ناکامی کے اثرات: نفسیاتی، جسمانی اور سماجی نقصانات اور مثبت پہلو

ناکامی کے اثرات (Effects of failure)
عنوان: ناکامی کے اثرات (Effects of failure)
تحریر: مولانا ابو رجب محمد آصف عطاری مدنی

جب انسان اپنے مقاصد اور اہداف (Goals) پورے کرنے میں اکثر ناکام رہتا ہے۔ بعض اوقات یہ ناکامی تعلیمی میدان میں ہوتی ہے، کبھی کاروبار میں، کبھی علاج معالجے میں، کبھی تلاشِ رشتہ میں، کبھی تلاشِ ملازمت میں اور کبھی ذاتی تعلقات وغیرہ میں! اگر انسان ناکامی کا سامنا جرات و دلیری اور مثبت سوچ سے نہ کرے تو ناکامی اس کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔

نفسیاتی اثرات (Psychological effects)

ناکامی انسان کو مایوسی، ذہنی دباؤ، ناامیدی، پریشانی، کم ہمتی اور احساسِ کمتری کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، لہٰذا کوشش ہی چھوڑ دیتا ہے۔ بعض اوقات انسان بغیر کسی ٹھوس وجہ (Solid reason) کے آئندہ ناکامی سے ڈرنے لگتا ہے۔ یہ خوف اس کی خود اعتمادی کو مزید کمزور کر دیتا ہے جس سے اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ بعض اوقات نفسیاتی اثرات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انسان مسلسل ڈپریشن سے نکلنے کے لیے نادانی میں حرام موت کو گلے لگا لیتا ہے۔

جسمانی اثرات (Physical effects)

ناکامی کے دباؤ کا اثر جسم پر بھی ہوتا ہے، مسلسل مایوسی اور ذہنی تناؤ جسمانی تھکن، بے خوابی، بے چینی، شوگر، بلڈ پریشر اور دل وغیرہ کے امراض کو جنم دیتا ہے۔ بعض افراد کو جسمانی درد بھی محسوس ہوتے ہیں حالانکہ اس کی کوئی طبی وجہ نہیں ہوتی۔

سماجی اثرات (Social impacts)

ناکامی انسان کو تنہائی کی طرف لے جاتی ہے۔ دوستوں، گھر والوں اور رشتہ داروں کی سوالیہ نظریں اس سے اپنے سوال کا جواب مانگتی ہیں کہ آخر تم کب کامیاب ہو گے، پھر طعنے دینے والے (Slanderers) رشتہ دار بھی تیر برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس سے برداشت نہیں ہوتا اور وہ لوگوں سے کٹنے لگتا ہے، اپنے دوستوں اور خاندان سے دور ہو جاتا ہے اور اس کے معاشرتی تعلقات (Social relations) میں کمی آ جاتی ہے۔

اس کے علاوہ امتحان میں ناکامی کا سامنا کرنے والے کی تعلیم پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں اور لوگ اس طرح کے مشورے دینا شروع کر دیتے ہیں کہ اس نے پڑھنا لکھنا نہیں اسے مزدوری پر ڈال دو۔ مناسب نوکری کی تلاش میں ناکام رہنے والے پر مالی اثرات پڑتے ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنی گزر بسر کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ کاروبار میں ناکام رہنے والا مختلف کاروبار کرنے کے بعد اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ پھر کوئی اسے کاروبار کے لیے سرمایہ دینے پر تیار نہیں ہوتا کہ یہ ہماری رقم ڈبو دے گا۔ نیکیوں بھری زندگی بسر کرنے میں ناکام رہنے والا لوگوں کی نظر میں بھی برا بنتا ہے اور اس کی اخروی زندگی پر بھی برے اثرات پڑتے ہیں۔

ناکامی کے مثبت پہلو (Positive aspects of failure)

اگر سوچ مثبت ہوگی تو انسان ناکامیوں سے بھی سبق سیکھتا ہے جیسے:

ناکامی انسان کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ کامیابی کی راہ میں ناکامی ایک سیڑھی ہے۔ جو لوگ ناکامی کے بعد ہمت نہیں ہارتے وہ بالآخر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ناکامی کو زندگی کا اختتام نہ سمجھیں۔ ہر ناکامی میں کامیابی کا سبق چھپا ہوتا ہے۔ کامیاب لوگ بھی ناکامیوں سے گزر کر ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ اس لیے ناکامی کے بعد ہمت نہ ہاریں، بلکہ نئے طریقے آزمائیں، مستقل مزاجی، محنت اور مثبت سوچ کے ساتھ ناکامی کو شکست دی جا سکتی ہے۔ اللہ پر بھروسا رکھیں۔ اللہ کریم ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین!

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!