا سے زیادہ بڑی اور اس نامراد کی مرادِ اصلی و معبودِ حقیقی ہے۔ اور اثرِ فعلی یہ ہے کہ اس کے حضور باکمال خشوع و خضوع سے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے، چنانچہ اس مقام میں تین باتوں کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے:

اوّل: اس کھڑے ہونے کو خدا کا احسان سمجھے کہ مجھ سے ناچیز کو اپنے دربار میں بلایا اور کھڑے ہونے کی اجازت دی، جان و دل اس عنایت پر قربان کرے تو بجا ہے اور ہر طرح کی دولت کو اس دولت کے مقابلہ میں خاک سمجھے اور اس پر لات مارے تو زیبا (اچھا) نہ یہ کہ اپنا کمال سمجھے اور بادشاہِ حقیقی پر ناز کرے۔
دوم: بندہ گناہگار ذلیل و خوار کی طرح جس کے قصور سے اس کا مالک آگاہ ہے، شرمندگی سے سر جھکائے رہے اور اپنی اس حالت کو گویا یوں سمجھے کہ ایک دن اسی طرح اس کے حضور کھڑا ہونا اور اپنی نافرمانیوں کا جو عمر بھر کرتا رہا حساب دینا ہے۔
سوم: جس طرح نگاہ ظاہر قدم پر رکھتا ہے روئے باطن جنابِ احدیت کی طرف رکھے، کسی طرف منہ پھیرے نہ دل کو غیر کی طرف متوجہ کرے، گویا اسے بادشاہِ جبار کے سامنے کھڑا کیا ہے اور حکم دیا ہے اگر گردن ہلائے گا مارا جائے گا۔

سجدے کی حکمت اور عاجزی کا اظہار

چہرے کو زمین پر رکھنے یعنی سجدہ کرنے میں بڑی حکمت ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کا سب سے معزز حصہ ہے، اسے زمین پر رکھ کر انسان اپنے رب کے سامنے عاجزی اور تواضع کا اظہار کرتا اور اپنے دل کو دنیاوی وقار سے ہٹاتا ہے تاکہ اللہ کی بارگاہ میں عزت پائے۔ کیونکہ ذلت اس کے سامنے فخر ہے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا عزت اور شان ہے۔

اس میں ایک معنیٰ ناک کو ذلیل کرنا ہے جو تکبر اور شان و شوکت کا گڑھ ہے، اسے ذلیل کرنے کے لیے خاک پر چڑھا دینا۔ کیونکہ خاک، جو گندگی ہے، سب سے گھٹیا چیز ہے۔ تو گویا وہ شخص کہہ رہا ہے کہ اے رب میں نے اپنے جسم کا سب سے معزز حصہ جو کہ میرا چہرہ ہے، سب سے گھٹیا چیز پر رکھا ہے اور میں تیرے حضور کھڑا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تو رب الارباب ہے اور باقی سب تیرے غلام ہیں، تیری قدرت کے سامنے عاجزی، تیری رحمت کا طالب اور تیرے اختیار کے تابع ہوں۔

ارکانِ نماز کی چار چار حکمتیں

حکیم الأُمّت مفتی احمد

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!