ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
عنوان: ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
تحریر: محمد ریحان عطاری رضوی (نیپال گنج، نیپال)
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار

اے محبّانِ آخری نبی! عقیدۂ ختمِ نبوت یہ وہ مستحکم و مسلّم عقیدہ ہے جس میں شک و تردّد کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ عقیدۂ ختمِ نبوت دینِ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ اس عقیدے کا منکر قرآن کے نصِّ قطعی کا منکر ہے۔ اس کا منکر احادیثِ متواترہ صحیحہ کا منکر ہے۔ اس کا منکر صحابہ، تابعین، تبع تابعین، علماء، فقہاء اور اسلاف کے اجماع کا منکر ہے۔

عقیدۂ ختمِ نبوت کا معنی یہ ہے کہ حضور نبیِ کونین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے بعد قیامت تک کسی نئے نبی کا آنا محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے کوئی شاہزادے بھی بڑی عمر تک نہیں پہنچے۔ قربِ قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے لیکن وہ نئے نبی نہیں ہوں گے بلکہ وہ تو پہلے سے ہی اللہ عزوجل کے نبی ہیں، ان کو اللّٰہ تعالی نے آسمانوں پر زندہ اٹھالیا تھا، وہ اپنی بقیہ زندگی پوری کریں گے اور دینِ محمدی على صاحبها الصلاة والسلام ہی کے داعی ہوں گے۔

آیتِ قرآنی

اللہ تبارک و تعالی سورۂ احزاب کی آیت نمبر 40 میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا

ترجمۂ کنز العرفان: "محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔" (الاحزاب: ۴۰)

یہ آیت کریمہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر نصِّ قطعی ہے۔ اور اس کا معنی پوری طرح واضح ہے (یعنی اللّہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں) جس میں کسی تاویل اور تخصیص کی ذرہ بھر بھی گنجائش نہیں۔ مذکورہ آیتِ کریمہ کے علاوہ درجنوں آیات ایسی ہیں جو مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر تائید کرتی ہیں۔

عقیدۂ ختمِ نبوت کا حکم

یہ عقیدہ ضروریاتِ دین میں سے ہے، اس کا انکار کرنے والا، اس میں طرح طرح کی تاویلیں کرنے والا، بلکہ اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کرنے والا کافر و مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

احادیثِ نبویہ سے عقیدۂ ختمِ نبوت کا ثبوت

وہ احادیثِ کریمہ جو حضور نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اعلان کرتی ہیں، پیشِ خدمت ہیں:

1۔ قصرِ نبوّت کی آخری اینٹ

نبی کریم صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:

اِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْاَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَاَحْسَنَهُ وَاَجْمَلَهُ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ وَيَعْجَبُوْنَ لَهُ وَيَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هٰذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَاَنَا اللَّبِنَةُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ

ترجمہ: "بے شک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک عمدہ اور خوبصورت عمارت بنائی مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے آس پاس چکر لگاتے اور اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے اور کہتے کہ اس اینٹ کو کیوں نہیں رکھا گیا؟ (اس عمارت کی) وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔" [بخاری، 484/2، حدیث: 3535]

2۔ ہم نبوت میں آخر ہیں

رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:

نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ترجمہ: "ہم زمانے میں سب سے آخر ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔" [بخاری، 303/1، حدیث: 876]

3۔ مجھ پر نبوت ختم کردی گئی

حضور اکرم صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:

فُضِّلْتُ عَلَى الْاَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ أُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْاَرْضُ طَهُوْرًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّوْنَ

ترجمہ: "مجھے انبیاءِ کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی: (1) مجھے جامع کلمات دیئے گئے (2) کفار پر رُعب طاری کرکے میری مدد کی گئی (3) میرے لئے مالِ غنیمت کو حلال کردیا گیا (4) میرے لئے ساری زمین پاک اور نماز کی جگہ بنا دی گئی (5) مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا (6) مجھ پر نبوت ختم کردی گئی۔" [مسلم، ص210، حدیث: 1167]

4۔ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

نبی کریم صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:

كَانَتْ بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

ترجمہ: "بنی اسرائیل کا نظامِ حکومت اُن کے انبیاءِ کرام علیہم السلام چلاتے تھے جب بھی ایک نبی جاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی آتا تھا اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔" [مسلم، ص 790، حدیث: 4773]

5۔ میں خاتَمُ النَّبیّین ہوں

رسول کریم صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:

سَيَكُوْنُ فِيْ أُمَّتِي ثَلَاثُوْنَ كَذَّابُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

ترجمہ: "عنقریب میری اُمّت میں 30 جھوٹے ہوں گے ان میں سے ہر ایک گمان (یعنی خیال) کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔" [ترمذی، 93/4، حدیث: 2226]

6۔ میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی

پیارے آقا صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:

إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ

ترجمہ: "بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوچکی ہے، میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔" [ترمذی، 121/4، حدیث: 2279]

7۔ میں آخِرُالْأَنْبِیَاء ہوں

رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:

أَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ

ترجمہ: "میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری اُمّت ہو۔" [ابنِ ماجہ، 404/4، حدیث: 4077]

8۔ میرے بعد نبوت نہیں

حضور اکرم صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:

ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ فَلَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قِيْلَ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ الرؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرىٰ لَهُ

ترجمہ: "نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں۔ عرض کی گئی: بشارتیں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا: اچھا خواب کہ انسان خود دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔" [معجمِ کبیر، 179/3، حدیث: 3051]

9۔ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ

پیارے آقا صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:

أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَلَا فَخْرَ

ترجمہ: "میں آخری نبی ہوں اور یہ بطورِ فخر نہیں کہتا۔" [سنن دارمی، 40/1، حدیث: 49 - معجم اوسط، 63/1، حدیث: 170]

10۔ میں بعثت میں سب سے آخر ہوں

نبی کریم صَلَّی اللہُ علیہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:

كُنْتُ أَوَّلَ النَّبِيِّيْنَ فِي الْخَلْقِ وَآخِرَهُمْ فِي الْبَعْثِ

ترجمہ: "میں تخلیق میں سب نبیوں سے پہلا ہوں اور بعثت میں سب سے آخر ہوں۔" [کنز العمال، جز 11، 205/6، حدیث: 32123]

اے عاشقانِ نبیِ آخر الزماں! جتنا اللّٰہ سبحان و تعالیٰ کو ایک ماننا ضروری ہے، جتنا حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا نبی و رسول ماننا ضروری ہے، اتنا ہی سرکار صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی ماننا ضروری ہے۔ تو ہم پر ضروری ہے کہ ہم خود اس عقیدے پر مرتے دم تک قائم و دائم رہیں اور اپنے بچوں کو بھی یہ یاد کرا دیں کہ:

محمد مصطفیٰ — سب سے آخری نبی
احمد مجتبیٰ — سب سے آخری نبی

اس طرح یاد کرائیں کہ:
بچہ بچہ بول اٹھے — سب سے آخری نبی

اے ختمِ رُسل مکی مدنی، کونین میں تم سا کوئی نہیں
اے نورِ مجسم تیرے سوا، محبوب خدا کا کوئی نہیں

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں، ہماری نسلوں کو عقیدۂ ختمِ نبوت پر مرتے دم تک ثابت قدم رکھے۔ آمین یا رب العالمین!

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!