| عنوان: | صاحبِ عرسِ قاسمی علیہ الرحمہ: ایک نظر میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد حامد رضا مصباحی |
نام و نسب
صاحبِ عرسِ قاسمی کا نامِ مبارک حضرت علامہ ابو القاسم محمد اسماعیل حسن شاہ ہے۔ آپ کی ولادت ۳ محرم الحرام ۱۲۷۲ھ میں ہوئی۔ آپ کے بڑے دادا سید شاہ آل رسول احمدی رحمہ اللہ نے کنیت ”ابو القاسم“ اور لقب ”شاہ جی“ عطا فرمایا، جبکہ نانا سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم رحمہ اللہ نے نام ”اسماعیل حسن“ رکھا۔ عرفِ عام میں آپ ”حاجی میاں“ اور ”مجددِ برکاتیت“ کے نام سے مشہور ہوئے۔
آپ کا سلسلۂ نسب اڑتیسویں پشت میں سیدنا زید شہید رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، جو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے نورِ نظر اور جلیل القدر فرزند تھے۔
تعلیم و تربیت
آپ کی رسمِ بسم اللہ آپ کے بڑے دادا سید شاہ آل رسول احمدی رحمہ اللہ نے ادا فرمائی۔ ابتدائی تعلیم والدِ ماجد کے زیرِ نگرانی حاصل کی، پھر تاج الفحول مولانا عبد القادر بدایونی اور مولوی فضل اللہ فرنگی محلی جیسے جلیل القدر علماء سے اکتسابِ علم فرمایا۔ انہی کی صحبتوں میں آپ نے دینی علوم میں کمال حاصل کیا اور روحانی بالیدگی پائی۔
علمی و دینی خدمات
حضرت مجددِ برکاتیت نے تدریس، تصنیف اور تبلیغ کے میدان میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ اپنے خانقاہی مدرسے کے ذریعے طالبانِ حق کو فیض پہنچایا، اور رشد و ہدایت کے لیے دور دراز علاقوں کے سفر کیے۔
باوجود مصروفیت کے آپ نے کئی علمی و روحانی تصانیف یادگار کے طور پر چھوڑیں، جن میں مجموعہ سلاسل منظوم، رسائل اعمالِ تکسیر، رسالہ رد القضاء من الدعاء فی أعمال دفع الوبا، گلدستۂ چمنستانِ سنیت اور مفوضاتِ طیبہ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔
آپ نے خاندانِ برکاتیت کی علمی و روحانی روایات کو قائم رکھا، کتب خانے اور تبرکاتِ اسلاف کی حفاظت فرمائی، اور خاندان میں حفظِ قرآن و تلاوتِ کلامِ مجید کا شوق عام کیا۔
بیعت و خلافت
آپ نے طریقت کی تعلیم اپنے بڑے دادا سید شاہ آل رسول احمدی، سید ابو الحسین احمد نوری، والدِ ماجد، اور تاج الفحول مولانا عبد القادر بدایونی قدس سرہم سے حاصل کی۔ خلافت نانا سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم قدس سرہ سے عطا ہوئی۔ انہی کے واسطے سے آپ کا شجرۂ بیعت اڑتیسویں واسطے سے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
سجادگی و فروغِ سلسلہ برکاتیہ
والدِ ماجد خاتم الاسلاف سید شاہ محمد صادق قدس سرہ کے وصال (۲۴ شوال المکرم ۱۳۲۶ھ) کے چالیس روز بعد آپ مسندِ برکاتیت و غوثیت پر رونق افروز ہوئے۔
اگرچہ آپ کو خاندان کے تمام تیرہ سلاسل سے خلافت حاصل تھی، تاہم آپ نے سلسلہ قادریہ جدیدہ کالپیوہ کے فروغ پر زیادہ توجہ دی۔ آپ کی مساعی سے ہزاروں عشاق نے غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی غلامی میں شمولیت اختیار کی اور سلسلہ برکاتیہ کی برکات عام ہوئیں۔
عائلی زندگی
حضرت مجددِ برکاتیت شاہ ابو القاسم کا نکاح اپنی ماموں زاد بہن فاطمہ بنت سید نور المصطفیٰ بن سید غلام محی الدین امیر عالم سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو صاحبزادے (سید غلام محی الدین فقیر عالم اور تاج العلما سید آل رسول فخر عالم محمد میاں) اور چار صاحبزادیاں (زاہد فاطمہ، اعجاز فاطمہ، حمیرا اور اکرام فاطمہ) عطا فرمائیں۔
وصالِ پُرملال
حضرت مجددِ برکاتیت ابو القاسم سید شاہ محمد اسماعیل حسن قادری رحمہ اللہ کا وصال یکم صفر المظفر ۱۳۴۷ھ کو مارہرہ شریف میں ہوا۔
ابتدا میں آپ کے صاحبزادے تاج العلما سید شاہ اولادِ رسول محمد میاں قدس سرہ تاریخِ وصال ہی پر عرس کی محفل منعقد کرتے تھے، لیکن چند وجوہات کی بنا پر بعد میں اسے ۲۰ تا ۲۳ صفر المظفر منتقل کر دیا گیا، جو آپ کی پھوپھی کی تاریخِ وفات تھی۔
بعد ازاں جب یہ تاریخیں موسمِ برسات میں آنے لگیں تو عرس کی تاریخ ۲۱ تا ۲۴ جمادی الآخرۃ مقرر کر دی گئی۔
اب موسم کی راحت کا اعتبار کرتے ہوئے عرسِ قاسمی کی تقریبات الگ الگ تاریخوں میں منعقد ہوتی ہیں، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ زائرین کو زحمت کم ہوتی ہے اور محافل کے انعقاد کا مقصد احسن طریقے سے پورا ہوتا ہے۔
