| عنوان: | موت و جنازہ کے اسلامی احکام اور معاشرتی رسومات کا شرعی جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
تمہید
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کسی انسان کو فرار حاصل نہیں۔ دنیا کی رنگینی، مال و دولت، رشتہ دار، عزت و شہرت اور ظاہری شان و شوکت سب یہیں رہ جاتی ہے اور انسان اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
ترجمہ: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
اسلام نے انسان کو صرف زندگی گزارنے کے آداب ہی نہیں سکھائے بلکہ موت کے بعد میت کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے، غسل و کفن کیسے ہو، نمازِ جنازہ کس طرح ادا کی جائے، جنازہ کیسے اٹھایا جائے، تدفین کے کیا احکام ہیں اور اہلِ میت کو کن امور سے بچنا چاہیے، ان تمام معاملات کے متعلق بھی واضح رہنمائی عطا فرمائی ہے۔
افسوس کہ ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے ساتھ بہت سی غیر ضروری رسمیں، بے اصل عقیدے اور بعض مقامات پر خرافات شامل ہو گئی ہیں۔ کہیں میت کو رشتہ داروں کے انتظار میں بلا ضرورت رکھا جاتا ہے، کہیں نوحہ و ماتم کیا جاتا ہے، کہیں غسل کے برتن توڑ دیے جاتے ہیں، کہیں کنوارے مرد و عورت کے جنازے کو شادی کی رسموں سے مشابہ بنایا جاتا ہے، کہیں غسل کی جگہ مخصوص مدت تک چراغ جلانے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور کہیں حیلۂ اسقاط کے مسائل کو محض ایک رسمی عمل بنا دیا جاتا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ان تمام معاملات کو جذبات، روایت اور محض خاندانی رسموں کی بنیاد پر نہیں بلکہ قرآن، سنت اور معتبر فقہی اصولوں کی روشنی میں سمجھیں۔
میت کے کفن و دفن میں جلدی کی جائے
ہمارے معاشرے میں ایک عام رواج یہ ہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو اس کے تمام رشتہ داروں کے جمع ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کوئی شخص بیرونِ ملک یا بہت دور ہوتا ہے تو کئی گھنٹے بلکہ کبھی غیر معمولی طور پر زیادہ دیر تک میت کو رکھا جاتا ہے۔ شریعت کا اصل مزاج یہ ہے کہ میت کے غسل، کفن، نمازِ جنازہ اور تدفین میں بلا ضرورت تاخیر نہ کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ
ترجمہ: جنازے کو جلدی لے جاؤ۔
ایک روایت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا گیا:
يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْؤًا
ترجمہ: اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا: نماز جب اس کا وقت آ جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے اور بے شوہر عورت جب اس کے لیے مناسب رشتہ مل جائے۔
لہٰذا محض آخری دیدار یا دور کے رشتہ دار کے انتظار کی وجہ سے میت کو غیر ضروری طور پر روکنا مناسب نہیں۔ البتہ اگر کوئی انتہائی قریبی رشتہ دار بہت کم وقت میں پہنچنے والا ہو اور تاخیر سے میت کے جسم کو نقصان پہنچنے یا کوئی شرعی خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو حالات کے مطابق اہلِ علم کی رہنمائی میں مناسب فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ میت کے حق میں وہی کیا جائے جو شریعت نے پسند فرمایا ہے۔
فوتگی پر نوحہ، چیخ و پکار اور تقدیر پر شکوہ
کسی عزیز کی وفات پر غمگین ہونا انسانی فطرت ہے۔ آنسو آ جانا، دل کا رنجیدہ ہونا اور صدمہ محسوس کرنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے موقع پر فرمایا کہ: "آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے، مگر ہم وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو۔"
البتہ چیخنا چلانا، نوحہ کرنا، گریبان پھاڑنا، اپنے آپ کو مارنا یا اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتراض کرنا ناجائز اور سخت مذموم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ
ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔
غم کے عالم میں ایسے الفاظ سے بھی بچنا چاہیے جن میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتراض یا ناشکری پائی جائے، مثلاً: "ہائے اللہ! تو نے یہ کیوں کیا؟ تجھے رحم نہیں آیا؟" اس قسم کے الفاظ سے سختی کے ساتھ بچنا چاہیے۔ اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں: "اللہ کو نیک لوگوں کی ضرورت تھی، اس لیے اپنے پاس بلا لیا۔" یہ جملہ بھی درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں۔ غم کے وقت مسلمان کو صبر کرنا، دعا کرنا اور یہ پڑھنا چاہیے:
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ترجمہ: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
غسلِ میت: سنت طریقہ اور ضروری احتیاطیں
مسلمان میت کو غسل دینا فرضِ کفایہ ہے، یعنی اگر کچھ مسلمان یہ فرض ادا کر دیں تو باقی لوگ بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ غسل دیتے وقت میت کے ستر کا مکمل لحاظ رکھا جائے۔ مرد و عورت دونوں کے غسل میں پردہ، احترام اور شرعی آداب کی پابندی ضروری ہے۔ غسل دینے والے کے لیے بہتر ہے کہ وہ دیانت دار، سمجھ دار اور غسل کے مسائل سے واقف ہو۔
مناسب یہ ہے کہ میت کا قریبی رشتہ دار غسل دے، بشرطیکہ وہ غسل کا صحیح طریقہ جانتا ہو، ورنہ کوئی تجربہ کار اور دیندار شخص غسل دے۔ غسل کے دوران میت کے ساتھ مکمل ادب و احترام کا معاملہ کیا جائے؛ بدن کو سختی سے نہ رگڑا جائے، اعضا کو بلا ضرورت نہ موڑا جائے، ستر کو ہر حال میں چھپایا جائے اور میت کے جسم کے ساتھ بے ادبی کا معاملہ نہ کیا جائے۔
بلا ضرورت لوگوں کو میت کی حالت نہ دکھائی جائے۔ اگر میت کے متعلق کوئی اچھی کیفیت ظاہر ہو تو بلا مبالغہ ذکر کرنے کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن اگر کوئی ناپسندیدہ کیفیت نظر آئے تو اسے لوگوں میں بیان کرنے سے بچنا چاہیے۔ میت کے لیے دعائے مغفرت کرنا اور اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرنا ایک مسلمان کا شایانِ شان عمل ہے۔
میت کے بال، ناخن اور غیر ضروری صفائی
بعض علاقوں میں غسلِ میت کے دوران میت کے بال، ناخن یا زیرِ ناف بال کاٹنے کا رواج پایا جاتا ہے۔ فقہِ اسلامی، خصوصاً فقہِ حنفی کی تعلیمات کے مطابق میت کے ناخن تراشنا، بال کاٹنا اور بلا ضرورت جسم کے ساتھ ایسی تبدیلی کرنا مناسب نہیں۔ لہٰذا غسل کے وقت میت کے سر کے بال، داڑھی، ناخن، مونچھیں اور زیرِ ناف یا بغل کے بال صاف نہ کیے جائیں، اور نہ ہی بلا ضرورت جسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے۔ میت کو حتی الامکان احترام کے ساتھ اسی حالت میں کفن دیا جائے۔
میت کے کپڑے بلا ضرورت نہ کاٹے جائیں
بعض لوگ غسل دینے کے لیے میت کے کپڑے فوراً قینچی سے کاٹ دیتے ہیں۔ اگر کپڑے آسانی اور پردے کے ساتھ اتارے جا سکتے ہوں تو انہیں بلا ضرورت کاٹنا مناسب نہیں، کیونکہ مال کو بلا وجہ ضائع کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر کپڑا اتارنے میں دشواری ہو، جسم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو یا ستر و پردے کی حفاظت کے لیے کپڑا کاٹنے کی ضرورت ہو تو بقدرِ ضرورت ایسا کیا جا سکتا ہے۔
غسل کے برتن توڑنا اور پانی ضائع کرنا
بعض علاقوں میں میت کو غسل دینے کے لیے نئے گھڑے یا برتن لائے جاتے ہیں اور غسل کے بعد انہیں توڑ دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غسلِ میت کے بعد برتن ناپاک ہو جاتے ہیں۔ یہ تصور درست نہیں۔ گھر کے عام استعمال کے برتنوں سے بھی غسل دیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی برتن پر نجاست لگ جائے تو اسے شرعی طریقے سے دھو کر پاک کیا جا سکتا ہے۔ غسل کے بعد برتن توڑ دینا یا بلا وجہ پھینک دینا مال کا ضیاع ہے۔ اسی طرح پانی کو بلا وجہ ضائع کرنا بھی درست نہیں؛ مسلمان کو ہر معاملے میں اسراف سے بچنا چاہیے۔
غسل کی جگہ مخصوص مدت تک چراغ جلانا
بعض علاقوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ جس جگہ میت کو غسل دیا گیا ہو وہاں چالیس دن تک چراغ یا روشنی جلانی چاہیے، کیونکہ روح وہاں آتی ہے یا اندھیرے سے گھبرا جاتی ہے۔ یہ عقیدہ قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ روح کے معاملات غیب کے امور میں سے ہیں، اس لیے ان کے متعلق وہی بات کہی جائے گی جو شرعی دلائل سے ثابت ہو۔ لہٰذا غسل کی جگہ چالیس دن چراغ جلانا شرعی طور پر ضروری نہیں اور روح کے اندھیرے سے گھبرانے کا عقیدہ بے اصل ہے۔ ہاں، عام ضرورت، حفاظت یا سہولت کے لیے روشنی کا انتظام کرنا بالکل الگ معاملہ ہے۔
غسل دینے والے پر غسل کا حکم
لوگوں میں مشہور ہے کہ جو شخص میت کو غسل دے، اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ بات درست نہیں۔ میت کو غسل دینے والے کے غسل کرنے کے مسئلے میں فقہاء کے درمیان تفصیلات موجود ہیں، تاہم فقہِ حنفی میں میت کو غسل دینے والے پر غسل واجب نہیں۔ لہٰذا میت کو غسل دینے والے کے لیے غسل کو لازمی اور فرض سمجھنا درست نہیں۔ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ اس مسئلے میں اپنے فقہی مسلک کے مطابق عمل کیا جائے۔
کفن کے متعلق اسلامی تعلیمات
کفن سادہ، پاکیزہ اور مناسب ہونا چاہیے؛ اس میں دکھاوا، فضول خرچی اور غیر ضروری تکلف نہیں ہونا چاہیے۔ فقہِ حنفی کے مطابق مرد کے لیے کفنِ مسنون عموماً تین کپڑوں (لفافہ، ازار، قمیص) پر مشتمل ہے اور عورت کے لیے کفنِ مسنون عموماً پانچ کپڑوں (لفافہ، ازار، قمیص، اوڑھنی، سینہ بند) پر مشتمل ہے۔ البتہ کفن کے بعض جزوی مسائل میں فقہی تفصیلات موجود ہیں، اس لیے عملی صورت میں مقامی معتبر عالم سے رہنمائی لینا بہتر ہے۔ کفن میں سادگی اختیار کرنا اسلامی مزاج ہے۔
عمامہ اور کفن
بعض علاقوں میں میت کو کفن کے ساتھ عمامہ بھی پہنایا جاتا ہے۔ فقہاء نے اس مسئلے میں تفصیلات بیان کی ہیں، اس لیے عمامہ کو کفن کا لازمی حصہ سمجھنا درست نہیں۔ خصوصاً محض دکھاوے یا رسم کے طور پر میت کو غیر ضروری لباس پہنا نے سے بچنا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ میت کو سنت اور فقہی اصولوں کے مطابق کفن دیا جائے۔
آبِ زمزم سے کفن کو تر کرنا
بعض لوگ اپنی زندگی میں کفن تیار کر کے اس پر آبِ زمزم کے چند قطرے ڈال دیتے ہیں۔ تبرک کے مسائل میں اہلِ علم کی تفصیلات موجود ہیں، اس لیے کسی عمل کو بغیر واضح شرعی دلیل کے ضروری یا نجات کی ضمانت قرار دینا درست نہیں۔ اگر کوئی شخص تبرکاً ایسا کرے تو اسے دین کا لازمی حصہ نہ سمجھے؛ اصل نجات کا دار و مدار ایمان، اعمالِ صالحہ، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر ہے۔
زندگی میں اپنی قبر تیار کروانا
بعض لوگ زندگی ہی میں اپنی قبر بنوا کر تیار رکھتے ہیں۔ اس عمل کو دینی فضیلت یا ضروری عبادت سمجھنے کی کوئی واضح شرعی بنیاد نہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کہاں آئے گی اور کہاں دفن کیا جائے گا۔ لہٰذا انسان کو قبر کی ظاہری تیاری سے زیادہ اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے، یعنی نماز کی پابندی کرے، گناہوں سے توبہ کرے، لوگوں کے حقوق ادا کرے، حلال کمائے، نیک اعمال کرے اور موت کو یاد رکھے۔ اصل کامیابی قبر کی عمارت میں نہیں بلکہ قبر کے لیے اعمال کی تیاری میں ہے۔
جنازہ لے جانے کا طریقہ
جنازے کو قبرستان لے جاتے وقت وقار، سنجیدگی اور احترام کا خیال رکھا جائے۔ جنازے کے موقع پر ہنسی مذاق سے بچا جائے، دنیاوی اور بے مقصد گفتگو کم کی جائے، شور و ہنگامہ نہ کیا جائے اور میت کے احترام کا خیال رکھتے ہوئے موت اور آخرت کو یاد رکھا جائے۔ جنازہ زندہ انسانوں کے لیے بھی عظیم نصیحت ہے؛ آج ہم کسی دوسرے کو قبرستان لے جا رہے ہیں، کل ہمیں بھی کوئی وہاں لے جائے گا۔
عورت کے جنازے کو شوہر کا کندھا دینا
بعض عوام میں یہ غلط خیال مشہور ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے جنازے کو کندھا نہیں دے سکتا یا اس کی تدفین کے معاملات میں شریک نہیں ہو سکتا۔ یہ بات درست نہیں؛ شوہر اپنی بیوی کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے اور تدفین کے امور میں بھی شریک ہو سکتا ہے۔ البتہ میت کو غسل دینے کے مسئلے میں فقہی مذاہب کے درمیان تفصیلات موجود ہیں۔ خصوصاً فقہِ حنفی میں شوہر کے اپنی وفات یافتہ بیوی کو غسل دینے کے مسئلے میں مخصوص احکام ہیں، جبکہ بیوی اپنے وفات یافتہ شوہر کو غسل دے سکتی ہے۔ لہٰذا عوامی مشہور باتوں کو شریعت کا حکم سمجھ لینے کے بجائے اپنے فقہی مسلک کے مطابق مستند اہلِ علم سے صحیح مسئلہ معلوم کرنا چاہیے۔
کنوارے مرد و عورت کے جنازے میں شادی کی رسمیں
بعض علاقوں میں اگر کنواری لڑکی کا انتقال ہو جائے تو اسے سرخ چنری پہنائی جاتی ہے، اور اگر کنوارا مرد فوت ہو جائے تو اسے سہرا پہنایا جاتا ہے یا جنازے کو شادی کی رسموں سے مشابہ بنایا جاتا ہے۔ بعض جگہ جنازے کے آگے پیسے لٹانے اور مختلف غیر شرعی رسومات کا بھی رواج ہے۔ یہ سب غیر ضروری اور خلافِ وقار رسمیں ہیں۔ موت تماشہ، نمائش یا شادی کی رسم کا موقع نہیں، بلکہ موت عبرت، دعا اور آخرت کو یاد کرنے کا موقع ہے۔ اسی طرح کسی شخص کے بہت زیادہ عمر پانے پر ڈھول بجا کر جنازہ لے جانا بھی اسلامی وقار کے خلاف ہے۔ جنازہ ہر حال میں سنجیدگی، احترام اور اسلامی آداب کے ساتھ ہونا چاہیے۔
جنازے کے ساتھ ذکر، درود اور نعت
جنازے کے ساتھ چلنے کے آداب میں فقہاء اور اہلِ علم نے مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ بعض فقہی کتب میں جنازے کے ساتھ بلند آواز سے مخصوص ذکر یا آوازیں نکالنے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ بعض اہلِ علم نے بعض صورتوں میں ذکر و درود کی گنجائش پر گفتگو کی ہے۔ لہٰذا اس مسئلے میں افراط و تفریط سے بچنا چاہیے۔ ضروری باتیں یہ ہیں کہ جنازے کو تماشہ نہ بنایا جائے، شور و ہنگامہ اور بے ادبی نہ ہو، اور ایسی آواز و انداز سے بچا جائے جو جنازے کے وقار کے خلاف ہو۔ مقامی معتبر عالم اور اپنے فقہی مسلک کی رہنمائی کے مطابق عمل کیا جائے۔
نمازِ جنازہ کی اہمیت
نمازِ جنازہ مسلمان میت کا اہم حق اور فرضِ کفایہ ہے، جس میں میت کے لیے مغفرت، رحمت، بخشش اور درجات کی بلندی کی دعا کی جاتی ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں ہوتی ہیں: پہلی تکبیر کے بعد ثناء، دوسری تکبیر کے بعد درودِ ابراہیمی، تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے دعا اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ نمازِ جنازہ کے مسائل میں فقہی مذاہب کے بعض جزوی اختلافات موجود ہیں، اس لیے اپنے فقہی مسلک کے مطابق درست طریقہ سیکھنا چاہیے۔
جنازہ کس کا پڑھا جائے؟
نمازِ جنازہ مسلمان میت کے لیے ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں جس کے اسلام یا عقائد کے متعلق سنگین شرعی سوالات ہوں، عام لوگوں کو خود فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ کسی شخص پر کفر کا حکم لگانا انتہائی نازک شرعی معاملہ ہے۔ محض اختلاف کی بنیاد پر کسی کو کافر نہ کہا جائے اور ہر شخص کو تکفیر کا اختیار نہیں۔ سنگین عقیدتی معاملات میں مستند مفتیانِ کرام سے رجوع کیا جائے۔ قادیانیوں کے بارے میں برصغیر کے معتبر اسلامی اداروں اور اہلِ علم کے ہاں مخصوص شرعی احکام معروف ہیں، تاہم عام افراد کو پیچیدہ شرعی معاملات میں خود فیصلے کرنے کے بجائے مستند اہلِ علم سے رجوع کرنا چاہیے۔ جنازے کے مسائل میں جذبات کے بجائے شرعی تحقیق کی پیروی کی جائے۔
مسجد میں نمازِ جنازہ اور صفوں کا مسئلہ
عام طور پر جنازہ گاہ، کھلی جگہ یا مناسب مقام پر نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے، جبکہ مسجد میں نمازِ جنازہ کے بارے میں بھی فقہاء کے درمیان تفصیلی احکام موجود ہیں۔ لہٰذا مقامی معتبر عالم اور اپنے فقہی مسلک کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ صفوں میں نظم و ترتیب ہو، نمازیوں کو طریقہ معلوم ہو اور اخلاص کے ساتھ دعا کی جائے۔ جوتے پہن کر نمازِ جنازہ پڑھنے کی صورت میں جوتوں، پاؤں اور جگہ کی پاکی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
کئی جنازوں کی نماز
اگر کئی میتیں موجود ہوں تو بعض فقہی صورتوں میں ایک ہی نمازِ جنازہ میں سب کی نیت کی جا سکتی ہے، جبکہ الگ الگ نماز پڑھنے کی صورتیں بھی فقہی طور پر موجود ہیں۔ اس لیے عملی معاملے میں مقامی معتبر عالم کی رہنمائی حاصل کرنا بہتر ہے۔
نمازوں اور روزوں کا فدیہ اور حیلۂ اسقاط
ہمارے معاشرے میں میت کے انتقال کے بعد بعض علاقوں میں حیلۂ اسقاط کا رواج ہے۔ کہیں نمازِ جنازہ کے بعد چند لوگ جمع ہوتے ہیں، کوئی چیز یا مال ایک دوسرے کے ہاتھ میں دیتے ہیں اور آخر میں کچھ رقم کسی غریب کو دے کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ میت کی زندگی بھر کی تمام نمازیں اور روزے یقینی طور پر معاف ہو گئے۔ یہ تصور درست نہیں؛ چند رسمی حرکات سے زندگی بھر کے تمام فرائض خود بخود ساقط نہیں ہو جاتے۔
سب سے پہلے میت کے قرض کی ادائیگی ترکے سے کی جائے، لوگوں کے حقوق لوٹائے یا معاف کرائے جائیں، میت کے لیے دعا و استغفار کیا جائے، اور اس کی جائز وصیت اور وراثت کو شرعاً نافذ کیا جائے۔ فقہِ حنفی میں میت کی وصیت، ترکے اور دیگر شرائط کی بنیاد پر قضا نمازوں اور روزوں کے فدیے کے متعلق تفصیلات موجود ہیں، کیونکہ ہر میت کی عمر، بلوغت، بیماری، سفر، اور چھوٹی ہوئی نمازوں و روزوں کا حساب مختلف ہوتا ہے۔ لہٰذا محض ایک عمومی رسم کو کافی سمجھنا درست نہیں۔
حیلۂ اسقاط میں پائی جانے والی غلطیاں
ہمارے معاشرے میں اس معاملے میں کئی غلطیاں پائی جاتی ہیں: بغیر حساب اور شرعی تحقیق کے تمام فرائض معاف سمجھ لینا، میت کی وصیت و ترکے کو نظر انداز کرنا، قرض سے پہلے غیر ضروری رسموں پر مال خرچ کرنا، اور فدیے کا مال محض رسمی طور پر دے کر فوراً واپس لے لینا بغیر شرعی قبضے کا لحاظ رکھے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ کسی معتبر مفتی یا عالمِ دین کو میت کی مکمل صورتِ حال بتا کر شرعی رہنمائی حاصل کی جائے۔
فوتگی کے موقع پر کھانے کی رسمیں
ہمارے معاشرے میں فوتگی کے بعد اہلِ میت پر مختلف قسم کے کھانوں کی رسمیں بوجھ بن جاتی ہیں۔ کہیں تیسرے، ساتویں، دسویں، چالیسویں اور برسی کے نام پر بڑے اجتماعات کیے جاتے ہیں اور اہلِ میت کو لوگوں کو کھانا کھلانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ غم زدہ خاندان پر ضیافت کا اضافی بوجھ ڈالنا اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔ سنت کا مزاج یہ ہے کہ اہلِ میت کے لیے کھانے کا انتظام کیا جائے، نہ کہ ان کو لوگوں کی ضیافت کا ذمہ دار بنایا جائے۔ اگر کوئی شخص اپنی استطاعت سے صدقہ کرے یا ایصالِ ثواب کی نیت سے کھانا کھلائے تو یہ الگ مسئلہ ہے، لیکن مخصوص دن کو شرعاً لازم سمجھنا درست نہیں۔
تیجہ، دسواں، چالیسواں اور مخصوص دنوں کی پابندی
میت کو ایصالِ ثواب پہنچانے کے لیے دعا، استغفار، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کیے جا سکتے ہیں اور یہ کسی ایک مخصوص دن تک محدود نہیں۔ تیسرے، دسویں یا چالیسویں دن کو دینی طور پر لازم سمجھ لینا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ صرف اسی دن یہ عمل ضروری ہے، درست نہیں۔ اگر کوئی اجتماع محض انتظامی سہولت کی وجہ سے ہو اور اسے شرعی فرض یا لازم نہ سمجھا جائے تو اس کی صورت الگ ہو سکتی ہے، مگر اسے لازمی رسم بنانا درست نہیں۔ اصل چیز اخلاص ہے، محض تاریخ نہیں۔
قبر پر غیر ضروری رسومات
قبروں کے معاملے میں بھی بہت سی غیر ضروری رسمیں اور غلط تصورات پیدا ہو جاتے ہیں؛ مثلاً قبر کو غیر ضروری طور پر سجانا، چراغاں کو دینی ضرورت سمجھنا، قبرستان کو تماشہ گاہ بنانا اور ایسی حرکات کرنا جن کی شرعی بنیاد نہ ہو۔ قبرستان میں ادب، دعا، عبرت اور آخرت کی یاد ہونی چاہیے۔ میت کے لیے دعا اور ایصالِ ثواب کے تمام امور کو صحیح عقیدے اور شرعی حدود کے ساتھ انجام دینا ضروری ہے۔
تعزیت کے موقع پر ہمارا طرزِ عمل
تعزیت کا مقصد اہلِ میت کو صبر کی تلقین کرنا، تسلی دینا اور میت کے لیے دعا کرنا ہے۔ تعزیت کو رسمی بوجھ نہیں بنانا چاہیے؛ بعض لوگ گھنٹوں بیٹھ کر غیر ضروری گفتگو کرتے ہیں اور اہلِ میت کو آرام تک نہیں کرنے دیتے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ مختصر الفاظ میں تعزیت کی جائے اور میت کی مغفرت و درجات اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی جائے۔
موت ہمیں کیا سبق دیتی ہے؟
جنازہ صرف مردہ انسان کا سفر نہیں بلکہ زندہ انسان کے لیے بھی ایک عظیم پیغام ہے کہ آج جسے چار کندھوں پر لے جایا جا رہا ہے، کل مجھے بھی لے جایا جائے گا۔ لہٰذا موت کے بعد کی رسومات پر بحث کرنے سے پہلے ہمیں اپنی زندگی کی اصلاح کرنی چاہیے؛ نماز کی پابندی کریں، حقوق العباد ادا کریں، حرام سے بچیں، سچی توبہ کریں اور موت کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
خلاصۂ کلام
اسلام نے میت کے ساتھ احترام، سادگی اور بلا ضرورت تاخیر سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ میت کو بلا ضرورت روکنا، نوحہ و ماتم کرنا، غسل کے برتن توڑنا، میت کے بال و ناخن کاٹنا، غسل کی جگہ چراغ جلانے کو دینی ضرورت سمجھنا، کنوارے افراد کے جنازے میں شادی کی رسمیں کرنا اور مخصوص دنوں کو لازمی دینی رسم بنا لینا اصلاح طلب امور ہیں۔ اسی طرح حیلۂ اسقاط کو محض ایک رسمی عمل سمجھنے کے بجائے قرض، وصیت، ترکے اور فدیے کے شرعی احکام کو معتبر اہلِ علم کی رہنمائی میں ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی معاشرتی روایت کو شریعت پر مقدم نہیں کرنا چاہیے۔
دعائیہ کلمات
اللہ تعالیٰ ہمیں موت کی حقیقت کو سمجھنے، اپنے اعمال کی اصلاح کرنے، میت کے حقوق ادا کرنے اور تمام غیر شرعی رسومات و خرافات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین و مرحومات کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ایمان و عافیت کے ساتھ زندگی گزارنے اور خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
