پھوپھی اور ہمارا سماج!

پھوپھی اور ہمارا سماج!
عنوان: پھوپھی اور ہمارا سماج!
تحریر: مولانا احد رضا عطاری مدنی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رشتوں کی پامالی اور پھوپھی کا رشتہ

آج کے دور میں ہماری اقدار اور رشتوں کا احترام تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر خونی رشتوں کی اہمیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر میمز اور پوسٹوں کے ذریعے اور روزمرہ زندگی میں بے رحمی کے ساتھ بدنام کیے جانے والے رشتوں میں سے ایک بہت اہم رشتہ "پھوپھی" کا بھی ہے۔ گزشتہ سالوں اور خاص کر نئی نسل (یعنی Gen-Z) میں اسے اس قدر برائی کے روپ میں پیش کیا گیا کہ باپ کی طرف سے بننے والے اس محترم رشتے کو طنز و تحقیر کی علامت کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

پھوپھی کے خلاف منفی سوچ کے اسباب

پھوپھی کے خلاف بھڑکانے کے اسباب میں بہت مرتبہ ماں کی باتیں، رویے اور تربیت کا دخل رہتا ہے۔ ماؤں کی جانب سے ملنے والا مجموعی تاثر اپنے گہرے نقوش چھوڑتا ہے، بچپن میں کسی کے بارے میں بننے والی رائے یا سوچ دور تک ساتھ جاتی ہے، جو عمر اور واقعات کے ساتھ مزید واضح اور پختہ ہوتی جاتی ہے۔

گھر میں نند اور بھاوج کا کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو دانش وری اور اخلاق کا تقاضا تو یہی تھا کہ بچوں کو اس کی بھنک تک نہ پڑتی، مگر ان ننھی کھلتی کلیوں کے سامنے ان کے بڑوں کی برائیاں کرنا، خود کو بے قصور اور سامنے والے کو قصوروار ثابت کرنے کے لیے ان کی کمزوریاں بچوں کے سامنے بیان کرنا اور یوں ان کچے ذہنوں میں نفرتوں کا زہر بھرنا، کہاں کی عقل مندی ہے! گھر کی باتیں گھر اور متعلقہ فرد تک محدود رکھنے میں ہی بھلائی ہے۔

گھر کی باتوں کو کوئی کیسے گلی تک لایا
ایسے زخموں کو بھلا کون کھلا چھوڑ گیا!

بالفرض! سامنے والا (رشتہ دار پھوپھی وغیرہ) اپنی ذمے داری بخوبی سرانجام نہیں دیتا تو اس کو اپنے لیے سر درد بنا لینے کے بجائے حقوق کو اچھے انداز میں نبھانے پر توجہ دی جائے، جیسا کہ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا: "أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ" یعنی تم ان کا حق ادا کرو اور اپنے حق کا سوال اللہ پاک سے کرو۔

موبائل کا بیک کیمرہ کھول کر دوسروں کی نگرانی کرنے کے بجائے عافیت اس میں ہے کہ فرنٹ کیمرے میں اپنا محاسبہ کیا جائے۔ دوسروں میں کمیاں اور عیب تلاشنے پھر ان پر تبصرے کرنے کی جگہ اگر ہر بندہ اپنا محاسبہ کرنے لگ جائے تو گھر بلکہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

بہتر کون اور صلہ رحمی کی اہمیت

دینِ اسلام، گھر کی خواتین کے ساتھ بھلائی کرنے اور اچھائی سے پیش آنے کی ترغیب دیتا ہے۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ والہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: "أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ" یعنی مسلمانوں میں کامل ترین ایمان والا وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو اور تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہو۔ عورتوں سے مراد وہ ہیں جن کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جن میں اصول (ماں، دادی، نانی)، فروع (بیٹی، پوتی، نواسی)، رشتہ دار (حقیقی و رضاعی بہن، پھوپھی، خالہ) اور بیوی داخل ہیں۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک پر ایمان لانے کے بعد سب سے افضل عمل صلہ رحمی (یعنی رشتے جوڑنا) ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے سے قبل آخری ایام میں بھی قرابت داروں کی عزت و تکریم اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے رہنے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اَرْحَامَکُمْ! اَرْحَامَکُمْ!“ یعنی قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو! ان کے حقوق میں کوتاہی کرنے سے بچو! یاد رکھیے! صلہ رحمی واجب ہے۔ دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ وغیرہ کے حقوق بھی ماں باپ ہی کی طرح ہیں۔

قطع رحمی کی وعید اور صلہ رحمی کا اعلیٰ معیار

رشتہ داروں سے زیادتی یا ان کے حقوق ادا نہ کرنے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”قاطِعُ رَحِمٍ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔“ علامہ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی وہ شخص جو بہن، خالہ، پھوپھی، بھتیجی وغیرہ قریبی رشتہ داروں سے تعلق توڑے۔ صلہ رحمی کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ تعلقات بنائے رکھے، ناراضی نہ پالے، سلام و کلام جاری رکھے اور اچھا سلوک کرے۔

ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں، وہ مجھ سے توڑتے ہیں، میں ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں... تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا ہی ہے جیسا کہہ رہے ہو، تو گویا تم ان کے منہ میں گرم راکھ بھر رہے ہو، جب تک تم اسی روش پر رہو گے، تو اللہ کی طرف سے ان کے خلاف ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا۔

رشتوں اور محبتوں میں دراڑ پھوپھی (یا کسی رشتہ دار) کی جانب سے ہی کیوں نہ آئی ہو، دینِ اسلام اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ آپ آگے بڑھ کر صلح کریں اور رشتہ داری بچائیں۔ کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بدلے کے طور پر نیکی کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں، بلکہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔

لمحۂ فکریہ!

بچوں کو ان کی پھوپھی کے خلاف بھڑکانے والی خواتین یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ وہ بھی آخر کسی کی پھوپھی ہیں! ایسے مرد یہ کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ان کی ماں، بہن اور بیٹی بھی کسی کی ”پھوپھی“ ہے یا بنے گی! دنیا میں انسانی رویّوں کا معاملہ دائرہ وار ہے۔ جیسا سلوک کسی کے ساتھ کریں گے گھوم پھر کر ہمارے ساتھ بھی قریباً ویسا ہی برتاؤ ہو سکتا ہے۔ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ تَبِعَاتِ الذُّنُوْبِ (اور ہم اللہ پاک سے گناہوں کے بُرے نتائج سے پناہ مانگتے ہیں۔)

حواشی و حوالہ جات

(1) بخاری، 4/ 429، حدیث: 7052
(2) ترمذی، 2/ 386، حدیث: 1165
(3) فیض القدیر، 2/ 124، تحت الحدیث: 1441
(4) جامع الاحادیث للسیوطی، 1/ 103، حدیث: 537
(5) صحیح ابن حبان، 7/ 752، حدیث: 7370
(6) فیض القدیر، 1/ 605، رقم: 940، ملخصاً
(7) جنتی زیور، ص 94
(8) مسلم، ص 1062، حدیث: 652
(9) الکبائر للذھبی، ص 49
(10) دیکھیے: تفہیم البخاری، 9/ 221 - ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صلح کرلی، ص 12
(11) یعنی ان کے برے سلوک کے باوجود تمہارا احسان کرنا ان کے لئے اندرونی تکلیف کا باعث ہے۔ (المفہم للقرطبی، 6/ 329 مفہوماً)
(12) مسلم، ص 1062، حدیث: 6525
(13) بخاری، 4/ 98، حدیث: 5991
(14) جامع الاحادیث للسیوطی، 1/ 456، حدیث: 3158

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!