اسلام، سائنس اور عقل

اسلام، سائنس اور عقل: جدید فکری چیلنجز کا علمی و تحقیقی جائزہ
عنوان: اسلام، سائنس اور عقل: جدید فکری چیلنجز کا علمی و تحقیقی جائزہ
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

تمہید

جدید دور میں یہ دعویٰ بڑی شدومد کے ساتھ دہرایا جاتا ہے کہ سائنس، نفسیات اور تاریخ کی حیرت انگیز پیشرفت نے مذہبی عقائد اور غیب پر ایمان کی ضرورت کو ختم کر دیا ہے۔ تاہم، جب ان تمام مخالفِ مذہب استدلالات کا گہرا، غیر جانبدارانہ اور منطقی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ دعویٰ محض ایک بے بنیاد مغالطے پر مبنی ہے۔

جدید طرزِ فکر نے مذہب کو کسی بھی درجے میں کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچایا۔ اگلے ابواب میں ہم مذہب کے بنیادی تصورات کو ایک ایک کرکے زیرِ بحث لیں گے اور دکھائیں گے کہ مذہب آج بھی اسی طرح ایک مسلمہ و لازوال حقیقت ہے جیسے وہ پہلے تھا۔

ذیل میں گزشتہ دلائل پر ایک عمومی اور تنقیدی تبصرہ پیش کیا جاتا ہے۔

۱۔ طبیعیاتی تحقیق اور توجیہِ کائنات

اس سلسلے میں سب سے پہلے اس دلیل کو لیجیے جو طبیعیاتی تحقیق کے حوالے سے پیش کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں جو واقعات رونما ہو رہے ہیں، وہ ایک متعین قانونِ فطرت کے مطابق ہو رہے ہیں؛ اس لیے ان کی توجیہ کے لیے کسی نامعلوم خدا کا وجود فرض کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ معلوم قوانین خود ان واقعات کی توجیہ کے لیے کافی ہیں۔

سائنس "کیوں" کا جواب نہیں دیتی

اس استدلال کا بہترین جواب ایک عیسائی عالم نے دیا ہے:
"Nature is a fact, not an explanation."
(فطرت ایک واقعہ ہے، خود اس واقعے کی توجیہ نہیں۔)

تمہارا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہم نے فطرت کے قوانین معلوم کر لیے ہیں، مگر تم نے جو چیز معلوم کی ہے وہ اس سوال کا جواب نہیں جس کے جواب کے طور پر مذہب وجود میں آیا ہے۔ مذہب یہ بتاتا ہے کہ وہ اصل اسباب و محرکات کیا ہیں جو کائنات کے پیچھے کارفرما ہیں۔ تمہاری دریافت صرف اس مسئلے سے متعلق ہے کہ کائنات جو ہمارے سامنے موجود ہے، اس کا ظاہری ڈھانچہ کیا ہے۔

جدید علم جو کچھ ہمیں بتاتا ہے، وہ واقعات کی مزید تفصیل ہے، نہ کہ اصل واقعے کی آخری توجیہ۔ سائنس کا بیشتر علم اس سوال سے متعلق ہے کہ "جو کچھ ہے، وہ کیا ہے؟" لیکن یہ سوال کہ "جو کچھ ہے، وہ کیوں ہے؟" اس کی دسترس سے باہر ہے، جبکہ توجیہ کا تعلق اسی دوسرے پہلو سے ہے۔

مرغی کے بچے کی مثال

اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ مرغی کا بچہ انڈے کے مضبوط خول کے اندر پرورش پاتا ہے اور خول توڑ کر باہر آتا ہے۔ پہلے انسان اس کی توجیہ یہ کرتا تھا کہ "خدا ایسا کرتا ہے۔"

مگر بعد میں خوردبینی مشاہدے سے معلوم ہوا کہ جب اکیس روز کی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے تو ننھے بچے کی چونچ پر ایک نہایت چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آ جاتا ہے، اور یہ سینگ اپنا کام پورا کرنے کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔

مخالفینِ مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پرانے خیال کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ بچے کو باہر نکالنے والا خدا ہے؛ کیونکہ خوردبین ہمیں دکھا رہی ہے کہ اکیس روز کے ایک قانون کے تحت وہ صورتیں پیدا ہوتی ہیں جو بچے کو خول سے باہر لاتی ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!