| عنوان: | ختنہ کرنا بچوں پر ظلم! |
|---|---|
| تحریر: | احمد رضا عطاری مدنی ، تخصص فی الدعوۃ،جامعۃ المدینہ، ناگپور |
بچوں پر ختنہ کرنا ایک ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سن ۲۰۲۳ء میں ریاستِ کیرالا کے ہائی کورٹ میں ایک درخواست (PIL) دائر کی گئی جس میں یہ اعتراضات کیے گئے۔ اسی الزام کے ردّ میں یہ تحریر قلم بند کی گئی ہے تاکہ ختنہ کے بارے میں پھیلائے جانے والے شبہات، اعتراضات اور غلط تصورات کا علمی و تحقیقی انداز میں ازالہ کیا جا سکے۔
اس مضمون کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ختنہ نہ صرف شعارِ اسلام اور سنتِ انبیاء علیہم السلام ہے بلکہ یہ انسانی فطرت، جسمانی طہارت اور طبی ضرورت بھی ہے۔
یہ مضمون ختنہ کے بارے میں ہونے والے اعتراضات کے خلاف ایک علمی، دینی اور سائنسی دفاع کے طور پر تیار کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں جب بھی اس موضوع پر کوئی قانونی یا سماجی اعتراض سامنے آئے تو اس کا درست اور مستند جواب پیش کیا جا سکے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
Circumcision is a surgery to remove the skin that covers the tip of the penis.
ختنہ: اس چمڑے کا کاٹنا جو عضوِ تناسل کے حشفہ کو ڈھانپے ہوئے ہو۔
اسلامی نظریہ: ختنہ یہ شعارِ اسلام میں سے ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم اور غیر مسلم میں یہ بھی ایک فرق ہوتا ہے کہ ہر مسلمان ختنہ کرواتا ہے اور غیر مسلم اس کا اہتمام نہیں کرتے، اسی وجہ سے ختنہ کو مسلمانی بھی کہا جاتا ہے۔ [بہار شریعت]
حدیث:
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں فطری ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف بالوں کا مونڈنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھوں کا کتروانا۔ [بخاری: ۵۸۸۹]
- ختنہ کرنا بہت بہترین اور فائدہ مند عمل ہے، اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شروع فرمایا اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں ختنہ شدہ تشریف لائے۔
- آج بھی پورے عالم میں اس پر عمل ہوتا ہے اور ہر مسلمان دنیا بھر میں ختنہ کرواتا ہے۔
- ختنہ میں بدنی ستھرائی و پاکی کے ساتھ ساتھ طبی (Medical) فوائد بھی موجود ہیں جسے ہم آگے ذکر کریں گے ان شاء اللہ۔
ختنہ پر کیے جانے والے چند اعتراضات
- ختنہ کرنا بچوں پر ایک ظلم ہے اور بچے کو تکلیف پہنچانا ہے۔
- انسان جیسا پیدا ہوا ویسے ہی رکھنا چاہیے، اسے کاٹنے چھانٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔
- مسلمانوں میں ختنہ ضروری کیوں؟
پہلے اعتراض کا جواب:
بچوں میں سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے سارے کام ان کے والدین انجام دیتے ہیں۔ اس میں بچوں کو کھلانا پلانا، ان کی دیکھ بھال کرنا، ٹھنڈی میں گرم کپڑے پہنانا، نہلانا، دھلانا، ساری چیزیں ان کے والدین کرتے ہیں اور کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو بچوں کو ناپسند ہوتی ہیں یا مختصر وقت کے لیے تکلیف دہ بھی ہوتی ہیں، مثلاً کڑوی دوا پینا، زیادہ چاکلیٹ، چپس وغیرہ سے منع کرنا، لیکن بعد میں وہ چیز بچوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کے کان میں چھید کرنا، اس میں تکلیف تو ہوتی ہے لیکن یہی بعد میں زینت کا سبب بنتی ہے۔
اور یہ کام ہر مذہب بلکہ کئی ممالک کے لوگ اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں جبکہ کان میں چھید کرنے سے کافی تکلیف ہوتی ہے۔
اسی طرح مسلمانوں میں بچے کا ختنہ کرنا ان کے جسمانی بیماریوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے جس کی وضاحت آگے آنے والی ہے۔
دوسرے اعتراض کا جواب:
انسان جس طرح پیدا ہوتا ہے اسی طرح مرتا نہیں ہے بلکہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اس کے جسم میں کئی طرح کی تبدیلیاں ہوتی ہیں، کچھ خود سے تو کچھ ضرورتاً کروائی جاتی ہیں۔
مثلاً بچہ پیدائش سے پہلے یعنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اس وقت اس کی غذائی سہولیت کے لیے اس کی نابی میں ایک نلی (umbilical cord) جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ پیدائش کے بعد اسے کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے۔
اسی طرح کئی لوگ بیماری سے بچنے کے لیے خصوصی طور پر (appendix) کو کاٹ کر نکلوا لیتے ہیں۔
کئی بار بیماری کے سبب خراب ہونے والے اعضاء کو بھی جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے۔
الغرض بیماری ہو جانے کے بعد ضرورتاً یا بیماری سے بچنے کے لیے پہلے ہی انسانی جسم کے اعضاء کو الگ کیا جاتا ہے اور یہ کسی مذہب یا کسی ملک کی خاصیت نہیں بلکہ ہر جگہ عام ہے۔ اسی طرح ختنہ بھی ہے کہ عضوِ تناسل کی وہ زائد چمڑی جو ماں کے پیٹ میں عضو کی حفاظت کرتی ہے، اسے بعد میں کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے تاکہ اب اس کے ذریعے سے کوئی گندگی یا بیماری اور دشواری پیدا نہ ہو۔
تیسرے اعتراض کا جواب:
ختنہ ایک ایسا عمل ہے جسے مسلمانوں میں سنت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم فرمایا اور مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تکمیل کرے اور اس کی پابندی کرے۔
مزید یہ کہ اسلام ایک پاکیزہ اور ستھرا مذہب ہے اور صفائی ستھرائی کی ترغیب اسلام میں بار بار دلائی جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے : ”الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ“ یعنی پاکی ایمان کا نصف ہے۔
اب اگر ختنہ نہ کیا جائے تو اس کی وجہ سے زائد چمڑے میں پیشاب، منی، مذی اور اس طرح کی نجاستوں کے جمع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور وہ گندگی کئی طرح کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
ختنہ کے طبی فوائد (Medical benefits of circumcision)
ختنہ کے کئی سارے طبی فوائد ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر میں اس عمل کو نہ صرف مذہبی بلکہ طبی وجوہات کی بنا پر بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ختنہ کے چند طبی فوائد ذکر کرتے ہیں:
- حفظِ صحت
- ختنہ کی وجہ سے شرمگاہ کے ارد گرد کی جلد صاف اور خشک رہتی ہے جس سے بیکٹیریا اور جراثیم کی افزائش میں کمی آتی ہے اور صفائی برقرار رکھنا آسان ہوتا ہے۔
- وہاں میل یا بیکٹیریا جمع نہیں ہوتے۔
- پیشاب کے بعد باقی رہ جانے والا مواد آسانی سے صاف ہو جاتا ہے۔
نتیجہ: انفیکشن، بدبو اور جراثیم سے بچاؤ ہوتا ہے۔
- UTI (Urinary Tract Infection)
یعنی پیشاب کی نالی کے انفیکشن سے حفاظت ہوتی ہے۔ چھوٹے بچوں میں ختنہ نہ ہونے کی وجہ سے پیشاب کی نالی میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ختنہ ہونے والے بچوں میں یہ خطرہ تقریباً ۱۰ گنا کم ہوتا ہے۔
- Penile Cancer
خطرہ کے ذریعے شرمگاہ کے کینسر جیسے بڑی بیماریوں سے حفاظت ہوتی ہے اور ختنہ شدہ مرد جلدی بیماریوں سے محفوظ ہوتے ہیں۔
- STD (Sexually Transmitted Disease)
یعنی جنسی تعلقات سے پھیلنے والی بیماریاں۔ یہ امراض غیر ختنہ شدہ لوگوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ ختنہ نہ ہونے کے سبب شرمگاہ کے ارد گرد موجود اضافی جلد میں بیکٹیریا، جراثیم اور مختلف مائیکرو آرگنزم کی نشوونما اور ان کی افزائش ہوتی ہے جن کا جنسی ملاپ کے وقت اپنے ساتھی کے اندر منتقل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ختنہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
- Cervical Cancer
یعنی عورت کے رحم میں ہونے والا کینسر جو کہ مرد اور عورت کے ملاپ کے دوران جراثیم کے داخل ہو جانے کے سبب ہوتا ہے۔ ختنہ شدہ مردوں کی شریکِ حیات میں گردنِ رحم کا کینسر (Cervical Cancer) ہونے کا خطرہ بھی کم پایا گیا ہے۔
ہم نے یہاں محض چند طبی فوائد شمار کیے ہیں، اس کے علاوہ بھی ختنہ کے کئی فوائد موجود ہیں۔ بلکہ اس بات کا میں خود گواہ ہوں کہ میرے ایک دوست جو کہ علمِ طب کے طالب علم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کئی غیر مسلم ڈاکٹرز غیر مسلموں کو بھی شرمگاہ کے کینسر سے حفاظت کے لیے بڑی عمر ہو جانے کے باوجود ختنہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ختنہ کے متعلق کی گئی اہم تحقیقات
- Studies Show Adult Male Circumcision Reduces Acquisition of HIV (Johns Hopkins Bloomberg School of Public Health)
اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مردانہ ختنہ سے ہٹروسیکسول تعلقات کے ذریعے Human Immunodeficiency Virus (HIV) کے حصول کا خطرہ تقریباً نصف تک کم ہوتا ہے۔
- Male Circumcision Prevents HPV Infections in Female Partners (Johns Hopkins Bloomberg School of Public Health)
اس مطالعے نے یہ دکھایا کہ جن مردوں نے ختنہ کروایا ہوا تھا، ان کی خواتین شراکت داروں میں Human Papilloma Virus (HPV) کا انفیکشن کم پایا گیا۔ تحقیق میں خاص طور پر یہ پایا گیا کہ مردانہ ختنہ نہ صرف مردوں کو بلکہ ان کی خواتین شراکت داروں کو بھی کچھ حوالوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
- Medical male circumcision has health benefits for women (Johns Hopkins University)
اس میں تقریباً ۶۰ شائع شدہ اسٹڈیز کا جائزہ لیا گیا ہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ مردانہ ختنہ خواتین کی صحت کے حوالے سے بھی فوائد فراہم کرتا ہے — مثلاً گردنِ رحم کے سرطان، دیگر جنسی راستے سے منتقل ہونے والے انفیکشنز کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
۵ جمادی الاولیٰ، ۱۴۴۷ھ، ۲۶ اکتوبر، ۲۰۲۵ء
