| عنوان: | خواتین کی تقاریر |
|---|---|
| تحریر: | کنیز تاج الشریعہ مصباح رضویہ |
| پیش کش: | نوائے قلم رضویہ اکیڈمی للبنات، مبارک پور |
آج کے دور میں ایسے رجحانات پروان چڑھ رہے ہیں جو اسلامی اقدار اور معاشرتی روایات کو متاثر کر رہے ہیں۔ جلسوں اور عوامی تقریبات میں خواتین جبکہ بالخصوص نوجوان لڑکیوں کا مردوں کی طرز پر تقریریں کرنا اور ان کی آواز کو نہ صرف حاضرین بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں عام کرنا ایک نیا فتنہ بن چکا ہے۔ یہ عمل نہ صرف شریعت کے واضح احکامات سے متصادم ہے بلکہ اسلامی معاشرے کی حیا اور وقار پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
شریعت کا اصول واضح ہے کہ عورت کی آواز بھی پردے کے زمرے میں آتی ہے۔ ایسی آواز جو نامحرموں کے لیے باعثِ کشش ہو یا جس سے فتنے کا اندیشہ ہو، اس کا ابلاغ حرام ہے۔
اگر دینی ضروریات کے تحت خواتین تقاریر کرنا چاہے تو یہ صرف ایسی جگہ پر ہونا چاہیے جہاں غیر محرم ان کی آواز نہ سن سکیں۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب فرضی کے اصول کی سخت پاسداری کی جائے اور خواتین کی آواز صرف خواتین تک محدود ہو۔ ورنہ اس طرح کا عمل ناجائز اور شریعت کے خلاف ہے۔
مزید برآں، جلسوں میں خواتین کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلانا ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ یہ نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر فتنہ کا باعث ہے۔ علماءِ کرام اور معاشرتی ذمہ داروں کا فرض ہے کہ وہ اس فتنے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہیں چاہیے کہ دین کے ان احکامات کو عام کریں جو حیا، عفت اور اسلامی اقدار کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ ہمارے معاشرے کو ایسے نقصان کی طرف لے جائےگا جس کی تلافی ممکن نہ ہوگی۔
اسلام کا پیغام واضح ہے: حیا ایمان کا حصہ ہے، اور جس معاشرے سے حیا رخصت ہو جائے، وہ زوال کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ علمائے کرام پر لازم ہے کہ وہ اس معاملے کو صرف بحث تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے امت کی رہنمائی کریں اور اس فتنے کے خاتمے کی کوشش کریں۔
