| عنوان: | شادی زندگی کا ایک نیا آغاز |
|---|---|
| تحریر: | مصباح رضویہ |
| پیش کش: | نوائے قلم رضویہ اکیڈمی للبنات، مبارک پور |
انسانوں کے باہمی تعلقات میں جو تعلق سب سے خاص نوعیت اور اہمیت کا حامل ہے۔ وہ ہے ازدواجی تعلق۔ شوہر اور بیوی کا رشتہ۔ اگر یہ کہا جائے کہ زندگی کا سکون اور دلی اطمینان بڑی حد تک اس رشتے سے وابستہ ہے۔ تو غلط نہ ہو گا۔ ایک مرد اور عورت جب شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو شریعت کی رو سے اسی وقت شوہر پر بیوی اور بیوی پر شوہر کے حقوق عائد ہو جاتے ہیں۔
شادی محض چار دن کی تقریب کا نام نہیں بلکہ زندگی بھر کی ذمہ داری ہے۔ ازدواجی زندگی کو خوشحال اور پرسکون بنانے میں شوہر اور بیوی دونوں کا کردار اہم ہے۔ میاں بیوی کے حقوق و فرائض کے حوالے سے قرآن کریم میں کئی آیتیں اور حدیث شریف میں کئی تعلیمات واضح ہیں۔ شادی کے بعد مرد اور عورت دونوں اپنی ذمہ داریاں اور حقوق و فرائض پورے کریں۔ تبھی خاندان کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ اور معاشرے میں امن وسکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
شادی ایک ایسا تعلق ہے جو زوجین کو ذہنی اور جسمانی سکون بخشتا ہے۔ ان کے درمیان محبت، مودت اور شفقت کا باعث بنتا ہے۔ اور یہی محبت اور شفقت ایک گھر کی تعمیر و ترقی اور نسل کو پروان چڑھانے میں اہم ستون ثابت ہوتی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یونانی معاشرت میں خواتین تمام حقوق سے محروم تھیں۔ بازاروں اور شہروں میں ان کی کھلے عام خرید و فروخت ہوتی تھی۔ انہیں کسی چیز یہاں تک کے اپنے ذاتی معاملات میں بھی کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہ تھا۔ وہ ہر لحاظ سے مردوں کی دست نگرتھیں۔ اسلام نے اپنی عمدہ اور اعلیٰ تعلیمات میں ہر طرح کے حقوق میں عورتوں کو شریک کیا۔ اسے کسی جائز حق سے محروم نہیں رکھا۔ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔ میاں بیوی کے حقوق و فرائض متعین کئے۔
شادی کے بعد زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، اسے پُرسکون اور خوشحال بنانے میں میاں بیوی دونوں کا کردار اہم ہے، چنانچہ انہیں ایک دوسرے کا خیرخواہ، ہمدرد، سُخن فہم (یعنی بات کو سمجھنے والا)، مزاج آشنا (مزاج کو جاننے والا)، غم گسار اور دلجوئی کرنے والا ہونا چاہئے۔ کسی ایک کی سُسْتی و لاپرواہی اور نادانی گھر کا سکون برباد کرسکتی ہے۔ شوہر حاکم ہوتا ہے اور بیوی محکوم، اس کے اُلٹ کا خیال بھی کبھی دل میں نہ لائیے، لہٰذا جائز کاموں میں شوہر کی اطاعت کرنا بیوی کو شوہر کی نظروں میں عزت بھی بخشے گا اور وہ آخرت میں انعام کی بھی حقدار ہوگی۔
شوہر کے حقوق اور بیوی کی ذمےداریاں
ایک بیوی پر شوہر کے حقوق بہت سے ہیں۔ جن کا ہم تھوڑا سا تذکرہ کریں گے۔
جسمانی و طبعی حقوق
اسلام نے مرد و عورت کا فطری توازن قائم کیا۔ کسی پر بے جا ذمہ داری نہیں ڈالی۔ اور دونوں کے حقوق و فرائض کی تقسیم کی۔ ایک شوہر کے جسمانی اور طبعی حقوق پورے کرنا اس کی بیوی کا فرض ہے۔
اطاعت و محبت
بیوی کے لئے لازم ہے کہ اپنے خاوند سے محبت میں مخلص ہو۔ بیوی پر اس کے شوہر کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔ جن کی ادائیگی شکر سے وہ عاجز ہے۔ بیوی پر اپنے شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب ہے۔
شوہر کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے روک دے۔ اور قطع تعلق کرادے۔ لیکن حدیثوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر شوہر بیوی کو کسی بات سے منع کردے تو بیوی پر اس کی بات کا ماننا لازم ہے۔ یہاں بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر شوہر بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے منع کرے۔ اور بیوی اس کی اجازت کے بغیر ان سے مل لے۔ تو اس صورت میں شرعاً بیوی شوہر کی نافرمان نہیں کہلائے گی۔
شوہر کی بالاتری
اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر حاکم مقرر کیا ہے۔ شوہر کے ذمہ بیوی کا خیال رکھنا اور اس کی راہنمائی ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو کچھ جسمانی اور عقلی خصائص سے نوازا ہے۔ اور اس پر کچھ مالی امور بھی واجب کئے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
الرِّجَالُ قَوّٰمُونَ عَلَى النِّسَاءِ {النساء : 34}
ترجمہ کنز الایمان؛ مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔
شوہر کے احکامات کی اطاعت بیوی پر واجب ہے، لیکن یہ اطاعت حدود میں ہونی چاہیے۔ اگر شوہر کوئی ایسا حکم دے جو شریعت کے خلاف ہو، تو بیوی اس کی اطاعت کرنے کی پابند نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، اگر شوہر بیوی کو زکوٰۃ ادا کرنے سے روکے، جو کہ ایک مذہبی فریضہ ہے، تو بیوی اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گی۔
مزید یہ کہ، شوہر کے احکامات کی اطاعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیوی اپنی ذاتی رائے یا فیصلے سے دستبردار ہو جائے۔ بلکہ، یہ ایک باہمی احترام اور سمجھ بوجھ پر مبنی رشتہ ہونا چاہیے، جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔ شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کے ساتھ مشورہ کرے اور اس کی رائے کو بھی اہمیت دے، اور بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کے احکامات کو غور سے سنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔
امانت کی حفاظت
شوہر کا مکان، سامان، مال و متاع سب شوہر کی امانت ہیں۔ اور بیوی ان کی امین ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک بیوی اپنے خاوند کے اعتماد، عزت و عصمت اور اولاد کی محافظ بھی ہوتی ہے۔ اگر عورت جان بوجھ کر خاوند کا کوئی نقصان کرے تو اس کا مطلب اس نے خیانت کی۔
عورت کا سجنا سنورنا
بیوی کو اپنے شوہر کے لئے سجنا سنورنا اور اچھے لباس پہننے چاہیے۔ شریعت میں بیوی کو بننے سنورنے کا حکم تو اپنے شوہر کے لئے ہی ہے۔ بیوی اپنے شوہر کے لئے سجے گی اور اس کے علاوہ بیوی اپنے محرم رشتے داروں کے لئے بھی بن سنور سکتی ہے۔
شریعت کی رو سے پتہ چلتا ہے کہ بیوی کو اپنے شوہر کے لئے ہر وقت بن سنور کر رہنا چاہئے، اور خاص طور پر اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار اس وقت کرنا چاہیے جب شوہر کسی جگہ سے واپس آئے۔ مثلاً بیرون ملک سے، اپنے آفس سے، جب بھی شوہر گھر سے باہر ہو اور جب واپس آئے تو عورت کو بہت ہی پیار بھرے، مشفقانہ اور والہانہ انداز میں استقبال کرنا چاہیے، اچھا لباس پہن کر، بناؤ سنگھار، میک اپ کر کے، خوشبو لگا کر اچھی طرح بن سنور کر اپنے شوہر کا استقبال کرے تاکہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو۔
جب بیوی ایسا کرے گی تو شوہر اس سے ہمیشہ خوش رہے گا اور کسی دوسری عورت کی طرف مائل نہیں ہو گا، اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو پھر دونوں کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں، فتنہ فساد ہوتا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں عورت جب باہر جانے لگتی ہے تو خوب بناؤ سنگھار کرتی ہے، میک اپ کرتی ہے، اور گھر کے اندر شوہر کے سامنے صحیح لباس بھی نہیں پہنتی ہیں جو کہ حرام ہے، شریعت نے عورت کو اپنے خاوند کے لئے سجنے سنورنے کی اجازت دی ہے، دوسروں کے لئے نہیں۔ مگر اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہمارے معاشرے کی خواتین اس کے برعکس چل رہی ہیں جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر عورت اور مرد کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اپنے عملوں کو اس طرح ڈھالیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں۔ اس دنیا کے عارضی سامانوں کی بجائے اس بات پر نظر رکھنے والے ہوں کہ ہم نے اپنے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
