دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام میں صفائی کی اہمیت

عنوان: اسلام میں صفائی کی اہمیت
تحریر: بنت اسلم برکاتی
پیش کش: نوائے قلم رضویہ اکیڈمی للبنات، مبارک پور

ہر ذی شعور انسان صاف صفائی کو پسند کرتا ہے۔ وہ خود کو اور اپنے آس پاس کے ماحول کو بھی ہر طرح کی گندگی سے بچاتا ہے۔ دین اسلام میں صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کی تعلیم دی گئی ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطِّيبَ، نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ، كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ، جَوَادٌ يُحِبُّ الْجُودَ، فَنَظِّفُوا أَفْنِيَتَكُمْ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ۔ (ترمذی: 2808)

ترجمہ: حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عز و جل طیب ہے۔ طیب یعنی خوشبو کو دوست رکھتا ہے، ستھرا ہے ستھرائی کو دوست رکھتا ہے، کریم ہے کرم کو دوست رکھتا ہے، جواد ہے جودو سخاوت کو دوست رکھتا ہے۔ لہٰذا اپنے صحن کو ستھرا رکھو، یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ کرو۔

رب تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ (البقرہ:۲۲۲)

ترجمہ کنزالایمان: بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں صفائی ستھرائی کی اہمیت

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ۔ (مسلم: 223)

ترجمہ: حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پاکیزگی نصف ایمان ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْإِسْلَامَ نَظِيفٌ، فَتَنَظَّفُوا، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَظِيفٌ۔ (کنزالعمال: 25996)

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اسلام صاف ستھرا (دین) ہے تو تم بھی نظافت حاصل کیا کرو کیونکہ جنت میں صاف ستھرا رہنے والا ہی داخل ہو گا۔

عَنْ سَهْلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَظِّفُوا ثِيَابَكُمْ، وَحَسِّنُوا رِكَابَكُمْ، حَتَّى تَكُونُوا كَشَامَةٍ فِي النَّاسِ، فَإِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ۔ (الجامع الصغير: 257)

ترجمہ: حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لباس تم پہنتے ہو اسے صاف ستھرا رکھو اور اپنی سواریوں کی دیکھ بھال کیا کرو اور تمہاری ظاہری ہیئت ایسی صاف ستھری ہو کہ جب لوگوں میں جاؤ تو وہ تمہاری عزت کریں۔

حضرت علامہ عبد الرؤف مناوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر وہ چیز جس سے انسان نفرت و حقارت محسوس کرے، اس سے بچا جائے خصوصا حکام اور علماء کو ان چیزوں سے بچنا چاہیے۔ (فیض القدیر: 257)

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى رَجُلًا شَعَثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعَرُهُ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ؟ وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ؟ (سنن أبي داود: 4062)

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ’ رسولُ اللہ لی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، ایک شخص کو پَراگندہ سر دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، فرمایا: ’کیا اس کو ایسی چیز نہیں ملتی جس سے بالوں کو اکٹھا کرلے؟ اور دوسرے شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے ایسی چیز نہیں ملتی، جس سے کپڑے دھولے؟

عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، كَأَنَّهُ يَأْمُرُهُ بِإِصْلَاحِ شَعْرِهِ، فَفَعَلَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ وَرَأْسُهُ كَأَنَّهُ شَيْطَانٌ؟ (موطأ امام مالک: 1819)

ترجمہ: حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کیا، گویا بالوں کے درست کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ وہ شخص درست کرکے واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا ہے گویا وہ شیطان ہے۔

صفائی، ستھرائی انسان کے وقار و شرف کی آئینہ دار ہے؛ جبکہ گندگی انسان کی عزت و عظمت کی بد ترین دشمن ہے۔ دین اسلام نے جہاں انسان کو کفر و شرک کی نجاستوں سے پاک کر کے عزت و رفعت عطا کی، وہیں ظاہری طہارت، صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیمات کے ذریعے انسانیت کا وقار بلند کیا۔ بدن کی پاکیزگی ہو یا لباس کی ستھرائی، ظاہری ہیئت کی عمدگی ہو یا طور طریقے کی اچھائی ،مکان اور سازو سامان کی بہتری ہو یا سواری کی دھلائی الغرض ہر ہر چیز کو صاف ستھرا اور خوب صورت رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری اور باطنی ہر طرح کی گندگیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ظاہری صاف ستھرائی کے ساتھ ساتھ ہمیں باطن کو بھی پاک و صاف رکھنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔