اسلام کی نظریاتی تعلیمات

اسلام کی نظریاتی تعلیمات
عنوان: اسلام کی نظریاتی تعلیمات
تحریر: مولانا محمد عمران عطاری
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اسلام کی نظریاتی تعلیمات

اسلام اپنے ماننے والوں کی اُن کاموں کے بارے میں بھرپور رہنمائی فرماتا ہے کہ جن کا تعلق عمل کے ساتھ ہے، اس سے کہیں بڑھ کر اسلام نے نظریاتی تعلیمات پر زور دیا ہے اس لیے کہ عقیدہ اساس اور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ عقیدے کی اہمیت کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح بغیر بیج کے فصل نہیں اُگتی، بغیر جڑ کے پودا تناور درخت نہیں بن سکتا، بغیر اساس و بنیاد کے عمارت قائم نہیں رہ سکتی اسی طرح عقیدہ و ایمان کی اصلاح کے بغیر اعمالِ صالحہ کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی، اچھے اور نیک عمل کا ”پھول“ درست ایمان و عقیدے کے بغیر کبھی بھی پھل بن کر آخرت میں فائدہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے اسلام سب سے پہلے ایمان کا حکم دیتا ہے تاکہ اللہ کریم، اس کے پیارے رسول اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے اسے سچے دل سے مان کر زبان سے اقرار کرے تاکہ ایمان کا بیج اس کے اعمال کی فصل کو برباد ہونے سے بچائے اور اس کی محنت رائیگاں نہ جائے۔ قرآنِ پاک میں اس حقیقت کو بہت سے مقامات پر بیان کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ کریم پر ایمان نہ لانےوالے لوگوں کے اعمال کو کہیں راکھ کی طرح، کہیں باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح تو کہیں سَراب (ویرانے میں دھوپ کے وقت پانی کی طرح چمکنے والی ریت) کہا گیا ہے کہ جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن کبھی بھی اس سَراب سے اپنی پیاس نہیں بجھا سکتا۔

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے بنیادی اور اساسی عقائد یوں بیان فرمائے ہیں:

أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ

یعنی ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچھی، بری تقدیر کو مانو۔

اللہ پر ایمان

اسلام کے بنیادی عقائد میں سب سے پہلے اللہ پاک پر ایمان لانا ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ عقیدہ دیا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ یاد رہے اللہ پاک گنتی اور ہندسے والا ایک نہیں ہے بلکہ وہ واحد حقیقی ہے جس کا مطلب واحد و یکتا اور تنہا ہے۔ وہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ ہی کسی کا بیٹا۔ نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی رشتہ دار، وہ قبیلے و خاندان سے پاک اور سب سے بے نیاز ہے، ساری مخلوق کو اسی نے پیدا کیا ہے، سب اسی کے محتاج ہیں، وہ سارے عالم کا پاک پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں— وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی تمام جہان کا بنانے والا ہے۔ انسان، جنات، فرشتے، نباتات، آسمان، زمین، چاند، تارے، جاندار و بے جان سارے کے سارے اُسی ایک ”اللہ“ نے پیدا کیے ہیں۔ اللہ کریم ہر عیب و نقص اور برائی سے پاک ہے۔ وہ ظاہر اور چھپی ہر چیز کو جانتا ہے، کوئی بھی چیز اُس کے علم سے باہر نہیں— جیسے اس کی ذات ہمیشہ سے ہے اسی طرح اُس کی تمام صفات بھی ہمیشہ سے ہیں۔

فرشتوں پر ایمان

فرشتے اللہ پاک کی ایسی مخلوق ہیں کہ جو مذکر و مونث ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں پر ایمان لانا لازمی ہے۔ ان کی تعداد کتنی ہے یہ اللہ کریم ہی بہتر جانتا ہے۔ آسمانوں میں چار انگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے کہ جہاں فرشتوں نے سجدے میں پیشانی نہ رکھی ہو۔ فرشتے نُور سے پیدا کیے گئے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ

یعنی فرشتوں کو نُور سے پیدا کیا گیا ہے۔ فرشتے نہ تو کچھ کھاتے ہیں اور نہ ہی پیتے ہیں۔ ان کے دو دو، تین تین اور چار چار پَر ہیں۔ اللہ پاک نے انہیں یہ طاقت بھی عطا فرمائی ہے کہ یہ جو شکل چاہیں اختیار کر لیں۔ فرشتے ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہیں۔ جو حکمِ الٰہی ہو فرشتے وہی کرتے ہیں۔ اللہ کریم کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ مختلف فرشتے مختلف کاموں پر مقرر کئے گئے ہیں جیسے کچھ نامۂ اعمال لکھنے پر مقرر ہیں انہیں "کراماً کاتبین" کہتے ہیں۔ آٹھ فرشتے ایسے ہیں جو بروزِ قیامت عرش اٹھائیں گے۔ انیس فرشتے ایسے ہیں جو دوزخ پر مقرر ہیں۔ کچھ فرشتے مُردوں سے سوالات کرنے پر بھی مقرر ہیں۔ فرشتوں کے وجود کا انکار قرآنِ پاک کی کثیر آیات کا انکار ہے اور ایسا کرنے والا آدمی مسلمان نہیں رہتا۔

کتابوں پر ایمان

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم نے اپنے رسولوں پر جو کتابیں اتاری ہیں وہ سب حق ہیں۔ جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہر مکلّف (عاقل، بالغ، مسلمان) پر فرض ہے اسی طرح اُن کتابوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ کریم نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پہلے نبیوں پر نازل فرمائیں، البتہ اُن کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے اُن پر عمل دُرست نہیں مگر ایمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ المقدس قبلہ تھا، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیتُ المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں، یہ حکم منسوخ ہو چکا۔

رسولوں پر ایمان

اس کا مطلب یہ ہے کہ رسولوں نے جو خبریں اللہ پاک کے بارے میں دی ہیں ان تمام خبروں اور تمام باتوں کو حق مانا جائے۔ اللہ کریم کے دربار میں انبیاءِ علیہم الصّلوٰۃ والسلام کی بہت عزّت اور بڑا مقام ہے۔ وہ اللہ کریم کے پیارے اور اس کے محبوب ہوتے ہیں، ان پر وحی نازل ہوتی ہے انہیں طرح طرح کے کمالات و معجزات عطا کئے جاتے ہیں ساری مخلوق میں سب سے افضل رُتبہ انبیاءِ کرام ہی کا ہوتا ہے حتّٰی کہ نبی فرشتوں سے بھی افضل ہوتے ہیں۔ انبیاءِ علیہم الصّلوٰۃ والسلام تمام مخلوق سے افضل ہیں، ان کی تعظیم و توقیر یعنی عزّت و احترام فرض اور ان کی اَدنیٰ توہین و گستاخی یا تکذیب یعنی انہیں جھٹلانا کفر ہے۔ آدمی جب تک ان سب انبیاءِ علیہم الصّلوٰۃ والسلام کو نہ مانے مومن نہیں ہو سکتا۔ شیطان اللہ کریم کے پیارے نبی آدم علیہ السلام کی بے ادبی اور گستاخی کرنے ہی کی وجہ سے لعنتی قرار دیا گیا۔

آخرت پر ایمان

توحید کے بعد دوسری صفت جو ہر زمانے میں تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر مُنْکَشِف کی گئی اور جس کی تعلیم دینے پر وہ مامور کیے گئے وہ آخرت پر یقین رکھنا تھا کیونکہ دین کا پہلا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہمارا رب صرف اللہ ہے جس کی عبادت کی جانی چاہیے اور دوسرا بنیادی اصول آخرت پر یقین رکھنا ہے جسے سورۂ البقرہ کی پہلی ہی آیت میں ترتیب کے ساتھ اس طرح فرمایا گیا ہے کہ ﴿الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ﴾ (ترجمہ کنز الایمان: وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں) اور ﴿وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ﴾ (ترجمہ کنز الایمان: اور آخرت پر یقین رکھیں) اور ایسے ہی لوگوں کو ان ہی آیات میں مُتَّقِیْن (ڈر والے) کے لقب سے نوازا گیا ہے اور بلند مرتبہ کتاب (قرآن) ایسے ہی ڈر والوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی گئی ہے۔ آخرت کے انکار کے بعد خدا کو ماننا دینِ اسلام میں کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ آخرت کو مُسْتَبْعَد (یعنی بعید و ناممکن) سمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہیں بلکہ خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے۔

تقدیر پر ایمان

دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی، بدی وہ سب اللہ تعالیٰ کے علمِ ازلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تقدیر کا انکار کرنے والوں کو اس ”اُمت کا مجوس“ قرار دیا ہے۔ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلہ تقدیر پر بحث کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ناراض ہوئے حتی کہ چہرۂ انور سرخ ہو گیا گویا کہ رُخساروں میں انار نچوڑ دیے گئے ہیں اور فرمایا: کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں؟ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کیے تو ہلاک ہی ہو گئے میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو۔

حوالہ جات

(1) مسلم، ص 21، حدیث: 8
(2) ترمذی، 4/141، حدیث: 2319
(3) مسلم، ص 1221، حدیث: 7495
(4) پ 22، الفاطر: 1
(5) فتح الباری، 2/108، تحت الحدیث: 50
(6) خزائن العرفان، پ 1، بقرہ، تحت الآیۃ: 4
(7) فتح الباری، 2/108، تحت الحدیث: 50
(8) عقیدہ آخرت، ص 12
(9) کتاب العقائد، ص 24
(10) ابو داؤد، 4/294، حدیث: 4691
(11) ترمذی، 4/51، حدیث: 2140

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!