| عنوان: | غفلت اور بیداریِ فکر: آغوشِ غفلت سے آغوشِ توبہ تک |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمہید
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
انسان کی سب سے بڑی محرومیوں میں سے ایک محرومی غفلت ہے۔ غفلت انسان کو اپنے خالق و مالک کی یاد سے دور کر دیتی ہے اور دنیا کی فانی لذتیں، مال و دولت، اولاد، شہرت اور عیش و عشرت اسے اس قدر مشغول کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی حقیقی منزل، یعنی موت، قبر، آخرت اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو بھول جاتا ہے۔
دنیا کا مال و متاع، تجارت، اولاد اور آسائشیں بذاتِ خود بری نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی چیزیں انسان کو اللہ تعالیٰ کی یاد، فرائض کی ادائیگی، اطاعت اور آخرت کی تیاری سے غافل کر دیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انسان غفلت کی تاریکی سے نکل کر بیداریِ فکر، یادِ الٰہی، اتباعِ سنت، توبہ و استغفار اور نیک اعمال کی روشنی اختیار करे۔
غفلت کا بیان اور اصلاحِ اعمال
غفلت یہ ہے کہ انسان اپنے اصل مقصدِ زندگی کو بھول جائے، اللہ تعالیٰ کی یاد سے دور ہو جائے اور دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۤىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: "اے ایمان والو! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل کر دیں، اور جو ایسا کریں گے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔"
یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ مال اور اولاد کی محبت انسان کو اپنے رب کی یاد سے غافل نہ کر دے۔ رزق کمانا، اہل و عیال کی خدمت کرنا، صلہ رحمی کرنا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا یقیناً اچھے اعمال ہیں، بلکہ اچھی نیت کے ساتھ عبادت بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر انسان دنیا کی مشغولیت میں اس قدر ڈوب جائے کہ نماز، ذکر، اطاعت اور آخرت کی فکر سے محروم ہو جائے تو یہی مشغولیت اس کے لیے غفلت کا سبب بن سکتی ہے۔
درودِ پاک کی فضیلت و برکات
رسولِ اکرم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم، حضرت محمد مصطفیٰ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ پر درود و سلام پڑھنا عظیم عبادت اور باعثِ برکت عمل ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم)
رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ کا ذکر مبارک آئے تو ادب و محبت کے ساتھ درود شریف پڑھنا مسلمان کے لیے سعادت کی بات ہے۔ درود پاک دل میں محبتِ رسول ﷺ پیدا کرتا ہے، زبان کو ذکر سے آباد کرتا ہے اور انسان کو حضور اکرم صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔
صلوا علی الحبیب! صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى مُحَمَّد
سونے کی اینٹ اور خوابِ غفلت
منقول ہے کہ ایک شخص کے ہاتھ سونے کی ایک اینٹ لگ گئی۔ وہ اس دولت کو پا کر خوشی اور دنیاوی منصوبوں میں اس قدر ڈوب گیا کہ ساری رات مختلف خیالات میں گزار دی۔ وہ سوچتا رہا کہ اب میں خوب آسائشیں حاصل کروں گا، عمدہ لباس پہنوں گا، بہترین مکان بناؤں گا اور خوش حالی کی زندگی گزاروں گا۔
یہ مثال انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دنیاوی دولت اور منصوبوں میں اس قدر مشغول ہو جانا کہ انسان اپنے رب کو بھول جائے، حقیقی نقصان ہے۔ دولت اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت، خیرات، خدمتِ خلق اور آخرت کی تیاری میں استعمال ہو تو نعمت ہے، لیکن اگر یہی دولت انسان کو غرور، حرص اور غفلت میں مبتلا کر دے تو آزمائش بن جاتی ہے۔
موت سے پہلے بیداری کی ضرورت
انسان دنیا کے کاموں میں مصروف رہتا ہے۔ کوئی تجارت میں مشغول ہے، کوئی مکان بنانے میں، کوئی مال جمع کرنے میں اور کوئی شہرت حاصل کرنے میں۔ یہ تمام چیزیں اپنی اصل میں ممنوع نہیں، لیکن افسوس اس وقت ہے جب انسان اپنے جسم، مکان اور دنیا کی ظاہری زیبائش کے لیے تو بہت فکر کرے مگر اپنی قبر اور آخرت کی تیاری کو بھول جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ موت اچانک آ جائے اور انسان کو دنیا کی تمام آسائشوں سے جدا کر دے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنِيْۤ اِلٰىۤ اَجَلٍ قَرِيْبٍ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا ۚ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: "اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے: اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔ اور ہرگز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وقت آ جائے، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔"
لہٰذا دانش مندی اسی میں ہے کہ موت آنے سے پہلے انسان توبہ کرے اور اپنی زندگی کو نیکیوں سے آباد کرے۔
بزرگوں کا خوف اور ہماری غفلت
اہلِ اللہ اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا حال یہ ہوتا تھا کہ وہ اپنی عبادات پر غرور نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اپنے اعمال کی کمی اور آخرت کے حساب سے خوف زدہ رہتے تھے۔ بزرگانِ دین کے حالات میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ وہ اپنی عبادتوں میں بھی اخلاص اور قبولیت کی فکر کرتے تھے۔ یہی کیفیت انسان کو عاجزی سکھاتی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بھی اپنی عبادتوں کی قبولیت کے بارے میں خوف رکھتے تھے تو ہم اپنے گناہوں کے باوجود کس قدر بے فکر ہیں؟ بعض لوگ گناہ کرتے ہیں، پھر اس گناہ کو معمولی سمجھتے ہیں اور بعض اوقات اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ یہ کیفیت انتہائی خطرناک ہے۔
گناہوں پر خوش ہونا خطرناک ہے
جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، دھوکا دینا، ملاوٹ کرنا، غیبت کرنا، ظلم کرنا اور لوگوں کو تکلیف دینا گناہ ہیں۔ گناہ سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ انسان گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھے یا اس پر خوش ہو اور فخر کرے۔ رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ کی تعلیمات ہمیں گناہوں سے بچنے، حیا اختیار کرنے، سچی توبہ کرنے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتی ہیں۔ لہٰذا اگر انسان سے گناہ ہو جائے تو مایوس ہونے کے بجائے فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کرے
موت کی یاد اور زندگی کی حقیقت
انسان کی زندگی میں بڑھتی عمر، جسمانی کمزوری، بیماری اور دنیا سے رخصت ہونے والے لوگوں کے واقعات اسے مسلسل یاد دلاتے ہیں کہ یہ زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔ بیماری بھی انسان کو اپنی کمزوری اور زندگی کی ناپائیداری کا احساس دلاتی ہے۔ لہٰذا مریض ہو یا صحت مند، جوان ہو یا بوڑھا، ہر مسلمان کو اپنے انجام کی فکر اور نیک اعمال کی تیاری کرنی چاہیے۔
نماز کی حفاظت
نماز اسلام کا بنیادی فریضہ اور بندے اور رب کے درمیان عظیم تعلق ہے۔ جان بوجھ کر نماز ترک کرنا انتہائی خطرناک اور سخت گناہ ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ نماز کی پابندی کرے اور اگر اس سے کوتاہی ہوئی ہو تو فوراً توبہ کرے۔ جو نمازیں رہ گئی ہوں ان کے بارے میں اپنے معتبر فقہی مسلک کے مطابق کسی مستند عالم یا دارالافتاء سے رہنمائی حاصل کرے اور ان کی ادائیگی کی کوشش کرے۔ نماز کو معمولی سمجھنا نہیں چاہیے، کیونکہ نماز انسان کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے جوڑتی ہے۔
روزوں کی اہمیت
رمضان المبارک کے روزے اسلام کے عظیم فرائض میں سے ہیں۔ بلا عذرِ شرعی روزہ چھوڑنا گناہ ہے۔ جس شخص سے کوتاہی ہو جائے اسے سچی توبہ کرنی چاہیے اور اپنے فقہی مسلک کے مطابق قضا اور دیگر ضروری احکام کے بارے میں معتبر عالم سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ صرف یہ سوچ کر کہ بعد میں دیکھیں گے، فرائض کو چھوڑ دینا عقلمندی نہیں۔ آج زندگی ہے، کل کا کوئی یقین نہیں۔
آنکھوں اور کانوں کی حفاظت
اسلام انسان کو نگاہ اور سماعت دونوں کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان والے اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔ لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ حرام نگاہ، فحش مناظر، بے حیائی، گناہ کی باتیں اور ایسی چیزوں سے بچے جو دل کو خراب اور ایمان کو کمزور کرتی ہیں۔ اسی طرح کانوں کی بھی حفاظت ضروری ہے۔ غیبت، بہتان، فحش گفتگو اور گناہ کی باتوں کو شوق سے سننا انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہر مسلمان کو اپنی آنکھوں، کانوں، زبان اور دل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھنا چاہیے۔
دیور، جیٹھ اور بھابھی کے درمیان شرعی احتیاط
اسلام نے خاندان کے تمام افراد کو پاکیزگی، حیا اور حدودِ شرع کی پابندی کی تعلیم دی ہے۔ دیور اور جیٹھ بھابھی کے لیے محرم نہیں ہیں، اس لیے ان کے درمیان شرعی پردے اور احتیاط کے احکام ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح بے تکلفی، غیر ضروری خلوت، شہوت انگیز گفتگو اور ایسا مذاق جس سے فتنے کا اندیشہ ہو، اس سے بچنا چاہیے۔
پردے کی اہمیت
اسلامی تعلیمات میں حیا اور پاک دامنی کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ محرم اور نامحرم کے احکام کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ عورت اور مرد دونوں کو اپنی نگاہ، لباس، گفتگو اور طرزِ عمل میں شرعی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔ پردے کے تفصیلی مسائل میں عمر، بلوغت، محرم و نامحرم اور مختلف فقہی احکام شامل ہیں، اس لیے کسی مخصوص عمر کو ہر صورت میں قطعی عمومی حکم قرار دینے کے بجائے مستند عالم یا معتبر فقہی کتاب سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
داڑھی اور سنتِ رسول ﷺ
رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ نے مسلمانوں کو اپنی فطرت اور اسلامی شناخت کی حفاظت کی تعلیم دی۔ صحیح احادیث میں مونچھیں کم کرنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم وارد ہوا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ محبتِ رسول ﷺ کے تقاضے کے مطابق سنتوں پر عمل کی کوشش کرے۔ اگر کسی سے کوتاہی ہوئی ہو تو اسے طعن و تشنیع کے بجائے محبت، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ سنت کی طرف بلایا جائے۔
ناجائز فیشن اور ظاہری نمود و نمائش
اسلام صفائی، خوب صورتی اور اچھی حالت اختیار کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ لیکن ایسا فیشن جو بے حیائی، غیر اسلامی مشابہت، تکبر، فضول خرچی یا گناہ کا ذریعہ بن جائے، مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے۔ خوب صورتی اختیار کیجیے، مگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے نہیں۔ لباس پہنئے، مگر حیا اور شرعی حدود کو ملحوظ رکھ کر۔
وضو، غسل اور نیل پالش
وضو اور غسل کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ پانی جسم کے اس حصے تک پہنچے جس کا دھونا فرض ہے۔ اگر ناخن پر ایسی چیز جمی ہوئی ہو جو پانی کو ناخن تک پہنچنے سے روک دے تو وضو یا غسل سے پہلے اسے دور کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا خواتین اور مردوں دونوں کو طہارت کے مسائل سیکھने چاہئیں اور اپنی عبادات کو صحیح طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔
قضا نماز، توبہ اور آئندہ زندگی
اگر کسی مسلمان سے نماز یا روزے میں کوتاہی ہوئی ہے تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ سب سے پہلے سچی توبہ کیجیے، اپنے گناہ پر نادم ہوں، آئندہ گناہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کریں اور جہاں کسی بندے کا حق ہو اسے ادا کرنے یا معافی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ نمازوں اور روزوں کی قضا کے تفصیلی مسائل اپنے معتبر فقہی مسلک کے مطابق کسی مستند دارالافتاء یا عالمِ دین سے معلوم کریں اور ایک منظم طریقے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کریں۔
آج ہی نیت کیجیے کہ:
• اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى میں اپنی نمازوں کی پابندی کروں گا۔
• اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى گناہوں سے بچوں گا۔
• اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى حقوق العباد کا خیال رکھوں گا۔
• اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى سچی توبہ کر کے اپنی زندگی کو بہتر بناؤں گا۔
خلاصۂ کلام
غفلت انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ مال، اولاد، تجارت اور دنیا کی دیگر نعمتیں اپنی ذات میں بری نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں، لیکن جب یہی چیزیں انسان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز، اطاعت اور آخرت کی تیاری سے غافل کر دیں تو یہ اس کے لیے آزمائش بن جاتی ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ موت کو یاد رکھے، اپنی زندگی کے مقصد کو پہچانے، نمازوں کی پابندی کرے، رمضان کے روزوں کی حفاظت کرے، اپنی نگاہ اور زبان کی حفاظت کرے، حیا اور شرعی حدود کی پابندی کرے اور رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں سے محبت کرے گی۔ اگر زندگی میں گناہ ہو گئے ہوں تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ غفلت کی آغوش سے نکل کر توبہ کی آغوش میں آ جانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
دعائیہ کلمات
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں غفلت کی نیند سے بیدار فرما۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے زندہ فرما۔
اے اللہ! ہمیں سچی توبہ نصیب فرما اور ہمارے ظاہر و باطن کی اصلاح فرما۔
اے اللہ! ہماری نمازوں کی حفاظت فرما، ہماری نگاہوں کی حفاظت فرما، ہماری زبانوں کی حفاظت فرما اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دنیا کی محبت میں اس قدر گرفتار نہ فرما کہ ہم آخرت کو بھول جائیں۔
اے اللہ! موت سے پہلے سچی توبہ، موت کے وقت کلمۂ طیبہ، قبر میں آسانی اور قیامت کے دن اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت نصیب فرما۔
اٰمِيْن بِجَاهِ النَّبِيِّ الْاَمِيْن صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ
صلوا علی الحبیب! صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى مُحَمَّد صلی اللہ علیہ وسلم
