| عنوان: |
آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم |
|---|---|
| تحریر: | محمد توصیف رضا عطاری |
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بے شمار انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ ہر نبی کی شان تمام انسانوں سے بلند ہے، مگر جو رفعت، عظمت اور کمال ہمارے نبی، سید الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا، وہ بے مثال ہے۔
تمام انبیاء کو جتنی خوبیاں عطا کی گئیں، وہ سب یا اس سے بھی زیادہ بدرجۂ اتم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو کامل ایمان کی شرط قرار دیا۔
محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: قرآنی معیارِ ایمان
قرآنِ پاک کی کثیر آیات میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جانِ ایمان و ذریعۂ نجات قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ محبتِ رسول کو اصلِ ایمان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ {سورۃ التوبہ: ۲۴}
ترجمۂ کنز الایمان:
’’اے حبیب! فرمائیے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور مال جو تم نے کمائے اور تجارت جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور گھر جو تمہیں پسند ہیں، یہ سب تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ پیارے ہیں تو ٹھہرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
یہ آیتِ کریمہ ہمیں متنبہ کر رہی ہے کہ اگر رشتہ دار، اولاد، مال و دولت، تجارت اور گھر بار ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جہادِ فی سبیل اللہ سے زیادہ عزیز ہوں تو ہم فاسقوں میں شمار ہوں گے۔
اسی طرح حضور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت کو کامل ایمان کی علامت قرار دیتے ہوئے فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ {صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان، حدیث: ۱۵}
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
یعنی ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ دل کی وہ کیفیت ہے جس میں محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سب محبتوں پر غالب آ جائے۔
محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انعام
جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص محبت رکھتا ہے، اسے دنیا اور آخرت دونوں میں عظیم انعام ملتا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہ زیادہ نمازیں، نہ روزے، نہ صدقات، لیکن اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ {صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب علامۃ حب اللہ، حدیث: ۶۱۷۱}
ترجمہ: تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت رکھتا ہے۔
حضور سے محبت کی علامات
محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف دعویٰ نہیں، عمل کا نام ہے۔ اس کی چند علامات یہ ہیں:
- اقوال و افعال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی کرنا، آپ کے حکم کی تعمیل اور منع کی اجتناب۔
- سنتوں پر عمل کرنا اور نفسانی خواہشات پر سنت کو ترجیح دینا۔
- بکثرت درود و سلام پڑھنا، ذکرِ رسول کرنا اور سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنا۔
- اسمِ گرامی سن کر تعظیم و انکساری کا اظہار کرنا۔
- اہلِ بیت، صحابہ کرام اور اولیاء اللہ سے محبت رکھنا۔
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے برأت و دشمنی رکھنا۔
پتا چلا کہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے کہ ہر چیز سے بڑھ کر، حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی زیادہ حضور سے محبت کی جائے اور محبوب کی ہر ادا اپنائی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمائے اور ہر حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کی توفیق دے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
زمانے بھر کی ہر ایک نعمت
انہی کے صدقے خدا نے دی ہے
گر ان کی عزت پہ حرف آیا
ہم اپنی عزت کا کیا کریں گے
