| عنوان: | فتنۂ زن اور قصۂ برصیصیا |
|---|---|
| تحریر: | محمد ارمان علیمی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيئُ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ کنز العرفان: "شیطان کی کہاوت جب اُس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب۔" (الحشر: ۱۶)
آیتِ مبارکہ کی تفسیر و پس منظر
اس آیت میں منافقوں اور یہودیوں کی ایک مثال بیان کی جا رہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ منافقوں کا بنو نضیر کے یہودیوں کے ساتھ سلوک ایسا ہے جیسے شیطان کی مثال کہ اس نے اپنے مکر و فریب سے آدمی کو کفر کرنے کا کہا اور جب اس نے کفر کرلیا تو اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ میں تجھ سے بیزار ہوں اور بیشک میں اس اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب ہے۔ ایسے ہی منافقوں نے بنو نضیر کے یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف اُبھارا، جنگ پر آمادہ کیا، اُن سے مدد کے وعدے کئے اور جب اُن کے کہنے سے یہودیوں نے مسلمانوں سے جنگ کی تو منافق اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور یہودیوں کا ساتھ نہ دیا۔ (تفسیر خازن)
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے بنی اسرائیل کا راہب برصیصیا مراد ہے، اس کا واقعہ یوں ہے کہ دورِ فترت میں اس نے عبادت خانہ (گرجا) بنا رکھا تھا اور اس میں ستر سال تک عبادتِ الٰہی میں مشغول رہا۔
برصیصیا اور شیطان کا فریب
شیطان اس کو گمراہ کرنے سے عاجز آچکا تھا اور کوئی چارہ نہ رہا تھا۔ ایک دن اس نے شیاطین کے گروہ کو جمع کر کے کہا: "کوئی تم میں سے ایسا ہے جو اسے گمراہ کرے؟" ایک شاطر شیطان نے بڑھ کر کہا کہ میں کرتا ہوں۔ وہ برصیصیا کے گرجا میں گیا اور راہب کی شکل بنا کر کہا: "مجھے اپنے ساتھ رہنے دیجیے، میں بھی تنہا عبادتِ خداوندی میں مشغول ہونا چاہتا ہوں۔"
برصیصیا نے کہا: "تمہارے میرے ساتھ کیا سروکار! تیرے ساتھ رہنے سے میری عبادت میں خلل آئے گا، کیونکہ میں دس دن تک مسلسل نماز میں گزارتا ہوں اور ساتھ روزہ بھی رکھتا ہوں، پھر دس دن بغیر کچھ کھائے پئے افطار کرتا ہوں۔"
شیطان نے گرجا کے باہر نماز شروع کر دی اور چالیس روز تک کھائے پیے بغیر مسلسل نماز میں مشغول رہا۔ برصیصیا کو اس کی یہ ادا بہت پسند آ گئی۔ ایک سال وہاں گزارنے کے بعد شیطان نے کہا: "میرا ایک اور ساتھی ہے، میں اس کے پاس جانا چاہتا ہوں، کیونکہ میں نے سمجھا تھا کہ آپ اس سے بڑھ کر ہوں گے مگر معاملہ برعکس ہے، اسی لیے اب یہاں میرا رہنا میری عبادت کی مشغولی میں کمی کا خطرہ ہے۔"
برصیصیا نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس سے جدا ہو، لیکن شیطان بضد تھا۔ برصیصیا کو اس کی عبادت کا طریقہ کار بہت پسند تھا، اسی لیے اس نے بہت منت و سماجت کی، لیکن شیطان نہ مانا اور کہا: "میں نے لازماً جانا ہے، البتہ تجھے ایک گر سکھا دیتا ہوں، جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہر بیماری بالخصوص جنون، دیوانگی اور دیگر عصیص علاج بیماریاں شفا بخشے گا، اور یہ کام تیری ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے، کیونکہ بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع دے۔" برصیصیا نے کہا: "یہ کام میرے بس سے باہر ہے"، لیکن شیطان نے خوب سبز باغ دکھا کر اسے منوا لیا اور وہ دعا سکھا کر الوداع ہو گیا۔
گناہ کا آغاز اور زوال
ابلیس اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر بولا کہ میں نے برصیصیا کو ہلاک کر ڈالا یعنی قابو میں لے لیا اور اپنی کارروائی سنائی۔ اس کے بعد شیطان نے ایک شخص کے ساتھ وہی کیا جو جنات کرتے ہیں، پھر خود طبیب بن کر اس کے گھر والوں کے پاس علاج کے لیے پہنچ گیا اور کہا: "اس کا علاج برصیصیا کے پاس ہے، اس کی دعا سے یہ ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ اس پر دیو کا اثر ہے اور وہ میرے قابو میں نہیں آ سکتا۔"
وہ لوگ اس جوان کو برصیصیا کے پاس لے گئے، برصیصیا نے دعا کی تو اسے آرام آ گیا۔ پھر اسی شیطان نے بنی اسرائیل کے بادشاہ کی لڑکی پر جنون و دیوانگی ڈال دی، وہ شہزادی حسن و جمال میں پری پیکر اور دنیا بھر میں اپنی مثال آپ تھی، اس کے تین بھائی تھے۔ شیطان بصورتِ ڈاکٹر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور کہا: "اس پر دیو کا اثر ہے اور ہے بھی سرکش، میرے قابو میں نہیں آ سکتا، البتہ میں تمہیں ایک شخص کا نام بتا دوں، اگر وہ دعا کرے تو شہزادی تندرست ہو سکتی ہے۔"
بادشاہ نے پوچھا: "وہ شخص کون ہے؟" کہا: "برصیصیا۔" بادشاہ نے کہا کہ وہ تو مستغنی ہے، کسی کے پاس آتا جاتا نہیں۔ شیطان نے کہا: "اس کی آسان صورت یہ ہے کہ گرجا کے ساتھ شہزادی کا کمرہ تیار کریں اور برصیصیا سے کہیں کہ یہ آپ کی امانت ہے، اس پر نظرِ کرم فرمائیے، شفایاب ہو جائے گی تو آپ کو اجرِ عظیم ملے گا۔" ایسا ہی کیا گیا۔
شیطان نے برصیصیا کے پاس پہنچ کر وسوسہ ڈالا: "ایسی حسن و جمال کی پری پیکر پھر کہاں ملے گی، اس سے جماع کر لے، پھر توبہ کر لینا، رحمتِ حق وسیع ہے اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔" برصیصیا پر شہوت کا بھوت سوار ہوا اور اس نے شہزادی سے جماع کر لیا جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ برصیصیا اس سے سخت پریشان ہوا، تو شیطان دوست کی صورت میں آیا، اسے تمام ماجرہ سنایا تو شیطان نے کہا: "یہ کام آسان ہے، شہزادی کو قتل کر کے کمرے کے باہر کہیں دفن کر دے، اس کے ورثہ آئیں تو کہہ دینا کہ اسے دیو لے گئے۔"
انجامِ بد اور عبرت کا عبرت ناک انجام
بدبخت نے وہی کیا۔ چند دنوں کے بعد شہزادی کے بھائی آئے تو اس نے وہی جھوٹ بول دیا۔ انہوں نے برصیصیا کی بات کو مان لیا اور گھر واپس آ گئے۔ تو شیطان مسلسل تین بار خواب میں آیا اور برصیصیا کی تمام کہانی بتا دی اور مدفونہ شہزادی کے دفن کی نشاندہی بھی کر دی۔
تینوں بھائی آئے اور شہزادی کو مدفن سے نکال کر برصیصیا کو گرفتار کیا، اس کے گرجا کو تباہ و برباد کر کے اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔ بادشاہ کو حال سنایا تو اس نے پھانسی پر لٹکانے کا حکم دیا۔ پھانسی پر لٹکانے سے پہلے شیطان نے اس کے پاس آ کر کہا: "یہ کارروائی میں نے کی ہے... اگر اب میرا کہا مان لو تو تمہاری جان بخشی ہو سکتی ہے، وہ یہ کہ مجھے سجدہ کر لے۔"
برصیصیا نے سجدہ کیا تو ایمان گیا، اور جب پھانسی پر لٹکایا گیا تو جان بھی چلی گئی۔ اس وقت شیطان اس سے بیزار ہو گیا جیسا کہ قرآن نے بیان کیا۔ ان دونوں کا انجامِ کار یہ ہوا کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔ (تفسیر روح البیان، ج ۱۴، ص ۱۵۱-۱۵۳)
حاصلِ کلام اور دورِ حاضر کے فتنوں سے بچاؤ
اس پورے واقعے سے یہ بات بخوبی معلوم ہوئی کہ فتنۂ زناں اور غیر جنس کا اختلاط ایسی خطرناک چیز ہے جس کی شدت اور انجام کا اندازہ عام انسان نہیں لگا سکتا۔ بسا اوقات ہمیں بظاہر کسی چیز میں اپنے لیے بھلائی نظر آتی ہے، لیکن جب ہم اسے اختیار کر لیتے ہیں تو بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ہمارے لیے ذرہ برابر بھی بھلائی نہ تھی۔
دورِ حاضر میں مردوں اور عورتوں کا باہمی میل جول ایک عام سی چیز سمجھا جانے لگا ہے؛ مثلاً طلبہ و طالبات کی مخلوط تعلیم، جو شرعی اعتبار سے نہایت نامناسب ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے سے غیر ضروری گفتگو کرنا اور واٹس ایپ گروپس میں بلا ضرورت باہمی اختلاط رکھنا بھی بظاہر انسان کو ایک معمولی سی کوتاہی محسوس ہوتی ہے، حالاں کہ یہی معمولی سی کوتاہی بعض اوقات ایک بڑے فتنے کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
انسان ابتدا میں جنسِ مخالف سے محض کچھ وقت کے لیے گفتگو کرتا ہے، پھر رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے بات چیت کی عادت پڑ جاتی ہے، اور یہی تعلق آہستہ آہستہ مزید بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا رہتا ہے اور بالآخر انسان کو ایسی جگہ پہنچا دیتا ہے جہاں اس کے لیے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔
