دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

نوجوان اور سوشل میڈیا— فوائد و نقصانات

نوجوان اور سوشل میڈیا— فوائد و نقصانات
عنوان: نوجوان اور سوشل میڈیا— فوائد و نقصانات
تحریر: محمد توصیف رضا عطاری
پیش کش: بزم ضیاے سخن، اتر دیناج پور، بنگال

ہم جس دور میں زندگی گزار رہے ہیں، وہ انٹرنیٹ، ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور کہلاتا ہے۔ ماضی میں جو کام مہینوں یا ہفتوں میں انجام پاتا تھا، آج وہ چند لمحوں میں ممکن ہو جاتا ہے۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک ’’عالمی گاؤں‘‘ بنا دیا ہے، جہاں فاصلے سمٹ گئے ہیں اور رابطے آسان ہو گئے ہیں۔ بلاشبہ سوشل میڈیا نے انسان کو بے شمار سہولتیں اور مواقع فراہم کیے ہیں۔

لیکن دوسری جانب ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہی سوشل میڈیا آج ایک بڑی تعداد، خصوصاً نوجوان نسل کے لیے تباہی کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے فضول مصروفیات میں کھو چکے ہیں۔ قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے، ذہنی سکون چھن رہا ہے، اور ان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ — وقت بے معنویت کی نذر ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا کی حقیقت

سوشل میڈیا حقیقت میں دو دھاری تلوار ہے۔ اگر سوشل میڈیا کو خیر و نیکی کے کاموں میں بروئے کار لایا جائے تو یہ یقیناً ایک عظیم نعمت ہے۔ لیکن اگر اس کے ذریعے فضول اور گناہ کے کاموں میں مشغولیت اختیار کی جائے تو ذلت کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس کے ذریعے دینی و دنیاوی مفید کاموں میں مشغول ہوں۔ برائی اور فضول کاموں سے بچیں۔

سوشل میڈیا کے فوائد

سوشل میڈیا کا استعمال اگر مثبت پہلو کے ساتھ کیا جائے تو اس سے بہت سارے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ذیل میں کچھ موثر فوائد درج ہیں:

  1. دعوتِ دین کا مؤثر ذریعہ: آج سوشل میڈیا تبلیغِ دین کا سب سے طاقت ور ذریعہ بن چکا ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے قرآن و حدیث کی تعلیمات، اولیائے کرام کے اقوال اور علمائے اہلِ سنت کے بیانات عام لوگوں تک آسانی سے پہنچائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر: دعوتِ اسلامی کے پیجز، مدنی چینل اور دیگر پلیٹ فارمز۔
  2. نیکی کی دعوت عام کرنا: جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

    وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ [فصلت:33]

    ترجمۂ کنز الایمان: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔

    سوشل میڈیا کے ذریعے لوگ نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔

  3. علمِ دین کی آسان ترسیل: پہلے علم حاصل کرنے کے لیے کتابوں اور سفر کی ضرورت ہوتی تھی، مگر اب علما و مشائخ کے بیانات، فقہی دروس، اور آن لائن کورسز کے ذریعے عام مسلمان گھر بیٹھے علم حاصل کر سکتا ہے۔
  4. دینی بیداری اور دفاعِ عقیدہ: مختلف غلط نظریات اور گمراہ فرقوں کے مقابلے میں علمائے اہلِ سنت کے سوشل میڈیا کے ذریعے صحیح عقائد کی وضاحت کر کے عوام کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
  5. وقت کا بچت اور پیغام کی تیزی: اگر صحیح نیت سے استعمال کیا جائے تو یہ دین کے پیغام کو لمحوں میں دنیا بھر تک پہنچا دیتا ہے۔ یعنی: نیکی کا پیغام بغیر رکاوٹ عام ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا کے نقصانات

اور اگر سوشل میڈیا کا استعمال درست نہ ہو تو معاشرے میں بہت ساری خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ذیل میں کچھ نقصانات ذکر کیے جاتے ہیں:

  1. وقت کا ضیاع: سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اس میں اتنا مشغول ہو جاتا ہے کہ نماز، تلاوت، ذکر و اذکار اور مطالعۂ علم سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔
  2. گناہوں اور فتنوں کا پھیلاؤ: ناجائز تصاویر، ویڈیوز، اور بے حیائی والے مناظر عام ہو چکے ہیں۔ یہ چیزیں نظر، دل اور ایمان سب کو کمزور کر دیتی ہیں۔ حالانکہ ہمارا رب تو ہمیں حیا اور نیچی نگاہ رکھنے کا درس دیتا ہے:

    قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ [النور:30]

    ترجمۂ کنز الایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔

  3. غیبت، بہتان اور فضول باتوں کا عام ہونا: لوگ دوسروں کی تصاویر، حرکات یا غلطیوں پر تبصرے کر کے غیبت اور بہتان کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب کبیرہ گناہ میں سے ہے۔
  4. دکھاوا اور شہرت کی خواہش: بہت سے لوگ نیکی بھی صرف لائک اور فالوورز کے لیے کرتے ہیں، حالانکہ ریاکاری عمل کو ضائع کر دیتی ہے۔
  5. ذہنی و روحانی کمزوری: سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے انسان ذہنی دباؤ، حسد، بے چینی اور وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دل کی طمانینت اور روح کی لطافت ختم ہونے لگتی ہے۔
  6. خاندانی تعلقات میں کمزوری: سوشل میڈیا نے گھروں سے محبت، گفتگو اور قربت ختم کر دی ہے۔ سب اپنے اپنے فون میں مگن رہتے ہیں، جس سے گھر کی روحانیت ماند پڑ جاتی ہے۔
  7. دینی بے حسی اور دین سے غفلت: جب نوجوان ہر وقت فیس بک، انسٹاگرام یا یوٹیوب میں مگن رہتے ہیں تو مدارس، مساجد، اور دین کی خدمت سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ خاموش زہر ہے جو ملت کے مستقبل کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا کے مثبت پہلو

لیکن ایک بات مسلم ہے کہ سوشل میڈیا کے بہت سارے فوائد ہیں۔ اسی وجہ سے نوجوان اگر سوشل میڈیا کو درست سمت میں استعمال کریں تو یہ ان کے لیے ترقی اور اصلاح کا ایک سنہرا موقع بن سکتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ دین و دنیا کا علم حاصل کر سکتے ہیں، اچھے لوگوں اور نیک صحبت سے جڑ سکتے ہیں۔ علمائے اہل سنت کے بیانات سن کر اپنے عقائد و اعمال درست کر سکتے ہیں۔ نیکی کی دعوت، دینی پیغامات اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی میدان میں جدید معلومات اور تحقیقات تک آسان رسائی حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں۔ یوں سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے فکری، دینی اور تعلیمی ترقی کا ایک قیمتی ذریعہ بن سکتا ہے۔

غرض کہ نوجوانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اگر اس دور کو سوشل میڈیا کے فتنوں میں گنوادیا جائے تو یہ خسارے کا سودا ہے۔ لیکن اگر یہی وقت دین و علم کی خدمت میں لگایا جائے تو یہی سوشل میڈیا آخرت کی کامیابی کا زینہ بن سکتا ہے۔ اور سوشل میڈیا بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اسی لیے اگر اس کا مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو بہت سارے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر منفی طور پر استعمال کیا جائے تو دنیا و آخرت کی بربادی کا سبب بن جائے گا۔ اسی لیے ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کا مثبت انداز میں استعمال کریں اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کریں۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے فتنوں سے محفوظ رکھے، انہیں اس نعمت کو خیر و بھلائی کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے، اور دین و ملت کی خدمت کے قابل بنائے۔ آمین بجاہ سيد المرسلين صلى الله عليه وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!