| عنوان: | اثباتِ رسالتِ محمدی ﷺ |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
تمہید
رسالتِ محمدی ﷺ کا اثبات محض کسی سوانحی واقعے، مذہبی جذبات یا عقیدت کا نام نہیں، بلکہ یہ تاریخ، عقلِ سلیم، انسانی نفسیات، اخلاق، منطق اور انسانی تجربے کی روشن کسوٹی پر پورا اترنے والی ایک ایسی حقیقت ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں کسی دوسری شخصیت یا فلسفے کے ہاں اس جامعیت کے ساتھ نہیں ملتی۔
عصرِ حاضر میں الحادی افکار، تشکیک پسندی اور مادہ پرستانہ نظریات کی وجہ سے بعض لوگ نبوت، وحی، معجزات اور سیرتِ رسول ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح قدیم دور کے منکرینِ حق بھی مختلف انداز سے آپ ﷺ کی دعوت کو چیلنج کرتے رہے۔ زیرِ نظر مضمون میں انہی اعتراضات کا عقلی، تاریخی، نفسیاتی اور منطقی محاکمہ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ حقیقت کا طالب کسی ادھورے استدلال، سطحی اعتراض یا یک طرفہ مطالعے کا شکار نہ ہو۔
۱۔ کردار کا بے داغ تاریخی ریکارڈ اور شخصیت کا کامل توازن
انسانی تاریخ کا ایک عمومی اصول یہ ہے کہ بانیانِ مذاہب، قدیم فلاسفہ اور تاریخی رہنماؤں کے حالاتِ زندگی وقت گزرنے کے ساتھ داستانوں، دیومالائی روایات اور مبالغہ آرائی کی گرد میں چھپ جاتے ہیں۔ لیکن حضور ﷺ کی سیرت ایک ایسی روشن اور محفوظ تاریخی حقیقت ہے جو ہر دور کے نقادوں، مؤرخین اور عقل و تحقیق کے معیار کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح موجود ہے۔
صادق و امین کا مسلمہ اعتراف
نبوت کا باقاعدہ اعلان کرنے سے قبل مکہ کا وہ معاشرہ، جو معاشی مفادات، قبائلی عصبیت اور اخلاقی ابتری کا شکار تھا، وہ بھی حضور ﷺ کے کردار، بے داغ دیانت اور بے مثال سچائی کا اس حد تک معترف تھا کہ آپ کو زبانِ خلق سے "الصادق" اور "الامین" کہا جاتا تھا۔
کوہِ صفا کی تاریخی گواہی
جب حضور ﷺ نے دعوتِ حق کے علانیہ آغاز کے موقع پر قریش کو کوہِ صفا کے دامن میں جمع کیا اور دعوتی گفتگو شروع کرنے سے پہلے حاضرین سے پوچھا:
"تمہارا میرے متعلق کیا خیال ہے؟"
تو مکہ والوں نے آپ کی سابقہ زندگی کی گواہی دیتے ہوئے کہا:
مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا
یعنی: "ہم نے آپ کے اندر سچائی کے سوا کوئی اور بات کبھی نہیں دیکھی۔"
یہ گواہی کسی عقیدت مند مسلمان کی نہیں، بلکہ انہی لوگوں کی تھی جو بعد میں آپ کی دعوت کے شدید مخالف بن گئے۔
الحادی اعتراض نمبر ۱
"یہ ممکن ہے کہ ایک شخص اپنی زندگی کے چالیس برسوں تک عام انسانوں کی نظر میں بہت سچا اور اخلاقی اعتبار سے بے داغ رہے، لیکن بعد میں کسی شدید نفسیاتی بوجھ، وہم (Hallucination)، اصلاحِ معاشرہ کے جنون یا اپنے اندر کسی برتری کے احساس (Messiah Complex) کی وجہ سے وہ خود کو خدا کا فرستادہ سمجھنے لگے اور نبوت کا دعویٰ کر دے؟"
تفصیلی مدلل جواب
۱۔ نفسیاتی سائنس کا خبط:
جدید نفسیاتی علوم (Psychology) کے عمومی مشاہدات کی روشنی میں شدید وہم، ہسٹیریا یا اختلالِ ذہن (Mental Disorders) میں مبتلا شخص سے طویل مدت تک غیر معمولی توازن، استقامت، ضبطِ نفس اور پیچیدہ حالات میں مسلسل منطقی فیصلوں کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگر، نعوذ باللہ، دعوائے نبوت کسی نفسیاتی کیفیت، وہم یا برتری کے خبط کا نتیجہ ہوتا تو ۲۳ سالہ دورِ رسالت میں کسی نہ کسی مرحلے پر شدید داخلی خلفشار، فیصلوں میں غیر منطقی تذبذب، شخصیت کے ٹوٹ پھوٹ یا مسلسل بے ربطی کے آثار ضرور ظاہر ہوتے۔ لیکن اس کے برعکس ہمیں ایک ایسی شخصیت نظر آتی ہے جو شدید مخالفت، ہجرت، جنگ، محاصرہ، غم، شہادتوں اور بے شمار آزمائشوں کے باوجود اپنی دعوت، اخلاق، عبادت اور مقصد میں غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کرتی ہے۔
۲۔ عقلِ سلیم کا منطقی قانون:
جو انسان زندگی کے چالیس برس تک عام دنیاوی معاملات میں کیڑے برابر بھی جھوٹ، فریب یا دھوکے کا ارتکاب نہ کرے، یہ بات عقل کے لیے نہایت بعید ہے کہ وہ اچانک کائنات کے سب سے عظیم معاملے، یعنی خالقِ کائنات کی طرف جھوٹی نسبت کرنے، کے بارے میں اتنا بڑا جھوٹ گھڑ لے۔ دنیاوی معاملات میں سچائی اور امانت داری کا مسلسل ریکارڈ اس بات کے خلاف ایک نہایت مضبوط قرینہ ہے کہ ایسا شخص شعوری طور پر خدا پر جھوٹ باندھنے لگے۔
۳۔ کامل ترین قانونی و معاشرتی نظام:
ایک شدید نفسیاتی خلل کا شکار شخص طویل عرصے تک ایک ایسا متوازن، عقل پر مبنی اور آفاقی قانونی و معاشرتی نظام (Law and Order) قائم نہیں کر سکتا جو انسانی زندگی کے عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت، خاندان، تجارت، عدل، حقوق اور اجتماعی نظم کو اس جامعیت کے ساتھ منظم کرے۔ حضور ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل فرمائی جو قبائلی انتشار، جاہلیت اور باہمی دشمنیوں سے نکل کر ایک منظم امت میں تبدیل ہوا۔ لہٰذا محض نفسیاتی خبط کو دعوائے نبوت کی توجیہ قرار دینا تاریخی، عقلی اور انسانی تجربے کے شواہد سے ہم آہنگ نہیں۔
۲۔ دشمنوں کے الزامات اور ان کا تاریخی و منطقی عجز
جب دعوتِ حق کا باقاعدہ آغاز ہوا اور مکہ کے سرداروں نے محسوس کیا کہ حضور ﷺ کی توحید پر مبنی دعوت ان کے آباء و اجداد کے باطل نظام، مذہبی سیادت اور معاشرتی مفادات کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے، تو انہوں نے آپ کو روکنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا۔ لیکن حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ وہ آپ کی سابقہ زندگی، کردار، دیانت اور ذاتی معاملات پر کوئی ایسا معتبر الزام نہ لگا سکے جو آپ کی صداقت کو مجروح کر سکے۔
نضر بن حارث کا اعتراف
قریش کے ایک معروف شخص نضر بن حارث کی طرف ایک ایسا قول منسوب کیا جاتا ہے جس میں وہ اپنی قوم کو متوجہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محمد ﷺ تمہاری آنکھوں کے سامنے بچپن سے جوان ہوئے، تم انہیں سب سے زیادہ سچا، سب سے زیادہ امانت دار اور سب سے زیادہ پسندیدہ شخص جانتے ہو، لیکن جب انہوں نے یہ دعوت پیش کی تو تم انہیں کبھی جادوگر، کبھی شاعر اور کبھی مجنون کہنے لگے۔ یہ بات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مخالفین کے پاس آپ کی سابقہ زندگی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کوئی مضبوط اخلاقی الزام موجود نہیں تھا۔
ابوجہل کی تاریخی گواہی
آپ ﷺ کے سخت ترین دشمنوں میں شمار ہونے والے ابوجہل کی طرف بھی یہ قول منسوب کیا جاتا ہے:
"محمد! میں یہ نہیں کہتا کہ تم جھوٹے ہو، مگر جس چیز کی تم تبلیغ کر رہے ہو، اس کو میں صحیح نہیں سمجھتا۔"
اگر یہ قول اپنے تاریخی سیاق میں دیکھا جائے تو اس میں بھی ذاتی کردار اور دعوائے رسالت کے درمیان مخالفین کے ذہنی تضاد کی ایک تصویر سامنے آتی ہے۔
امانتوں کا حیرت انگیز نظام
نبوت کے تیرھویں سال، جب قریش کے سردار حضور ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنا چکے تھے، اسی وقت آپ ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت فرما رہے تھے کہ مکہ والوں کی جو امانتیں آپ کے پاس ہیں، انہیں ان کے مالکان تک واپس پہنچایا جائے۔ یہ واقعہ سیرتِ نبوی ﷺ میں امانت و دیانت کی ایک انتہائی روشن مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے آپ کے خلاف قتل کا منصوبہ بنایا، ان کی امانتیں بھی آپ نے اپنے پاس خیانت کے طور پر نہیں رکھیں۔
الحادی اعتراض نمبر ۲
"اگر مخالفین نے آپ کو شاعر، جادوگر یا مجنون کہا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دور کے لوگوں نے آپ کی شخصیت میں کچھ غیر معمولی یا متنازع تبدیلیاں محسوس کی تھیں، جن کی بنیاد پر انہوں نے آپ کے دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا؟"
تفصیلی مدلل جواب
۱۔ امانتوں کی موجودگی سے تناقض کا ثبوت:
اگر مکہ والوں کو واقعی یہ یقین ہوتا کہ، نعوذ باللہ، حضور ﷺ کی عقل ختم ہو چکی ہے یا آپ کسی مجنونانہ کیفیت میں مبتلا ہیں، تو یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ وہ اپنی قیمتی امانتیں آپ کے پاس کیوں رکھتے تھے؟ سیرت کی روایات میں یہ مفہوم بیان ہوا ہے:
لَيْسَ بِمَكَّةَ أَحَدٌ عِنْدَهُ شَيْءٌ يُخْشَى عَلَيْهِ إِلَّا وَضَعَهُ عِنْدَهُ لِمَا يَعْلَمُ مِنْ صِدْقِهِ وَأَمَانَتِهِ
یعنی: "مکہ میں جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہوتی جس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا، وہ اسے آپ کے پاس رکھ دیتا، کیونکہ لوگ آپ کی سچائی اور امانت داری کو جانتے تھے۔"
کوئی بھی عقل مند انسان اپنے قیمتی مال کو ایسے شخص کے پاس محفوظ نہیں رکھتا جسے وہ مجنون، فریب کار یا ناقابلِ اعتماد سمجھتا ہو۔
۲۔ الزامات کا باہمی تصادم (Contradiction):
مخالفین کے الزامات میں بھی ایک نمایاں تضاد موجود تھا۔ ایک ہی شخص کو بیک وقت شاعر، جادوگر اور مجنون کہنا بذاتِ خود ایک کمزور الزام تراشی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کے لیے کلامی قوت، جادوگر کے لیے اثراندازی اور مجنون کے لیے عقل کا فقدان لازم سمجھا جاتا تھا۔ یہ مختلف اور باہم متعارض الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مخالفین حضور ﷺ کی دعوت اور قرآن کے اثر کے سامنے ایک متفقہ اور مدلل الزام پیش کرنے سے عاجز تھے۔
۳۔ غیر مسلموں کی غیر جانب دارانہ گواہی (Neutral Testimony)
حضور ﷺ کی دعوت چونکہ کسی ایک قبیلے یا خطے تک محدود نہیں تھی، بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھی، اس لیے آپ ﷺ نے اپنے دور کے مختلف حکمرانوں کو دعوتی خطوط ارسال فرمائے۔ روم کے قیصر ہرقل کے پاس بھی حضور ﷺ کا خط پہنچا۔ اس موقع پر اس نے عرب کے تاجروں کو اپنے دربار میں طلب کیا، جن میں ابوسفیان بھی موجود تھے، جو اس وقت اسلام کے سخت مخالف تھے۔
ہرقل اور ابوسفیان کی تاریخی گفتگو
ہرقل نے ابوسفیان سے سوال کیا کہ: "کیا اس دعوے سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ بولتے ہوئے سنا ہے؟"
ابوسفیان نے جواب دیا: "کبھی نہیں۔"
ہرقل نے پوچھا: "کیا وہ عہد و پیمان کی خلاف ورزی کرتا ہے؟"
ابوسفیان نے کہا: "ابھی تک اس نے کسی عہد کی خلاف ورزی نہیں کی۔"
اس پر ہرقل نے نبوت کے دعوے کے متعلق ایک منطقی نتیجہ اخذ کیا کہ جو شخص لوگوں کے معاملات میں جھوٹ نہیں بولتا، اس کے بارے میں یہ تصور کرنا دشوار ہے کہ وہ خدا کے معاملے میں اتنا بڑا جھوٹ گھڑ لے۔
ابوسفیان کا اعتراف
ابوسفیان نے خود یہ بھی بیان کیا کہ اگر اسے یہ خوف نہ ہوتا کہ دربار میں موجود دوسرے لوگ اس کے جھوٹ کو پکڑ لیں گے تو وہ حضور ﷺ کے بارے میں غلط بیانی سے کام لینے کی کوشش کرتا۔ یہ اعتراف اس بات کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے کہ ایک سخت مخالف بھی ایسی مجلس میں، جہاں اس کے اپنے لوگ موجود تھے، آپ ﷺ کی سابقہ زندگی پر جھوٹا الزام لگانے سے قاصر رہا۔
الحادی اعتراض نمبر ۳
"ابوسفیان یا ہرقل کا یہ مکالمہ محض دو سیاسی شخصیات کا باہمی تبادلۂ خیال تھا، اور غیر مسلم مستشرقین، مثلاً لیٹنر یا باسورتھ اسمتھ، کی تعریفیں محض اخلاقی احترام پر مبنی باتیں ہیں۔ انہیں نبوت کا منطقی یا علمی ثبوت کیسے مانا جا سکتا ہے؟"
تفصیلی مدلل جواب
۱۔ عدالتی قانونِ شہادت (Law of Evidence):
دنیا کے مختلف عدالتی نظاموں میں مخالف یا غیر جانب دار فریق کی گواہی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ اس میں ذاتی مفاد کے برخلاف بیان آنے کی وجہ سے قرینۂ صدق پیدا ہو سکتا ہے۔ ابوسفیان کوئی عام شخص نہیں تھے؛ وہ اس وقت حضور ﷺ کی تحریک کے سخت مخالف اور قریش کے نمایاں قائد تھے۔ ایسے شخص کا ایک غیر مسلم بادشاہ کے سامنے آپ ﷺ کی سچائی اور امانت داری کا اعتراف ایک اہم تاریخی شہادت ہے۔
۲۔ مستشرقین کے علمی تجزیے:
ڈاکٹر لیٹنر اور پروفیسر باسورتھ اسمتھ جیسے بعض غیر مسلم مصنفین نے بھی حضور ﷺ کی شخصیت، سیرت اور تاریخی کردار کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ باسورتھ اسمتھ کی طرف منسوب یہ مفہوم بھی بیان کیا جاتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنی زندگی کے آغاز سے انجام تک ایک ہی مقصد کے لیے جدوجہد کی اور ان کی شخصیت کو محض دنیاوی مفاد کی روشنی میں سمجھنا آسان نہیں۔ یہ آراء بذاتِ خود نبوت کے قطعی شرعی ثبوت نہیں، لیکن ایک غیر مسلم تاریخی و فکری زاویے سے حضور ﷺ کی شخصیت کے غیر معمولی کردار کی اہمیت کو ضرور واضح کرتی ہیں۔
۴۔ خود غرضی اور مفادات سے پاک بے مثال حیات
ملحدین کے ایک بنیادی مفروضے کے مطابق مذہبی بانیان اکثر اقتدار، مال و دولت، معاشرتی غلبے، شہرت اور شان و شوکت کے حصول کے لیے مذہب کو ذریعہ بناتے ہیں۔ لیکن اگر سیرتِ محمدی ﷺ کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو یہ مفروضہ سخت سوالات سے دوچار ہو جاتا ہے۔
دنیاوی لالچ کو ٹھکرا دینا
قریش کی طرف سے عتبہ آیا اور اس نے پیشکش کی کہ اگر محمد ﷺ اس دعوت کے ذریعے مال چاہتے ہیں تو قریش اتنا مال جمع کر دیں گے کہ آپ سب سے زیادہ مالدار ہو جائیں گے؛ اگر سرداری چاہتے ہیں تو آپ کو سردار بنا دیں گے؛ اور اگر بادشاہت چاہتے ہیں تو آپ کو بادشاہ مان لیں گے۔ حضور ﷺ نے دنیاوی مفادات کی ان پیشکشوں کے جواب میں قرآنِ کریم کی آیات تلاوت فرمائیں اور اپنی دعوت سے دست بردار ہونے کے بجائے اسی راستے پر قائم رہے۔
شعبِ ابی طالب کا محاصرہ
تقریباً تین سال تک حضور ﷺ اور آپ کے خاندان کو شعبِ ابی طالب میں سخت معاشرتی اور معاشی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ سیرت کی روایات میں اس دور کی شدت بیان کی گئی ہے کہ بھوک اور تنگی کی ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ درخت کے پتے اور سوکھا ہوا چمڑا تک استعمال کرنے کی نوبت آ گئی۔ اس کے باوجود حضور ﷺ اپنے مقصد اور دعوائے رسالت سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔
طائف کی سنگ باری
طائف میں آپ ﷺ کے ساتھ انتہائی سخت سلوک کیا گیا اور لوگوں نے آپ پر پتھر برسائے، یہاں تک کہ آپ کے جوتے خون سے بھر گئے۔ لیکن اس موقع پر بھی آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے اپنی قوم کی آئندہ نسلوں کی ہدایت کی امید رکھی۔
مدینہ کے حاکم بن کر زہد و قناعت
جب عرب کا ایک بڑا حصہ آپ ﷺ کے زیرِ قیادت آ چکا تھا اور آپ ﷺ لاکھوں انسانوں کے محبوب قائد تھے، اس وقت بھی آپ کی زندگی شاہانہ شان و شوکت سے خالی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب آپ ﷺ کے حجرۂ مبارک میں داخل ہوئے تو آپ کو معمولی چٹائی پر آرام فرماتے دیکھا، جس کے نشانات جسمِ اطہر پر پڑ گئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیصر و کسریٰ کی دنیاوی نعمتوں کو یاد کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا تو حضور ﷺ نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کی طرف متوجہ فرمایا۔
وفات کے وقت تقریباً بے غرضانہ ترکہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کبھی دو دو ماہ تک گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے:
لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ
یعنی: "ہم (انبیاء) کا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔"
یہ طرزِ زندگی اس دعوے کے خلاف ایک مضبوط قرینہ ہے کہ حضور ﷺ نے نبوت کو ذاتی دولت اور دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
الحادی اعتراض نمبر ۴
"اگر نعوذ باللہ یہ تحریک ذاتی مفاد کے لیے نہیں تھی، تو پھر انہوں نے اتنی تکالیف کیوں اٹھائیں؟ شاید وہ اپنے نام کو تاریخ میں جاویداں کرنے یا ایک بڑا انقلاب برپا کرنے کے جنون میں یہ سب کر رہے تھے؟"
تفصیلی مدلل جواب
۱۔ انسان کی فطری نفسیات:
عام انسانی نفسیات کے مطابق کسی فرضی، من گھڑت یا محض ذاتی مقصد کے لیے کوئی انسان مسلسل ۲۳ سال تک اپنی جان، مال، عزت، خاندان اور مستقبل کو شدید خطرات میں ڈالے رکھنا آسانی سے برداشت نہیں کرتا۔ اگر مقصد محض شہرت، انقلاب یا ذاتی عظمت ہوتا تو شعبِ ابی طالب، طائف، ہجرت، جنگوں اور مسلسل مخالفت جیسے حالات میں اس مقصد کی حقیقت جلد واضح ہو جاتی۔
۲۔ پیشکش قبول کر لینا منطقی راستہ ہوتا:
اگر مقصد صرف اقتدار، انقلاب یا نام پیدا کرنا ہوتا تو قریش کی پیش کردہ بادشاہت، سرداری اور دولت قبول کر لینا سب سے آسان راستہ تھا۔ لیکن دنیاوی پیشکشوں کو ٹھکرا کر مشکلات اور آزمائشوں کا راستہ اختیار کرنا اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ حضور ﷺ کا مقصد دنیاوی اقتدار یا ذاتی دولت کا حصول نہیں تھا۔
۳۔ ترکہ نہ چھوڑنا:
تاریخ میں ایسے سیاسی اور انقلابی قائدین ضرور گزرے ہیں جنہوں نے بڑی ریاستیں قائم کیں، لیکن حضور ﷺ کی زندگی میں اقتدار کے باوجود شخصی عیش و عشرت کا فقدان اور آخری زندگی میں دنیاوی مال جمع کرنے کے بجائے سادگی اختیار کرنا آپ ﷺ کی بے غرضی کی ایک نمایاں مثال ہے۔
۵۔ اخلاقِ اعظم اور فتحِ مکہ کا بے مثال انقلاب
۲۳ سال کی مسلسل مخالفت، ایذا رسانیوں، جنگوں، اپنوں کی شہادت، ہجرت اور جلاوطنی کے بعد وہ دن آیا جب مکہ فتح ہوا۔ اب وہی قریش، جنہوں نے آپ ﷺ کو تکلیفیں دیں، آپ کے ساتھیوں کو ستایا، آپ کے خلاف جنگیں لڑیں اور آپ کے قتل کے منصوبے بنائے، آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے۔
بے مثال عفو و درگزر
اس موقع پر حضور ﷺ نے قریش سے پوچھا: "قریش کے لوگو! بتاؤ، اب میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا؟"
انہوں نے کہا: "آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔"
اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا:
إِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ
یعنی: "جاؤ، تم سب آزاد ہو۔"
یہ منظر انسانی تاریخ میں فتح کے بعد انتقام کے عمومی رویے کے مقابلے میں رحم، عفو، درگزر اور اخلاقِ اعظم کی ایک غیر معمولی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔
الحادی اعتراض نمبر ۵
"فتحِ مکہ کے موقع پر معاف کر دینا محض ایک سیاسی حکمتِ عملی (Political Strategy) بھی تو ہو سکتی تھی تاکہ مکہ کے لوگوں کے دل جیت کر ریاست کو مستحکم کیا جائے؟"
تفصیلی مدلل جواب
۱۔ طاقت کے عروج پر سیاسی ضرورت کا خاتمہ:
سیاسی حکمتِ عملی کے تحت معافی کا تصور اس وقت زیادہ قابلِ فہم ہوتا ہے جب فاتح کو اپنی کمزوری، آئندہ بغاوت یا اقتدار کے عدمِ استحکام کا خطرہ ہو۔ لیکن فتحِ مکہ کے وقت حضور ﷺ کے ساتھ تقریباً دس ہزار افراد پر مشتمل ایک مضبوط لشکر تھا۔ قریش سیاسی، عسکری اور نفسیاتی اعتبار سے شکست خوردہ تھے۔ ایسے وقت میں اپنے سخت ترین مخالفین سے عمومی انتقام لینے کے بجائے عفو و درگزر اختیار کرنا اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ آپ ﷺ کی شخصیت میں رحم، عفو اور اخلاق بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ اگر مقصد صرف انتقام یا دنیاوی غلبہ ہوتا تو اس موقع پر بدلہ لینے کے لیے آپ ﷺ کے پاس تمام ظاہری طاقت موجود تھی، مگر آپ نے عفو و درگزر کا راستہ اختیار کیا۔
حاصلِ بحث اور حتمی منطقی نتیجہ
مندرجہ بالا نصوص، تاریخی شواہد، مخالفین کی گواہیوں، غیر مسلم شخصیات کے مشاہدات، آپ ﷺ کی بے غرض زندگی، آپ کے اخلاق، صبر، استقامت، دعوت اور فتحِ مکہ کے عفو و درگزر کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک ایسی شخصیت ہمارے سامنے آتی ہے جس کی زندگی کو محض اقتدار، دولت، شہرت یا نفسیاتی خبط کے ذریعے مکمل طور پر سمجھا دینا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔
یہاں چند بنیادی حقائق ایک بار پھر سامنے آتے ہیں:
۱۔ حضور ﷺ کی شخصیت انسانی تاریخ کی نہایت پاکیزہ، متوازن اور محفوظ شخصیات میں سے ایک ہے۔
۲۔ آپ کے کٹر دشمن بھی آپ کی بعثت سے پہلے آپ کی سچائی، امانت اور دیانت کے معترف تھے۔
۳۔ آپ ﷺ نے اپنی دعوت کے بدلے مال، اقتدار، سرداری اور دنیاوی آسائشوں کی پیشکشوں کو قبول نہیں کیا۔
۴۔ آپ ﷺ نے ۲۳ سال تک شدید مخالفت، تکالیف، محاصروں، ہجرت اور جنگوں کے باوجود اپنے مقصد سے انحراف نہیں کیا۔
۵۔ آپ ﷺ کی زندگی میں ذاتی اقتدار اور دولت جمع کرنے کے بجائے زہد، قناعت، عبادت، خدمت اور آخرت کی فکر نمایاں رہی۔
۶۔ فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ آپ ﷺ کے اخلاقی مقام کی غیر معمولی مثال ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ کی ذاتِ بابرکات کو اللہ تعالیٰ کا سچا رسول مان کر ہی آپ کی پوری زندگی، آپ کی دعوت، آپ کے اخلاق، آپ کی استقامت، قرآنِ کریم کی دعوت اور آپ کے ذریعے پیدا ہونے والے عظیم اخلاقی و معاشرتی انقلاب کی مکمل اور جامع توجیہ سامنے آتی ہے۔
البتہ علمی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ تاریخی روایات کو ان کے اصل مصادر، اسناد اور سیاق کے ساتھ پڑھا جائے اور ہر منقول قول کو بلا تحقیق قطعی تاریخی حقیقت قرار نہ دیا جائے۔ رسالتِ محمدی ﷺ کا مقدمہ محض ایک یا دو واقعات پر نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی پوری زندگی، قرآن، آپ کی دعوت، اخلاق، کردار، تاریخی اثرات اور مجموعی شواہد پر قائم ہے۔
پس جو شخص ان تمام روشن شواہد کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرے گا، اس کے سامنے کم از کم یہ حقیقت ضرور نمایاں ہو جائے گی کہ حضور ﷺ کو محض ایک دنیاوی مفاد پرست، اقتدار طلب یا فریب کار شخصیت قرار دینا تاریخی اور عقلی شواہد کے ساتھ انصاف نہیں۔
خلاصۂ کلام
رسالتِ محمدی ﷺ کا اثبات صرف جذبات کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ عقل، تاریخ، کردار اور انسانی تجربے کے مجموعی شواہد کا مسئلہ ہے۔
وہ شخصیت جسے نبوت سے پہلے صادق و امین کہا گیا، جس کے سخت ترین دشمن بھی اس کی بنیادی سچائی کا انکار نہ کر سکے، جس نے دولت و اقتدار کی پیشکشیں ٹھکرا دیں، جس نے مصائب کے طویل دور میں اپنی دعوت نہ چھوڑی، اور جس نے فتح و اقتدار کے عروج پر اپنے دشمنوں کے لیے عفو و درگزر کا دروازہ کھول دیا—اس شخصیت کو سمجھنے کے لیے محض دنیاوی مفادات کی توضیحات ناکافی معلوم ہوتی ہیں۔
حضور ﷺ کی پوری زندگی انسانیت کے سامنے ایک ایسی روشن دلیل ہے جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ کیا واقعی یہ عظیم انقلاب ایک جھوٹے دعوے، ذاتی مفاد یا محض نفسیاتی کیفیت کا نتیجہ تھا؟ یا پھر اس کے پیچھے واقعی ایک سچی نبوی دعوت اور وحیِ الٰہی موجود تھی؟
ایمان رکھنے والے کے لیے جواب بالکل واضح ہے:
محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اور آپ ﷺ کی محبت و اتباع ہی ایمان کی روح اور دینِ حق کی تکمیل کا راستہ ہے۔
اختتامی اشعار
محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اوّل ہے
ہو اگر اس میں خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے
